انڈیا میں بے روزگاری کی سنگین صورتحال: ڈگری یافتہ نوجوان معمولی نوکریاں کرنے پر مجبور

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

گزشتہ ہفتے انڈیا میں قانون کی ڈگری رکھنے والے ایک نوجوان نے ڈرائیور کی نوکری کے لیے درخواست دی تھی۔ جتندر موریا ان دس ہزار بے روز گار نوجوانوں میں شامل تھے جو انڈین ریاست مدھیا پردیش میں معمولی نوعیت کی 15 خالی سرکاری آسامیوں کے لیے انٹرویو دینے آئے تھے۔

ان میں سے اکثریت کی تعلیم ان آسامیوں کی شرائط سے کہیں زیادہ تھی اور ایک رپورٹ کے مطابق ان میں پوسٹ گریجویٹس، انجینئیر، ایم بی اے اور موریا جیسے افراد بھی شامل تھے جو جج بننے کے لیے قانون کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔

موریا نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ ’حالت یہ ہے کہ کبھی کبھار کتابیں خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے اس لیے سوچا کیوں نہ یہاں کچھ کام کر لوں۔‘

موریا کی حالت انڈیا میں شدید بے روز گاری کی صورتحال اور بحران کی عکاسی کرتی ہے۔

کووڈ کی عالمی وبا نے ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جو ابھی تک طویل لاک ڈاؤن کے منفی اثرات سے باہر نہیں نکل پائی۔

معیشت کی بہتری کے اشارے مل تو رہے ہیں اور اس کی وجہ کافی مہینوں سے رکی ہوئی مانگ میں اضافہ اور حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات ہیں لیکن ملک سے روزگار کے مواقع غائب ہو گئے ہیں۔

ایک آزاد تھنک ٹینک ’سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی‘ (سی آئی ایم آئی) کے مطابق انڈیا کی بے روز گاری کی شرح دسمبر میں آٹھ فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ سنہ 2020 کے مقابلے میں سات فیصد اور سنہ 2021 کے تمام مہینوں سے بھی زیادہ رہی۔

عالمی بینک کے سابق چیف اکاونومسٹ کوشک باسو نے بتایا کہ انڈیا کی تاریخ میں بے روزگاری کی شرح کبھی اتنی زیادہ نہیں رہی خاص طور پر گزشتہ تین دہائیوں میں بشمول 1991 کے جب انڈیا کی معیشت کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اس کے پاس درآمدات کے لیے زرمبادلہ نہیں رہا تھا۔

دنیا کے بہت سے ممالک کو سنہ 2020 میں بے روزگاری کا سامنا ہے لیکن انڈیا میں یہ شرح بہت سی ترقی پذیر معیشتوں سے کہیں زیادہ ہے۔

پروفیسر باسو نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں یہ شرح پانچ اعشاریہ تین فیصد، میکسیکو میں چار اعشاریہ سات فیصد اور ویتنام میں دو اعشاریہ تین فیصد ہے۔

سی ایم آئی ای کے مطابق تنخواہ دار ملازمتوں میں کمی ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سی نجی کمپنیوں اور اداروں نے عالمی وبا کے دوران اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے نوکریوں میں کٹوتیاں کی ہیں۔

عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 15 سے 23 سال کے نوجوان سنہ 2020 میں لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ماہر معیشت امت بھوسلے نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس ماہانہ تنخواہ کی ملازمتیں تھیں ان میں سے نصف اپنی نوکریاں برقرار نہیں رکھ سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوکریوں میں شدید کمی کی وجہ صرف عالمی وبا نہیں۔

پروفیسر باسو کا کہنا ہے کہ انڈیا میں جو صورتحال دیکھنے میں آئی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پالیسی سازی میں چھوٹے کاروبار اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کا خیال نہیں رکھا گیا۔

یہ مایوس کن اعداد و شمار انڈیا میں بے روز گاری کی اصل تصویر پیش نہیں کرتے۔ کام کرنے کی عمر کے لوگوں میں نوکریوں کے متلاشی افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انڈیا میں کام کرنے والوں میں 15 سال اور اس سے بڑی عمر کی خواتین کا تناسب دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔

انڈیا میں بے روزگاری کی شرح سے مراد صرف وہ تعلیم یافتہ نوجوان ہوتے ہیں جو رسمی شعبے میں نوکریاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ غیر رسمی شعبوں میں نوے فیصد لوگ کام کرتے ہیں اور معاشی پیداوار یا آمدن کا نصف سے زیادہ حصہ اسی شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔

مزدوروں کی معیشت کی ماہر رادھیکا کپور کہتی ہیں کہ ’بے روزگاری ایک ایسی آسائش ہے جس کے مزے صرف تعلیم یافتہ خوشحال لوگ ہی لوٹ سکتے ہیں۔ غریب، غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند افراد یہ برداشت نہیں کر سکتے۔‘

کوئی جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہو گا اس کے بے روزگار رہنے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہو گا اور وہ غیر رسمی شعبوں میں کم تنخواہ پر کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ دوسری طرف ایک غریب جس کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہو گی وہ جو کام بھی ملے گا اس کو کرنے کو تیار ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

لہذا بے روزگاری کی شرح ملکی معیشت میں مزدوروں کی کھپت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتی۔ انڈیا میں کام کرنے والوں کی مجموعی تعداد کا ایک تہائی حصہ یا تو خود کوئی کام کرنے والوں یا پھر عارضی طور پر کام کرنے والوں کا ہے جن کو سرکار سے کوئی مدد نہیں ملتی۔

ملک کی مجموعی افرادی قوت میں ایسے برسر روزگار افراد کی شرح صرف دو فیصد ہے جن کو سوشل سکیورٹی کی مراعات حاصل ہیں۔ ان مراعات میں ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن، صحت اور زچگی کے اخراجات کے علاوہ تین سال سے زیادہ نوکری کا دستاویزی کانٹریکٹ شامل ہے۔

ڈاکٹر کپور کا کہنا ہے کہ انڈیا کی افرادی قوت کی اکثریت معاشی طور پر غیر محفوظ اور بہت مشکل سے گزارا کرتی ہے۔ ان کی آمدن بہت کم ہے۔

ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ تنخواہ دار طبقے کا 45 فیصد صرف 9750 روپے ماہانہ آمدن پر گزارا کرتا ہے جو 130 ڈالر یا 96 پاونڈ بنتا ہے۔ یہ 375 روپے یومیہ اجرت سے بھی کم ہے جسے سنہ 2019 میں بنیادی تنخواہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن بعد میں یہ تجویز واپس لے لی گئی۔

انڈیا میں اونچی شرح نمو کے باوجود بڑے پیمانے پر بے روزگاری کی ایک وجہ ملک کی معیشت کی زرعی شعبے سے سروس کے شعبے کی طرف منتقلی ہے۔ دنیا بھر میں انڈیا جتنے بڑے کسی بھی ملک میں شرح نمو پیداواری شعبے کے بجائے سروس کے شعبے سے نہیں بڑھی۔

انڈیا کی معاشی ترقی میں اعلیٰ درجے کی خدمات جیسے سافٹ ویئر اور مالیاتی شعبے کا بڑا حصہ ہے جس کے لیے انتہائی ہنر مند افراد درکار ہوتے ہیں۔ صنعتی شعبے یا فیکٹری میں بہت کم ملازمتیں ہیں جو غیر ہنر مند یا کم ہنر مند کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔

پروفیسر باسو کا کہنا ہے کہ انڈیا میں بے روزگاری کی صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ ملک کی ترقی کے دوبارہ شروع ہونے کے باوجود، نچلا طبقہ دیگر ممالک کے مقابلے کم تر کام کر رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے، روزگار پیدا کرنے اور کارکنوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں ’تقسیم اور نفرت کی سیاست عدم استحکام اور بداعتمادی کا باعث بنی رہی ہے، جو کہ معاشی ترقی کے لیے سب سے نقصان دہ ہے۔‘

نریندر مودی جنھوں نے سنہ 2014 میں روزگار کے وسیع مواقوں کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار سنبھالا تھا، کلیدی صنعتوں کو مالی مراعات کی پیشکش کر رہے ہیں اور مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک پرجوش ’میک ان انڈیا‘ مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کوئی بھی اقدام اب تک پیداوار اور نوکریوں میں تیزی کا باعث نہیں بنا، جس کی ایک وجہ طلب میں کمی ہے۔

ڈاکٹر بھوسلے جیسے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قلیل المدت اقدام کے طور پر انڈیا کو شہروں میں رہنے والے اور اپنی زندگیوں میں ذرائع معاش کی جدوجہد کرنے والے 20 فیصد طبقے کے لیے فوری طور پر روزگار کے یقینی مواقع فراہم کرنے کے منصوبے یا ان خاندانوں کی نقد رقوم کی منتقلی کے ذریعے مالی مدد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس مشکل دور میں اس طرح کے منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں۔

طویل المدت اقدام کے تحت انڈیا کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ سب کام کرنے والے افراد کی کم از کم ماہانا اجرت مقرر ہو اور انھیں سوشل سکیورٹی کی سہولیات میسر ہو۔

ڈاکٹر کپور کہتے ہیں کہ ’اس وقت تک ہم ملازمتوں میں کوئی بامعنی اصلاحات نہیں کر سکتے ہیں۔‘