مدر ٹریسا: انڈین حکومت نے فلاحی ادارے کی غیر ملکی فنڈنگ معطل کر دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈیا کی حکومت نے نوبیل انعام یافتہ مدر ٹریسا کے مسیحی فلاحی ادارے مشنریز آف چیریٹیز کی غیر ملکی فنڈگ کے لائسنس کو کرسمس کے روز معطل کیا۔
یہ ادارہ بنگال اور ملک کی دیگر ریاستوں میں غریب بچوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے کئی سکول، پناہ گاہیں اور ہسپتال وغیرہ چلا رہا ہے۔ ادارے کا بیشتر فنڈ غیر ممالک سے آتا ہے۔ لائسنس معطل ہونے سے یہ ادارہ مشکل میں پڑ گیا ہے۔
بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینربی نے حکومت کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا ’یہ جان کر مجھے انتہائی صدمہ پہنچا ہے کہ مرکزی حکومت نے عین کرسمس کے روز مشنریز آف چیریٹیز کے سارے بینک کھاتے معطل کر دیے ہیں۔ ادارے کے بائیس ہزار ملازمین اور مریضوں کو دوا اور خوراک سے محروم کر دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ قانون کی برتری ضروری ہے لیکن انسانیت کی کوششوں سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ مشنریز آف چیریٹی کے لائسنس کی تجدید کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کیونکہ یہ تجدید کے ضوابط کی شرائط پوری نہیں کرتی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’تجدید کی درخواست پر غور کرنے کے دوران ادارے کے بارے میں کچھ منفی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن کی بنیاد پر فنڈنگ لائسنس کی تجدید کی درخواست مسترد کر دی گئی۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کولکاتا کے ایک مسیحی مذہبی رہنما فادر ڈومنک گومز نے کہا کہ حکومت نے مشنریز آف چیریٹی کے بینک کھاتے منجمد کر کے ملک کے غریب ترین لوگوں کو کرسمس کا ایک انتہائی بے رحم تحفہ دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مشنریز آف چیریٹیز میں کام کرنے والے بھائی بہن جذام کے مریضوں اور افلاس زدہ ذاتوں کے غریب بچوں کا عموماً واحد سہارا ہیں۔ ان کے قریب بھی کوئی جانے کی ہمت نہیں کرتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مدر ٹریسا کا فلاحی ادارہ کیوں اہم؟
مشنریز آف چیریٹی ایک بین الاقوامی مسیحی ادارہ ہے۔ اسے کولکتا میں مدر ٹریسا نے سنہ 1950 میں قائم کیا تھا۔
انھوں نے شہر کی افلاس زدہ بستیوں اور غریب بچوں کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ انسانیت کی بے لوث خدمات کے لیے انھیں نوبیل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ان کی وفات 1997 میں ہوئی۔ سنہ 2016 میں ویٹیکن نے انھیں ایک سینٹ کا درجہ عطا کیا تھا۔
اس ادارے نے والدین کے ذریعے ترک کر دیے گئے بچوں، معذور بچوں، بیماروں اور مریضوں کے لیے ہوم، ہسپتال اور مراکز کھولے۔
اس ادارے کے مختلف مراکز میں ہزاروں بچے اور غریب افراد پناہ لیتے ہیں۔ یہ ایک منظم کیتھولک تنطیم ہے۔ دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کی جانب سے وقتاً فوقتاً اس ادارے پر غریب بچوں کو عیسائیت کی طرف مائل کرنے اور اور ان کا مذہب تبدیل کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔
ابھی حال میں بڑودہ میں بچوں کے ایک مرکز پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہاں بچوں کو انجیل پڑھائی جاتی ہے اور اتوار کو مسیحی عبادت میں شریک کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشنریز کا کہنا ہے کہ وہ تبدیلی مذہب کے عمل میں ملوث نہیں ہیں۔ اور وہ بلا تفریق مذہب، ملت اور انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
مشنریز آف چیریٹیز کا بیشتر فنڈ غیر ممالک کے چندے سے آتا ہے۔ فنڈ کا لائسنس معطل ہونے سے فنڈ کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ اس سے ان اداروں میں رہنے والے ہزاروں بچے اور دوسرے لوگ براہ راست متاثر ہوں گے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مشنریز نے ابھی تک معطلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست نہیں دی ہے۔











