آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے ایک سکول میں شہریت کے متنازع قانون پر بنے ڈرامے پر ماں اور استانی جیل میں
ایک انڈین سکول قومی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب شہریت کے قانون پر بنے ڈرامے کے باعث ایک نوجوان ماں اور ایک استانی کو جیل جانا پڑا ہے۔
بی بی سی تیلوگو کی نامہ نگار دیپتھی بتھینی کے مطابق انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر بدار کے شاہین سکول میں شہریت کے متنازع قانون پر بنے ڈرامے میں نو سے 12 سالہ بچے شریک تھے۔
26 برس کی نزب النسا گھروں میں کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں یہاں تک کیسے پہنچی۔‘ تاہم انھوں نے اپنا آخری نام بتانے سے گریز کیا۔
نذب النسا 30 جنوری کو فریدہ بیگم کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جو اس سکول میں استانی ہیں۔ ان دونوں مسلمان خواتین کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم دونوں ہی اس الزام کو مسترد کر چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بی بی سی سے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں جیل انتظامیہ کے دفتر میں بات کی۔ دونوں رونے کے قریب تھیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ’مضبوط‘ رہنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن ان کی زندگیاں ’یکسر تبدیل‘ ہو گئی ہیں۔
ان کی ضمانت کی سماعت رواں ہفتے ہونی ہے جبکہ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ غداری کی دفعات کا غلط استعمال ہے۔
یہ ایک نوآبادیاتی قانون ہے جس کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس قانون کے لاگو ہونے میں تشدد پر اکسانے کو شرط بنانے کی کوشش کی تاہم اس کا استعمال اب بھی کیا جاتا ہے۔
ان دونوں خواتین پر ’جھوٹی معلومات‘ اور ’مسلمان برادری میں خوف پھیلانے‘ کا الزام ہے جنھوں نے بچوں کو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی توہین کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ان دونوں خواتین کے مسائل میں اضافہ اس وقت ہوا جب بدار کے شاہین سکول میں طلبا اور سٹاف کے ساتھ مل کر ایک ڈرامہ منعقد کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سکول میں نذب النسا کی بیٹی پڑھتی ہیں جبکہ 52 برس کی فریدہ بیگم پڑھاتی ہیں۔
یہ ڈرامہ شہریت کے نئے متنازع قانون پر بنایا گیا تھا۔ گذشتہ برس دسمبر میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی جانب سے اس قانون کی منظوری کے بعد سے انڈیا منقسم ہو چکا ہے۔
شہریت کا قانون یعنی سی اے اے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلموں کو تو انڈیا میں پناہ لینے کا حق دیتا ہے۔
تاہم اس کے باعث انڈیا کے 20 کروڑ مسلمانوں میں خوف پھیل گیا ہے کیونکہ یہ قانون حکومت کی جانب سے شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے قیام کے بعد سامنے آیا ہے۔
جس میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جن کے آباؤ اجداد کی انڈین شہریت ثابت ہوتی ہے۔
حکام نے اب تک اس حوالے سے وضاحت نہیں کی کہ کن دستاویزات کے ذریعے شہریت ثابت ہو سکے گی۔ تاہم ان اقدامات کے باعث بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو غیر اہم بنانے کی کوشش ہے۔
تاہم بی جے پی کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انڈیا کے مسلمانوں کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اس متنازع موضوع پر جب کچھ والدین نے اسے فیس بک پر براہ راست نشر کیا تو اس کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ مقامی شہری نیلیش رکشل ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے یہ ریکارڈنگ دیکھی۔
نیلیش رکشل جو خود کو سماجی کارکن کہلواتے ہیں، کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر غصہ آیا جب ایک آدمی ادھیڑ عمر خاتون کی جانب بڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ نریندر مودی چاہتے ہیں کہ مسلمان دستاویزی ثبوتوں کےذریعے اس بات کی تصدیق کروائیں کہ وہ انڈین شہری ہیں اور ان کے آباؤ اجداد بھی انڈین شہری تھے۔
اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو انھیں ملک چھوڑنے کا کہا جائے گا۔
اس خاتون کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں کئی نسلوں سے رہ رہی ہیں اور انھیں اپنے دستاویزات ڈھونڈنے کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی قبریں کھودنا پڑیں گی۔ وہ پھر کہتی ہیں کہ ’لڑکا چائے بیچ رہا تھا۔‘ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ وزیرِ اعظم مودی نوعمری میں چائے بیچا کرتے تھے اور اب وہ انہی سے دستاویزات مانگ رہے ہیں۔
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’میں ان سے دستاویزات کے بارے میں پوچھوں گی اور اگر اس کے پاس یہ نہ ہوئے تو میں اسے جوتوں سے ماروں گی۔‘
رکشل کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوراً سکول کے خلاف مقدمہ درج کروایا جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’سکول میں منعقد ہونے والے اس ڈرامے میں بچوں کے ذریعے وزیرِ اعظم مودی کو برا بھلا کہا گیا ہے اور نفرت بھی پھیلائی گئی ہے۔‘
سکول انتظامیہ اور والدین پر الزام ہے کہ انھوں نے اس ڈرامے کو براہ راست نشر کیا ہے۔ سکول انتظامیہ اور اس کے صدر پر بھی غذاری کے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں جبکہ پولیس نے عدالت کو بتایا ہے کہ ابھی ان افراد کی تلاش جاری ہے۔
سکول کے سی ای او توصیف مدیکری کا کہنا ہے کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ کس بنیاد پر سکول پر بغاوت کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ کسی سمجھدار شخص کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم اس حوالے سے عدالت میں لڑیں گے۔‘
پولیس کی طلبا سے سوالات کرتے ہوئے بنائی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں جن پر تنقید کی گئی۔
مدیکری کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پولیس نے طلبا سے وردی پہن کر سوالات کیے اور اس وقت بچوں کے ساتھ بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے اہلکار بھی موجود نہ تھے۔ تاہم پولیس سپرانٹینڈینٹ ڈی ایل نگیش نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
مدیکری کا کہنا ہے کہ ’ان طلبا سے پانچ مرتبہ پوچھ گچھ کی گئی۔ یہ بچوں کو ذہنی طور پر ہراساں کرنے کے مترادف اور اس کا ان پر طویل دورانیے تک اثر پڑے گا۔‘
کرناٹکا میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ریاستی کمیشن نے پولیس سے پوچھا ہے کہ وہ بتائیں کہ انھوں نے طلبا سے اتنی مرتبہ پوچھ گچھ کیوں کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے تھا کہ سارے طلبا ایک وقت میں موجود نہیں تھے۔
مدیکری نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں سے پوچھ گچھ کے بعد فریدہ بیگم اور نذب النسا کو گرفتار کیا گیا۔
ایک والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی سے اس حوالے سے پوچھ گچھ ہوئی جس کے بعد وہ سکول جانے سے ڈرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ پولیس نے ان سے بارہا پوچھا کہ وہ ان اساتذہ اور دیگر افراد کی نشاندہی کریں جنھوں نے انھیں اس ڈرامے کا مکالمہ سکھایا ہو۔
’مجھے نہیں معلوم کہ اس ڈرامے میں غلط کیا ہے۔ بچے دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں کیا ہوتا رہا ہے۔ انھوں نے اپنے ڈائیلاگ سوشل میڈیا ہی سے تو اٹھائے ہیں۔‘
نذب النسا کو یہ بھی نہیں معلوم کے انھیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میری بیٹی گھر پر اس تھیٹر پلے کی ریہرسل کر رہی تھی لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا موضوع کیا ہے یا سی اے اے اور این آر سی کا تنازع کس بارے میں ہے۔ میں تو یہ تھیٹر پلے دیکھنے بھی نہیں گئی۔‘
جیل بھیجے جانے کے بعد نذب النسا نے اپنی بیٹی سے صرف ایک مرتبہ ملاقات کی تھی۔ ’یہ صرف چند لمحات کی ملاقات تھی اور وہ بھی کھڑکی سے ہی۔ میں نے اپنے آنسو روکے کیونکہ میں اسے مزید خوفزدہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘
ان کی بیٹی اپنے جاننے والوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسے ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور وہ اکثر روتے ہوئے اٹھ جاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’وہ اس بات پر مصر ہیں کہ ان کی والدہ کو ان کی غلطی کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ جو ہوا اس پر انھیں افسوس ہے۔‘
فشارِ خون کی مریض فریدہ بیگم کا کہنا ہے کہ ’انھیں اپنے مستقبل سے خوف آتا ہے۔‘
ان کے شوہر مرزا بیگ کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ ان کی بیوی کے جیل میں ہونے سے ان کی بیٹی کو رشتے ملنے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے کہا 'جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔'