آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چینی اور ان کی آنکھیں: ’میری آنکھیں ایسی ہی ہیں ۔۔۔ ہر کسی کی اپنی ایک دلکشی ہوتی ہے‘
- مصنف, وئی یپ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
’کیا میں صرف اس لیے چینی شہری ہونے کی حقدار نہیں کیونکہ میری آنکھیں چھوٹی ہیں۔‘
یہ جملہ چین کی ماڈل کائی نیانگنیانگ نے حال ہی سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر تمام تر غلط وجوہات کی بنا پر وائرل ہونے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر لکھا۔
ایک چینی برانڈ ’تھری سکویرلز‘ کے چند اشتہارات میں آنے کے بعد کئی دن تک کائی کو آن لائن ’غیر محب وطن‘ ہونے پر نشانہ بنایا گیا۔
بظاہر ان کا جرم ان کی چھوٹی آنکھیں ہیں۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس قدر اشتعال دکھایا کہ کمپنی کو اپنے اشتہارات کو ہٹانا اور لوگوں سے معافی مانگنا پڑی۔
لیکن کائی نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ انھوں نے ایسا کیا کر دیا ہے جس سے انھیں آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ وہ تو بحیثیت ماڈل ’صرف اپنا کام کر رہی تھیں۔
کائی نے ٹوئٹر کی طرز کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر لکھا: ’مجھے میرے نقوش میرے والدین سے ملے ہیں۔‘
’کیا میں جیسی دکھتی ہوں اس سے میں نے چین کی بے عزتی کی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مغرب کے پاس اب ہر چیز پر حتمی رائے نہیں‘
ان اشتہارات کو، جو دراصل سنہ 2019 میں شوٹ کیے گئے تھے، قوم پرستوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آن لائن چینی لوگوں کی تصویر کشی کرنے والے اشتہارات پر چین میں پائے جانے والی حساسیت کو بڑھاوا دیا۔
اس سے قبل نومبر میں چین کی ایک مشہور فیشن فوٹوگرافر نے فرانسیسی برانڈ ’ڈیور‘ کے لیے کھینچی گئی ایک تصویر پر شدید تنقید کے بعد معذرت کی تھی۔ اس تصویر میں چھوٹی آنکھوں والی ایک ماڈل کو دکھایا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ’مرسیڈز بینز‘ اور ’گوچی ‘ جیسے بڑے برانڈ کے اشتہارات کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں چھوٹی آنکھوں والی چینی خواتین کو دکھایا گیا۔
چین میں آن لائن، قوم پرستی اور مغرب مخالف جذبات کے بڑھتے رجحان کے درمیان کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسے اشتہارات چینی لوگوں کی جانب نسل پرستی کی مثال ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں چھوٹی آنکھوں والی ماڈلز کو اپنے اشتہارات میں لا کر چینی شکل و صورت کے بارے میں مغرب کے دقیانوسی تصورات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات میں عام طور پر چینی اشتہارات میں نظر آنے والی سفید رنگت اور بڑی گول آنکھوں والی ماڈلز کو کیوں نہیں دکھایا جاتا جو کہ چین میں خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
چین کی سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اخبار ’چائنا ڈیلی‘ کے حالیہ ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہے کہ ’آخر کب تک خوبصورتی، جمالیات، پسند اور ناپسند پر مغربی معیارات کا غلبہ رہے گا۔‘
اس تحریر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’مغرب کے پاس اب ہر چیز پر حتمی رائے نہیں۔‘
’چینی لوگوں کو ان (مغرب) کے معیارات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں کہ خوبصورتی کیا ہے اور کس قسم کی خواتین کو خوبصورت سمجھا جاتا ہے۔‘
اس تحریر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایک چینی برانڈ ہونے کی حیثیت سے ’تھری سکویرلز‘ کو اس بارے میں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ چینی صارفین اشتہارات میں اپنی تصویر کشی پر کس قدر حساس ہیں۔‘
اس تنازعہ کے پیچھے دراصل یہ خیال ہے کہ اس طرح کی تصویر کشی ایشیائی لوگوں کی ’چھوٹی آنکھوں‘ کے دقیانوسی تصور کو جنم دیتی ہے جو دراصل 19ویں صدی میں مغربی ثقافت سے ابھرا اور بہت سے ایشیائی لوگ اسے تضحیک سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ہالی ووڈ میں دکھائے جانے والے مشہور ایشیائی ولن فو مانچو کی آنکھیں پتلی اور چھوٹی دکھائی جاتی تھیں۔ یہ کردار اس نسلی تعصب پر مبنی خیال کا عکاس ہے جس کے مطابق ایشیائی ثقافتیں مغربی معاشروں کے لیے خطرہ ہیں۔
جمالیاتی تنوع کو مسترد کرنا
چین میں خوبصورتی کے یکساں معیار کے حوالے سے جو ایک رائے پائی جاتی ہے وہ دراصل دنیا بھر میں میڈیا میں ایشیائی چہروں کی نمائندگی اور تنوع کی جانب جھکاؤ بڑھانے سے یکسر مختلف ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کچھ لوگوں کو ان اشتہاروں سے تکلیف پہنچتی ہو گی لیکن اس موضوع پر ہونے والی بحث اس تاثر کو رد کرتی ہے کہ درحقیقت چینیوں جیسا نظر آنے کے مخلتف طریقے ہیں۔
ہانگ کانگ باپٹسٹ یونیورسٹی کی ڈاکٹر لوائی روز لوکوئی کہتی ہیں کہ ’ڈھلکی آنکھوں کو مسترد کرنا ایک بہت خطرناک رجحان ہے کیونکہ یہ جمالیاتی تنوع کو مسترد کرنے جیسا ہے۔‘
’یہ خوبصورتی کو ایک خاص معیار پر پورا نہ اترنے پر دبانے والی بات ہے۔‘
ماہرین کے مطابق چین میں درحقیقیت چھوٹی آنکھوں کو خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر چین کی تانگ سلطنت جو 618 سے 907 عیسوی تک قائم رہی اور جسے فن اور ثقافت کا چین کا ’سنہری دور‘ کہا جاتا ہے، کی پینٹنگز میں پتلی اور لمبی آنکھوں والی خواتین کو دکھایا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کی ڈاکٹر جاہی جونگ کہتی ہیں کہ ’مختلف سلطنتوں میں کچھ فرق کے باوجود قدیم چین میں چھوٹی آنکھوں کو ہی پسند کیا جاتا تھا۔‘
حالیہ برسوں میں بڑی گول آنکھوں کی مقبولیت کی وجہ مغرب کا اثرورسوخ ہو سکتا ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ حسن کے معیار میں یہ حالیہ تبدیلی 1970 کی دہائی سے شروع ہوئی جب چین نے غیر ملکی اشتہارات کے لیے اپنے دروازے دنیا کے لیے کھول دیے۔
ڈاکٹر جونگ کہتی ہیں کہ ’چین میں دور حاضر کی خواتین خوبصورتی میں مغرب کے معیارات کو پسند کرتی ہیں جس کو میڈیا میں دکھایا جاتا ہے۔‘
آج کل بڑی اور گول آنکھیں انتی مقبول ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ نوجوان چینی خواتین اپنی آنکھوں کو بڑا کرنے کے لیے میک اپ اور حتیٰ کہ کاسمیٹک سرجری نہ کرائیں۔
لیکن ماڈل کائی امید کرتی ہیں کہ لوگ مختلف نظر آنے والوں کے ساتھ ’مہربانی‘ سے پیش آئیں گے۔ ویبو پر اپنی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’بے شک لوگوں کو میری شکل و صورت پسند نہیں آئی لیکن اس کے باوجود لوگوں کو ان پر تنقید کی ضرورت نہیں تھی۔‘
’میری آنکھیں ایسی ہی ہیں بلکہ حقیقی زندگی میں یہ اور بھی زیادہ چھوٹی ہیں۔ ہر کسی کی اپنی ایک دلکشی ہوتی ہے۔‘
اس تحریر کے لیے اضافی رپورٹنگ بی بی سی چین سے سیلویا چانگ نے کی ہے۔