آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین کی بڑھتی دفاعی قوت پر مغربی ممالک کی تشویش کس حد تک درست ہے؟
- مصنف, ڈیوڈ براؤن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
اس وقت چین اپنی مسلح افواج کی قوت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی، جوہری ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت میں چین کی تیز رفتار پیش رفت نے بہت سے ایسے مغربی مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جن کا ماننا ہے کہ فوجی طاقت کے عالمی توازن میں بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
صدر شی جن پنگ نے چین کی مسلح افواج کو سنہ 2035 تک انتہائی جدید خطوط پر استوار ہونے کا حکم دیا ہے۔ صدر شی کے اس حکم کے مطابق چینی مسلح افواج کو سنہ 2049 تک ’عالمی پائے‘ کی فوجی طاقت بننا چاہیے، جو ’جنگیں لڑنے اور جیتنے‘ کی صلاحیت رکھتی ہو۔
یہ ایک بہت بڑا اعلان ہے، لیکن چین اس ہدف کو حاصل کرنے کے راستے پر کامیابی سے گامزن ہے۔
زیادہ اخراجات
کچھ بین الاقوامی ماہرین نے چین کو ’شفافیت کے فقدان‘ کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان ماہرین کا دعویٰ ہے کہ چین اپنے دفاع پر کتنا خرچ کرتا ہے اس سے متعلق ’اعداد و شمار کی متضاد رپورٹنگ‘ کی جاتی ہے۔
اگرچہ چین دفاع کے شعبے پر اٹھنے والے اخراجات کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے، مگر اس ضمن میں لگائے گئے مغربی ممالک کے اندازے اکثر چین کے جاری کردہ اعداد و شمار سے کئی گناہ زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے بعد چین وہ ملک ہے جو اپنے دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔
واشنگٹن میں سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے مطابق چین کے فوجی بجٹ کی نِمو نے کم از کم ایک دہائی کے دوران اس کی مجموعی اقتصادی ترقی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
جوہری ذخائر میں اضافہ
نومبر میں امریکی محکمہ دفاع نے پیش گوئی کی تھی کہ چین موجودہ دہائی کے آخر تک اپنے جوہری ذخیرے کو چار گنا تک بڑھا دے گا۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق چین کا ممکنہ طور پر سنہ 2030 تک کم از کم 1000 وار ہیڈز (جوہری ہتھیار) رکھنے کا ارادہ ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا نے امریکی محکمہ دفاع کے اس دعوے کو ’انتہائی نامناسب اور جانبدارانہ قیاس آرائی‘ قرار دیا اور مزید کہا کہ جوہری قوت کو ’کم سے کم سطح‘ پر رکھا گیا ہے۔
تاہم سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین جو جوہری ہتھیاروں کے عالمی ذخیرے پر سالانہ جائزہ رپورٹ شائع کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ چین حالیہ برسوں میں اپنے وار ہیڈز کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔
چین ابھی تک 5550 وار ہیڈز کے امریکی ذخیرے کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے لیکن اس کی جوہری تیاری کو مغربی فوجی بالادستی کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ویرل نووینس کے مطابق چین کے جوہری ہتھیار ہی سب سے اہم مسئلہ ہیں۔
’دونوں فریقوں میں اعتماد کی بہت بڑی کمی ہے اور بات چیت اس سطح کے قریب نہیں ہے جس کی ضرورت ہے۔ اس کے آگے بہت بڑے خطرات ہیں۔‘
ہائپرسونک مستقبل
ہائپرسونک میزائل آواز سے بھی پانچ گنا زیادہ تیز رفتار کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بین الابرِاعظمی بیلسٹک میزائلوں (آئی سی بی ایم) جتنے تیز تو نہیں ہوتے تاہم دورانِ پرواز ان کا سراغ لگا پانا اتنا مشکل ہوتا ہے کہ کئی فضائی دفاعی نظام ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
کنگز کالج لندن کے ڈاکٹر زینو لیونی کہتے ہیں کہ ’چین کو معلوم ہے کہ وہ اب بھی بہت پیچھے ہیں اس لیے وہ دوسری طاقتوں سے آگے نکلنے کے لیے بڑی پیش رفت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہائپرسونک میزائلوں کی تیاری اُن کی ان کوششوں میں سے ایک طریقہ ہے۔‘
چین نے ہائپرسونک میزائلوں کے تجربے کی تردید کی ہے لیکن مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ گذشتہ موسم گرما میں چین کی طرف سے دو راکٹ لانچ کیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی فوج انھیں حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ چین کون سے نظام تیار کر رہا ہے۔
عام طور پر اس کی دو اہم اقسام ہوتی ہیں:
- ہائپرسونک گلائیڈ میزائل جو زمین کے ماحول میں رہتے ہیں
- فریکشنل آربیٹل بمبارڈمنٹ سسٹمز (ایف او بی ایس) جو ہدف کی طرف تیزی سے بڑھنے سے قبل زمین کے مدار میں کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں
یہ ممکن ہے کہ چین ان دونوں نظاموں کو یکجا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہو اور یوں ممکن ہے کہ چین نے ایک ایف او بی ایس ’مینیووربل‘ خلائی جہاز سے ہائپرسونک میزائل فائر کیا ہو۔
ڈاکٹر لیونی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہائپرسونک میزائل خود سے گیم چینجر نہیں ہو سکتے لیکن وہ کچھ اہداف کو آسانی سے ہدف بنا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’ہائپرسونک میزائل خاص طور پر طیارہ بردار بحری جہازوں کا دفاع کرنا زیادہ مشکل بنا دیتے ہیں۔‘
تاہم وہ یہ تجویز بھی پیش کرتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ چینی ہائپرسونک میزائلوں کے خطرے کو کچھ مغربی حکام نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہو، جو جس حد تک ممکن ہے فوجی خلائی ٹیکنالوجی کی مالی معاونت کے بارے میں ایک مضبوط کیس بنانے کے خواہاں ہیں۔‘
ان کے مطابق ’خطرہ تو حقیقی ہے۔ مگر پھر بھی یہ ممکن ہے کہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہو۔‘
مصنوعی ذہانت اور سائبر حملے
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق چین اب ’ذہانت پر مبنی جنگ، یا تخریبی ٹیکنالوجیز خاص طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی مستقبل کے فوجی طریقے حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔‘
چین کی اکیڈمی آف ملٹری سائنس کو یہ یقینی بنانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے کہ یہ ’سول ملٹری ملاپ‘ کے ذریعے ہو، دوسرے لفظوں میں چینی نجی شعبے کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ملک کی دفاعی صنعتوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق چین پہلے سے ہی ملٹری روبوٹکس اور میزائل گائیڈنس سسٹم کے ساتھ ساتھ بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں اور بغیر پائلٹ کے بحری جہازوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے۔
ماہرین کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق چین پہلے ہی بیرون ملک بڑے پیمانے پر سائبر آپریشن کر چکا ہے۔
جولائی میں برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین نے چین پر مائیکروسافٹ ایکسچینج سرورز کو نشانہ بنانے سے متعلق ایک بڑے سائبر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس حملے نے عالمی سطح پر کم از کم 30 ہزار اداروں اور تنظیموں کو متاثر کیا اور اس کا مقصد بڑے پیمانے پر جاسوسی کو ممکن بنانا، بشمول ذاتی معلومات اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کے حصول کو بھی ممکن بنانا تھا۔
سب سے بڑی بحریہ، لیکن سب سے طاقتور نہیں
چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی بحریہ والا ملک بن گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جہازوں کی تعداد کا سادہ موازنہ بہت سے عوامل سے صرف نظر کر دیتا ہے، جو (صیحح معنوں میں) کسی بھی ملک کی بحریہ کی صلاحیتوں کا تعین کرتے ہیں۔
لیکن، ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے رجحانات کا جائزہ مفید ہو سکتا ہے۔
فی الحال امریکہ بہت سی بحری صلاحیتوں میں ایک مضبوط برتری کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جس میں چین کے دو طیارہ بردار جہازوں کے مقابلے میں اس کے پاس ایسے 11 جہاز ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے پاس جوہری آبدوزیں، کروزر اور تباہ کن جہاز یا بڑے جنگی جہاز بھی ہیں۔
لیکن توقع ہے کہ چین اپنی بحریہ کو کہیں زیادہ وسعت دے گا۔
بیجنگ میں سنگہوا یونیورسٹی سے منسلک پیپلز لبریشن آرمی کے سابق سینیئر کرنل ژاؤ بو کا کہنا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ اس وقت چین کو جس طرح کے سمندری خطرات کا سامنا ہے اسے ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی بحریہ کو مضبوط کرنا ’انتہائی اہم‘ ہے۔
ان کے مطابق خاص طور پر ’ہمارے سامنے سب سے نمایاں مسئلہ وہ ہے، جسے ہم چین کے سمندروں میں ممکنہ امریکی اشتعال انگیزی سمجھتے ہیں‘۔
امریکی بحریہ نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2020 اور سنہ 2040 کے درمیان چینی بحریہ کے جہازوں کی کل تعداد میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو گا۔
غیر یقینی مستقبل
کیا چین عدم تصادم سے ہٹ کر مزید دھمکی آمیز مؤقف کی طرف بڑھ رہا ہے؟
ڈاکٹر لیونی کا کہنا ہے کہ ابھی بھی چین کا مؤقف ’لڑے بغیر جیت‘ حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں کسی وقت اس حکمت عملی کو تبدیل کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’مکمل طور پر جدید بحری طاقت بننا اس کا ایک اہم پیش خیمہ ہو سکتا ہے‘۔
لیکن سینئیر کرنل ژاؤ کا اصرار ہے کہ مغربی خدشات بے بنیاد ہیں۔
ان کے مطابق ’چین، امریکہ کے برعکس دنیا کی تھانیداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ’یہاں تک کہ اگر چین ایک دن بہت زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے، تو وہ اپنی بنیادی پالیسیوں کو برقرار رکھے گا‘۔
واضح رہے کہ چین نے ویتنام کے ساتھ آخری جنگ سنہ 1979 میں لڑی تھی۔ اس لیے چین کی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں اب تک آزمائی نہیں گئی ہیں۔
مغرب اور چین دونوں میں بہت سے لوگ امید کریں گے کہ معاملہ ایسا ہی رہے۔
گرافکس بشکریہ: سینڈرا روڈریگیز چلیڈا، جوائے روکساس اور شان ولموٹ