1971 کی جنگ: پاکستانی جنگی قیدیوں کی انڈین جیلوں میں زندگی کیسی تھی؟

،تصویر کا ذریعہBHARATRAKSHAK.COM
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
16 دسمبر سنہ 1971 کو ہتھیار ڈالنے کے چار دن بعد جنرل امیر عبداللہ نیازی اور ان کے سینیئر معاونین میجر جنرل راؤ فرمان علی، ایڈمرل شریف، ایئر کموڈور انعام الحق اور بریگیڈیئر باقر صدیقی کو کوریبو طیارے کے ذریعے کولکتہ لے جایا گیا۔
جنرل نیازی اپنے پی آر او صدیق سالک کو ڈھاکہ میں نہیں چھوڑنا چاہتے تھے اس لیے انھیں بھی فرمان علی کا نقلی اے ڈی سی بنا کر کولکتہ لے جایا گیا۔ جنرل سگت سنگھ ان لوگوں کو ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر چھوڑنے آئے تھے۔ انھیں فورٹ ولیم کے رہائشی کوارٹرز میں رکھا گیا تھا۔
جنرل جیکب نے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز کو دوبارہ ٹائپ کیا کیونکہ اصل دستاویز میں ہتھیار ڈالنے کا وقت غلط درج تھا۔ جنرل نیازی اور جنرل اروڑہ نے دوبارہ دستخط کر دیئے۔ ابتدائی دنوں میں جنرل جیکب نے جنرل نیازی اور ان کے ساتھیوں سے اچھی طرح پوچھ گچھ کی۔
جنرل امیر عبداللہ خان نیازی اپنی سوانح عمری ’دی بیٹریئل آف ایسٹ پاکستان‘ میں لکھتے ہیں: ’ہمیں ایک نئی تعمیر شدہ تین منزلہ عمارت میں رکھا گیا تھا۔ یہ ایک صاف ستھری جگہ تھی۔ ہم نے ایک کمرے کو کھانے کے کمرے میں تبدیل کر دیا تھا۔ ہمارے کھانے ہندوستانی باورچی تیار کرتے تھے لیکن ہمارے آردلی دسترخوان لگاتے تھے۔ ہم اپنا وقت ریڈیو سننے، کتابیں پڑھنے اور ورزش کرنے میں گزارتے تھے۔
'ایک دن میں نے اپنی نگرانی پر تعینات انڈین افسر کرنل کھارا سے پوچھا کہ میجر جنرل جمشید کہاں ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ وہ ڈھاکہ میں اب بھی انتظامی کاموں میں ہماری مدد کر رہے ہیں، بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ ڈھاکہ کے بجائے کلکتے کی جیل میں قید تنہائی میں تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہOXFORD UNIVERSITY PRESS
وی آئی پی قیدیوں کو کلکتہ سے جبل پور منتقل کیا گیا
کلکتہ سے جنرل نیازی اور ان کے ساتھیوں کو انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور کے کیمپ نمبر 100 میں لے جایا گیا۔
انڈین افسران میجر جنرل راؤ فرمان علی کو کلکتہ میں رکھ کر پوچھ گچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن جنرل نیازی نے اس کی سخت مخالفت کی۔
درحقیقت انڈین فوجیوں کو فرمان علی کے دفتر میں ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک کاغذ ملا جس پر لکھا تھا 'گرین لینڈ وِل بی پینٹ ریڈ‘ (سبز زمین کو سرخ رنگ میں رنگ دیا جائے گا)۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل اے اے کے نیازی اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: ’ہمیں بیچلرز آفیسرز کے کوارٹرز میں رکھا گیا تھا۔ ہر افسر کو ایک بیڈ روم اور اس سے ملحق باتھ روم دیا گیا تھا۔ سامنے ایک برآمدہ کے ساتھ ایک مشترکہ رہنے کا کمرہ تھا۔ کمرے بہت زیادہ تھے، اس لیے ہم نے ایک کمرے کو نماز کا کمرہ اور دوسرے کو میس روم بنا لیا تھا۔
’ہمیں ہر روز ایک ہی طرح کا کھانا ملتا تھا۔ ابلے ہوئے چاول، چپاتیاں، سبزیاں اور دال۔ کبھی کبھی ہمیں گوشت بھی دیا جاتا تھا۔ ہمارے کیمپ کو چاروں طرف سے خاردار تاروں سے گھیرا گیا تھا۔ 24 گھنٹے ایک سنتری اور السیشین کتے کے ذریعے ہماری نگرانی کی جاتی تھی۔ انڈین فوجیوں کی بٹالین کیمپ کے مضافات میں ہماری حفاظت کے لیے تعینات تھی۔ مجموعی طور پر کیمپ کے عملے کا ہمارے ساتھ اچھا سلوک تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہOXFORD UNIVERSITY PRESS
جنرل شاہ بیگ سنگھ جنگی قیدیوں کی دیکھ بھال کے لیے تعینات
کیمپ میں نماز جنرل انصاری پڑھایا کرتے تھے۔ پاکستانی اہلکاروں کو جنیوا کنونشن کے قوانین کے تحت ماہانہ 140 روپے تنخواہ دی جاتی تھی جس سے وہ کتابیں، تحریری کاغذات اور روزمرہ کی چیزیں خریدتے تھے۔
ایک انڈین کانسٹیبل کی ڈیوٹی لگائی گئی، جو بازار سے ضرورت کی چیزیں خرید کر ان کے حوالے کرتا تھا۔
چند دنوں بعد انڈین فوجیوں نے کیمپ کے گرد دیوار بنانا شروع کر دی۔ جب جنرل اے اے کے نیازی نے اس کی مخالفت کی تو انھیں بتایا گیا کہ یہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ باہر سے لوگ انھیں نہ دیکھ سکیں۔
جنرل نیازی لکھتے ہیں: ’ہمیں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے ہمیں مارنے کے لیے دو آدمی بھیجے ہیں۔ جنرل پاڈا نے مجھے بتایا کہ انھیں دہلی میں آرمی ہیڈ کوارٹر بلایا گیا اور بتایا گیا کہ انڈین انٹیلی جنس نے جمشید نامی شخص کو کلکتہ میں پکڑا ہے جس نے بتایا ہے کہ اسے اور ایک اور شخص کو جنرل اے اے کے نیازی کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
'کچھ دنوں بعد میجر جنرل شاہ بیگ سنگھ کو وہاں جنرل پاڈا کی جگہ تعینات کیا گیا۔ ان کا سلوک میرے ساتھ بہت دوستانہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ انڈیا میں سکھوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ انھوں نے مجھے خالصتان کا نقشہ دیا جس میں پورا مشرقی پنجاب شامل تھا۔ بعد ازاں سنہ 1984 میں جب انڈین فوجی گولڈن ٹیمپل میں داخل ہوئے تو وہ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کے ساتھ لڑتے ہوئے مارے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہOXFORD UNIVERSITY PRESS
سرنگ کھود کر باہر نکلنے کا منصوبہ
دوسری جانب کرنل حکیم ارشد قریشی (جو بعد میں میجر جنرل بنے) اور ان کے ساتھیوں کو 21 دسمبر کو بسوں کے ذریعے انڈیا لایا گیا۔ سڑک اور ریل کے ذریعے ایک دن اور ایک رات سفر کے بعد انھیں رانچی میں جنگی قیدی کیمپ نمبر 95 میں لے جایا گیا۔ ان کے جاتے ہی ان لوگوں نے اس کیمپ سے فرار ہونے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔
ان دنوں ایک انڈین کمانڈنٹ نے کیمپ کا دورہ کیا۔ انھیں یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ کیمپ کی دیکھ بھال ٹھیک سے نہیں ہو رہی ہے۔
میجر جنرل حکیم ارشد قریشی نے اپنی کتاب '1971 انڈو-پاک وار اے سولجرز نیریٹو' میں لکھا ہے کہ 'جب کمانڈنٹ چلے گئے تو ہم نے انڈین جے سی اوز سے کہا کہ ہمیں بیلچے اور کھرپیاں فراہم کریں تاکہ ہم ہر بیرک کے سامنے پھولوں کی کیاریان بنائیں۔ تاکہ اگلی بار جب کمانڈنٹ آئے تو وہ اسے دیکھ کر خوش ہو جائے۔ ہمیں یہ دونوں چیزیں دے دی گئیں۔
'ہم دن میں باغبانی کرتے تھے اور رات کو ان کی مدد سے سرنگیں کھودتے تھے، پہلے ہم کھودی ہوئی مٹی کو بیرک کی فالس سیلنگ میں چھپا دیتے تھے، لیکن ایک دن جب وہ چھت مٹی کے بوجھ سے گر گئی تو ہم نے مٹی کو کیاریوں میں چھڑکنا شروع کر دیا۔
'جب سرنگ اپنے آخری مرحلے پر پہنچی تو ہم نے کیمپ کے اندر اور باہر سے انڈین کرنسی کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ انڈین فوجیوں کی مدد سے ہم نے اپنے سونے کی انگوٹھیاں، گھڑیاں اور دیگر قیمتی اشیا بیچ کر اچھی خاصی رقم اکٹھی کر لی۔'

،تصویر کا ذریعہROLI BOOKS
انڈین فوجیوں کو سرنگ کا پتا چل گیا
لیکن جس دن ان پاکستانی فوجیوں کو اس سرنگ سے فرار ہونا تھا اسی دن تمام جنگی قیدیوں کو کیمپ کے بیچ میں جمع ہونے کو کہا گیا۔ ان کے ارد گرد اور واچ ٹاورز پر مسلح محافظوں کی تعداد بڑھا دی گئی۔ کیمپ کمانڈر کرنل ہوج ایک جنگی قیدی کے کمرے میں گئے اور ان سے بستر کے نیچے پڑی لکڑیوں کو ہٹانے کے لیے کہا۔
اس کے بعد جب انھوں نے فرش کی چادر اٹھائی تو انھیں ایک گہرا سوراخ نظر آیا۔ اس کے بعد انھوں نے تمام پاکستانی جنگی قیدیوں کو اکٹھا کیا اور تقریر کی کہ کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کرنا پاکستانی جنگی قیدیوں کا فرض ہے۔ لیکن اسی طرح انڈین فوجیوں کا فرض ہے کہ ایسا نہ ہونے دیں۔ اب ایک اچھے سپاہی کی طرح جن لوگوں نے یہ کوشش کی تھی، وہ سامنے آئیں اور اپنے جرم کا اعتراف کریں، تاکہ دوسرے جنگی قیدیوں کو بلا وجہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

،تصویر کا ذریعہoup
یہ بھی پڑھیے
سرنگ کھودنے کی سزا
میجر جنرل قریشی لکھتے ہیں: ’ہم میں سے 29 لوگوں نے خود اس فعل کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا فیصلہ کیا، درحقیقت ہمارے ایک ساتھی نے ہمیں دھوکہ دیا، اس نے نہ صرف انڈینز کو سرنگ کی جگہ کے بارے میں آگاہ کیا بلکہ انھیں یہ بھی بتاتا رہا کہ سرنگ کہاں تک کھودی گئی ہے۔ شام کو ہمیں اس کے لیے سزا دی گئی۔ ہماری چارپائیاں اور ذاتی سامان چھین لیا گیا۔
'ہال میں اکٹھے کھانے کی سہولت ختم کر دی گئی، کھانے کے بعد چہل قدمی اور باہر سے آرڈر دینے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ دن میں کئی بار ہماری حاضری لی جانے لگی۔'
ایک لیفٹیننٹ کرنل کی سربراہی میں اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ چند روز بعد ان سزا یافتہ جنگی قیدیوں کو کیمپ نمبر 95 سے کیمپ نمبر 93 میں منتقل کر دیا گیا۔ لیکن یہاں انھیں بہت کم وقت کے لیے رکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہOXFORD UNIVERSITY PRESS
کچھ جنگی قیدیوں کو آگرے لے جایا گیا
اس کی تفصیل بتاتے ہوئے میجر جنرل ارشد قریشی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ '20 جون 1972 کو ہمیں ہتھکڑیاں لگا کر ٹرک پر لاد کر ریلوے سٹیشن لے جایا گیا، کیمپ میں باقی جنگی قیدی ہمارا حشر دیکھ رہے تھے۔
'انھیں یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ وہ ایسا کام کرنے کی ہمت نہ کریں۔ ہمیں ٹرین کے ایک ڈبے میں بٹھایا گیا جسے باہر سے بند کیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ ٹوائلٹ میں کموڈ تھا، لیکن سکیورٹی کے لیے دروازہ نکال دیا گیا تھا۔ ہمیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں بھی ڈالی گئیں۔
'کھانا کھاتے وقت بھی ہمارے ہاتھ نہیں کھولے گئے۔ ہتھکڑی لگا کر کھانا ایک طرح کی سزا تھی کیونکہ اس ہمارے کپڑوں پر زیادہ کھانے گر رہے تھے۔ ہمیں لوگوں کے سامنے ٹوائلٹ استعمال کرنا ہوتا تھا۔ نہ ٹوائلٹ پیپر نہ ہاتھ دھونے کے لیے پانی۔ اچانک مجھے لگا کہ میں دنیا کے آٹھویں عجوبے تاج محل کو دیکھ رہا ہوں۔ ہم آگرہ پہنچ چکے تھے۔ یہ 21 جون 1972 کی تاریخ تھی۔ انڈیا کا سب سے طویل اور گرم ترین دن تھا۔'

،تصویر کا ذریعہBHARATRAKSHAK.COM
پاکستانی کپتان ڈاکٹر کے بھیس میں جیل سے فرار
آگرہ جیل اس وقت انڈیا کی سب سے محفوظ جیل تھی۔ یہاں 200 کے قریب پاکستانی جنگی قیدی رکھے گئے تھے۔ جنرل قریشی کا انڈین جیل میں تجربہ اچھا نہیں تھا کیونکہ انھیں فرار ہونے کی کوشش کی سزا دی جا رہی تھی۔
لیکن ایک اور پاکستانی افسر اتنی سخت سکیورٹی کے باوجود فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ کیپٹن ریاض الحق نے بیمار ہونے کا بہانہ بنا کر خود کو جنگی قیدی ہسپتال میں داخل کرایا۔ ایک دن وہ اپنے گلے میں سٹیتھوسکوپ کے ساتھ ڈاکٹر کا سفید کوٹ پہن کر ہسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اسی طرح کیپٹن شجاعت علی بھی چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اس کا بدلہ لینے کے لیے انڈین فوجیوں نے ایک اور جنگی قیدی میجر نصیب اللہ کو گولی مار دی۔

،تصویر کا ذریعہBHARATRAKSHAK.COM
جنگی قیدیوں کو فلم پاکیزہ دکھائی گئی
اگر ان واقعات کو ایک طرف رکھا جائے تو عالمی پریس میں پاکستانی جنگی قیدیوں کے ساتھ انڈیا کے اچھے سلوک کا چرچا ہوا۔
انڈیا کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا اپنی کتاب 'چینجنگ انڈیا سٹریٹ فرام دی ہارٹ' میں لکھتے ہیں: 'ان جنگی قیدیوں سے بات کرنے کے لیے سینیئر انڈین سویلین اور فوجی مسلمان افسران کو بلایا گیا۔ مشاعرہ اور ان کے لیے فلمی شوز منعقد کیے گئے، ہم نے انھیں 'پاکیزہ' اور 'صاحب بی بی اور غلام' جیسی فلمیں دکھائیں جو انھیں بہت پسند آئیں۔
'روڑکی میں، ہم نے پاکستانی اور ہندوستانی حکام کے درمیان کرکٹ میچ کا بھی اہتمام کیا۔ ان کیمپوں کا دورہ کرنے کے بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے لکھا کہ 'دنیا میں کہیں بھی جنگی قیدیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔' یہ انڈین فوجیوں کی بہت بڑی تعریف تھی۔

،تصویر کا ذریعہMANAS PUBLICATION
پاکستانی فوجیوں کے لیے بیرک، انڈین فوجیوں کے لیے خیمے
جنرل سیم مانیکشا کی سوانح عمری لکھنے والے جنرل دیپندر سنگھ لکھتے ہیں: 'پاکستانی جنگی قیدیوں کے ساتھ انڈیا میں بہت اچھا سلوک کیا جاتا تھا۔ انھیں وہی راشن اور کپڑے دیے جاتے تھے جو ہندوستانی فوجیوں کو دیئے جاتے تھے۔ جہاں پاکستانی جنگی قیدیوں کو بیرکوں میں رکھا جاتا تھا وہیں ہندوستانی فوجی باہر خیموں میں رہتے تھے۔
'ہمارے لیے اپنے فوجیوں کو یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ انھیں خیموں میں اتنے مشکل حالات میں کیوں رکھا جا رہا ہے، جب کہ پاکستانی جنگی قیدیوں کی بیرکوں میں پانی مل رہا ہے اور کولر اور پنکھے بھی میسر تھے۔‘
سیم مانیکشا نے مسلمانوں کے ہر تہوار پر ہر پاکستانی جنگی قیدی کو مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ جنرل نیازی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کے جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کی اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ایک وجہ یہ تھی کہ وہ نہ صرف انھیں کھانا کھلا رہے تھے بلکہ کم ہی سہی لیکن اجرت بھی دے رہے تھے جو انڈیا جیسے غریب ملک کے لیے مشکل کام تھا۔

،تصویر کا ذریعہNATRAJ PUBLICATION
28 ماہ بعد جنرل نیازی کی رہائی
وہ دن بھی آیا جب جنرل نیازی کو جبل پور ریلوے سٹیشن پر پاکستان جانے والی خصوصی ٹرین میں بٹھایا گیا۔
ٹرین 30 اپریل سنہ 1974 کی صبح واہگہ بارڈر پر پہنچی۔ پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے انھیں چائے پلائی گئی۔ انھوں نے انڈیا میں 28 ماہ جیل میں گزارے۔ پاکستانی سرحد کے اس پار ان کے استقبال کے لیے سائبان لگائے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہoup
جنرل نیازی لکھتے ہیں کہ ’جب میں نے سرحد عبور کی تو ایک بریگیڈیئر انجم نے مجھے سیلوٹ کیا اور کہا کہ جناب آپ کو پریس کے سامنے کوئی بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے پھر انھوں نے چار انچ کا مستطیل کارڈ بورڈ نکالا جس پر نمبر 1 لکھا تھا۔ مجھے کہا کہ اسے اپنے سینے پر لگا لیں تاکہ اس کی تصویر لی جا سکے۔
'جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا دیگر جنگی جرنیلوں کی بھی اسی طرح تصویریں بنوائی گئی ہیں، تو انھوں نے انکار کر دیا، انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ یہ جنرل ٹکا کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔ میں بہت ناراض ہوا، میں نے انجم کو کہا کہ اس سے پہلے کہ میں اپنا آپے سے باہر ہو جاؤں، تم یہاں سے چلے جاؤ۔‘
یہ تحریر پہلی مرتبہ 26 دسمبر 2021 کو شائع ہوئی تھی جسے آج کے دن کی مناسبت سے دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔










