آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
معیشت پر انڈیا اور بنگلہ دیش کے دعوؤں میں کتنی صداقت ہے؟
- مصنف, بی بی سی
- عہدہ, ریئلٹی چیک
انڈیا میں شہریت کے نئے قانون نے، جس کی وجہ سے شہریت حاصل کرنے کے حقوق محدود کیے گئے ہیں، جہاں ایک طرف ملک کے اندر مختلف طبقوں کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی تو وہیں اس سے انڈیا اور اس کے مشرقی ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کے درمیان ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔
انڈیا کے وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ اگر انڈیا نے ہر کسی کو شہریت حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر اپنے ملک آنے کی اجازت دی تو بنگلہ دیش کی آبادی نصف رہ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
لیکن بنگلہ دیش کی حکومت نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ کوئی انڈیا جانا کیوں چاہے گا جب بنگلہ دیش انڈیا سے معاشی اعتبار سے زیادہ خوشحال ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش اتنا غریب ملک نہیں کہ لوگ انڈیا چلے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو کیا ہم اس بات کا اندازا لگا سکتے ہیں کہ کتنے بنگلہ دیشی انڈیا میں رہائش پذیر ہیں، اور معاشی لحاظ سے دونوں ملکوں کا موازنہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
انڈیا میں کتنے بنگلہ دیشی غیر قانونی طور پر موجود ہیں؟
انڈیا میں داخل ہونے والے بنگلہ دیشیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں ابہام ہے اور اس سے متعلق ایک تنازعہ بھی موجود ہے۔
سنہ 2004 میں اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلی امور شری پرکاش جیسوال نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ انڈیا میں ایک کروڑ 20 لاکھ بنگلہ دیشی موجود ہیں۔
تاہم بعد میں جب مغربی بنگال اور آسام کی حکومتوں نے ان پر تنقید کی تو انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اکثر غیر قانونی تارکین وطن وہاں آباد ہیں۔
سنہ 2016 میں اس وقت کے وزیر داخلہ کرن ریجیجو نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ: ’دستیاب معلومات کے مطابق انڈیا میں تقریباً دو کروڑ غیر قانونی تارکین وطن رہتے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے ان اعداد و شمار کے ذرائع نہیں بتائے۔ اس کے بعد سے حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس انڈیا میں موجود غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق درست اعداد و شمار نہیں ہیں۔
شہریت پر سنہ 2015 سے 2019 کی ڈیٹا میں اس سے متعلق روشنی نہیں ڈالی گئی۔
درست اعداد و شمار نہ ہونے کے باوجود انڈیا میں سیاستدان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش سے آئے غیر قانونی تارکین وطن ان کی نوکریاں چھین رہے ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ: ’وہ اناج کھا رہے ہیں جو غریبوں کو دیا جانا چاہیے۔‘
بنگلہ دیش کی معیشت کیسی ہے؟
اگر ملک کی مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بنگلہ دیش آگے ہے۔
لیکن ہمیشہ سے ایسا نہیں رہا ہے۔
سنہ 1971 میں اپنے قیام کے فوراً بعد بنگلہ دیش کی مجموعی پیداوار منفی تھی لیکن آنے والے برسوں میں یہ بہتر ہوگئی تھی۔
گذشتہ دہائی کے دوران بنگلہ دیش کی مجموعی پیداوار میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گذشتہ سال ستمبر میں جاری ہونے والی ایشین ڈیویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش نے جنوبی ایشیا میں سب سے تیز ترقی کرنے والا ملک بن کر انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
سنہ 2019 میں بنگلہ دیش کی ترقی کی متوقع شرح آٹھ فیصد تھی جبکہ انڈیا کی 5.3 فیصد تھی۔ اس نمو کی وجہ سے سنہ 2018 میں بنگلہ دیش سب سے کم ترقی کرنے والے مممالک سے باہر آ گیا ہے۔
تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2018 کے ڈیٹا کے مطابق پورے جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ افراطِ زر ریکارڈ کی گئی تھی۔ بنگلہ دیش میں اس کی شرح 5.8 فیصد تھی جبکہ انڈیا میں 3.4 فیصد۔
سنہ 2018 میں انڈیا کے مقابلے بنگلہ دیش میں بے روزگاری کی شرح اندازوں کے مطابق زیادہ تھی۔ عالمی سطح پر فی دن 1.9 ڈالر سے کم کمانے والوں کو غربت کی لکیر سے نیچے سمجھا جاتا ہے مگر بنگلہ دیش کی آبادی میں ایسے لوگوں کی تعداد کم تھی۔
اقدامات کے حوالے سے دونوں ملکوں کا موازنہ
معاشرتی ترقی کے عوامل میں بنگلہ دیش میں بہتری آئی ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح اور پیدائش کے بعد متوقع عمر میں بنگلہ دیش انڈیا سے آگے ہے۔
مثال کے طور پر بنگلہ دیش میں پیدا ہونے ایک بچی کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اپنی پانچویں سالگرہ منا سکے گی۔ یہ انڈیا اور پاکستان کے حالات سے بہتر ہے۔ سنہ 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں اوسطاً عمر 72.5 برس ہے جبکہ انڈیا میں 68.6 سال اور پاکستان میں 66.5 برس ہے۔
گذشتہ سال دسمبر میں جاری ہونے والی گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2020 کے مطابق انڈیا 108ویں پوزیشن سے گر کر 112ویں نمبر پر آگیا ہے۔ اس فہرست میں بنگلہ دیش 50ویں نمبر پر آیا تھا جو انڈیا سے بہتر ہے۔
بنگلہ دیش کے پارلیمان میں خواتین کی تعداد 22 فیصد ہے جو انڈیا کے 13 فیصد سے زیادہ ہے۔