سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں ’توہین آمیز حرکت‘ کے الزام میں ایک شخص قتل

انڈیا کے شہر امرتسر کی پولیس کا کہنا ہے کہ سکھوں کے ایک مقدس مقام پر ایک شخص کو ’توہین آمیز حرکت‘ کے الزام میں وہاں موجود لوگوں نے تشدد کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی شام امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے اندر عبادت کے دوران پیش آیا۔ ایک شخص گولڈن ٹیمپل میں اس مقام میں داخل ہوا جہاں سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب رکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس شخص نے کتاب کے ساتھ موجود رسمی تلوار کو چھونے کی کوشش کی مگر اسے سکیورٹی گارڈز اور وہاں موجود دیگر افراد نے روک لیا۔

مقامی وقت کے مطابق یہ واقع شام پانچ بج کر 45 منٹ پر ہوا۔ اسے کیمرے کی ریکارڈنگ میں دیکھا جا سکتا ہے جو شام کی عبادت کو ٹی وی پر نشر کر رہے تھے۔

یہ غیر واضح ہے کہ بعد میں کیا ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب ان کے اہلکار وہاں پہنچے تو یہ شخص مردہ حالت میں تھا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایک ٹویٹ میں ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ’اس ظالمانہ حرکت کا مقصد اور اس کے پیچھے اصل سازشی عناصر کا پتا لگایا جائے۔‘

اس واقعے سے چند روز قبل ایک شخص نے مبینہ طور پر سکھوں کی چھوٹی مقدس کتاب گٹکا صاحب کو گولڈن ٹیمپل میں بنائے گئے تالاب میں پھینک دیا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

سکھ برادری اپنی عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رکھنے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ مگر پنجاب میں یہ ایک سیاسی مسئلہ بھی ہے جہاں آئندہ سال قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

چنی اور کانگریس جماعت پر ان کے سیاسی حریفوں نے الزام لگایا ہے کہ انھوں نے خطے میں مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔

اپوزیشن کی جماعت اکالی دل کے ایم پی بلوندر بھندر نے سنیچر کے واقعے کی مذمت کی ہے۔

مقامی نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے ذریعے جان بوجھ کر پنجاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی جو انڈیا کا مضبوط ہاتھ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے یہاں گذشتہ پانچ برسوں سے اسے سیاسی کھیل بنا دیا ہے۔