بنگلہ دیش کے 50 سال: جب ’ادھر ہم، ادھر تم‘ کی باتیں ہو رہی تھیں تو نیوز روم میں کیا ماحول تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برصغیر کی تقسیم کے بعد سے ہی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں متعدد وجوہات کی بنا پر اختلافات نے جنم لیا۔ زبان، ثقافت، معاشی، سماجی اور سیاسی معاملات میں امتیازی سلوک روا رکھنے پر پاکستان کے دونوں حصوں میں خلیج برطانیہ سےآزادی ملنے کے فوراً بعد ہی بڑھتی چلی گئی۔
لیکن 1970 کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کو واضح اور بھاری اکثریت کے بعد بھی اقتدار نہ ملنے کے بعد مشرقی پاکستان کی جانب سے علیحدگی کی جنگ شروع ہو گئی جس کا اختتام 16 دسمبر کو ڈھاکہ کے رمنا ریس کورس گراؤنڈ پر ہوا جب پاکستان کی جانب سے شکست تسلیم کر لی گئی۔
بی بی سی نے اس دور میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں بطور صحافی کام کرنے والے تین صحافیوں سے مشترکہ پاکستان کے آخری چند سالوں، اور بالخصوص مارچ 1971 سے لے کر دسمبر 1971 میں ہونے والی جنگ کے دوران نیوز روم کے واقعات کے احوال اور اس دور سے منسلک ان کی اپنی یادوں کے بارے میں گفتگو کی۔
ان تین ایسے صحافیوں سے جو 1971 میں مختلف نیوز رومز میں کام کر رہے تھے اور ان سے جاننے کی کوشش کی کہ اس وقت کس طرح کا ماحول تھا اور انھیں کس قسم کے دباؤ کا سامنا تھا۔
دسمبر 1971 کے دوران فریدہ حفیظ لاہور میں مشرق اخبار کے لیے صحافت کر رہی تھیں جبکہ ناصر زیدی اس وقت ملتان سے نکلنے والے نوائے ملتان کے لیے کام کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ صحافی علی احمد خان ڈھاکہ میں ایک ہفتہ وار جریدے اور وہاں کی ایک مقامی نیوز ایجنسی میں کام کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہNot Specified
علی احمد خان
اس زمانے میں مشرقی پاکستان میں تھا اور میرا تعلق مغربی پاکستان سے بھی رہا تھا۔ میں بحیثیت طالب علم کراچی یونیورسٹی میں رہا تھا اور نیوز ایجنسی پی پی آئی میں کچھ دن کام کیا۔ میرے سارے دوست بھی صحافت سے ہی وابستہ تھے، سکول میں تھے یا سیاستدان تھے اور میں مشرقی پاکستان میں تھا۔
اس وقت میری عمر 31 برس کے قریب ہو گی۔ ہم لوگ اردو کا ایک ہفتہ وار جریدہ الجزیرہ نکالتے تھے۔ ہماری کوشش تھی کہ بنگالیوں کے جو حقوق ہیں، ان کی بنیاد پر اردو جاننے والے اور اردو پڑھنے والے لوگوں میں ایک بیداری پیدا کی جائے، یہ ہمارا مقصد تھا۔
اس کے علاوہ ایک مشرقی نیوز ایجنسی تھی جس کے لیے مغربی پاکستان کے اخبارات سے خبریں لے کر ان کا انگریزی میں ترجمہ کر کے اس ایجنسی کے ذریعے شائع ہوتا تھا۔ بڑی دلچسپ خبریں بھی ہوتی تھیں اس میں اور بڑی متنازع خبریں بھی ہوتی تھیں کہ مغربی پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔

جیسا کہ عام طور سے پاکستان میں ہوتا ہے کہ جب ایک صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سینسرشپ لگ جاتی ہے، اخبارات کو اس بات کا خیال کرنا پڑتا ہے کہ ایسی خبر نہ ہو جو اہل اقتدار کو ناگوار گزرے۔ اس زمانے میں کیونکہ مارشل لا تھا یحیی خان کا تو اس میں ایک طرح کی پابندی تھی کہ بہت زیادہ حکومت مخالف خبریں نہ ہوں۔
لیکن جو گورنمنٹ چل رہی تھی مشرقی پاکستان میں، وہ پوری کی پوری ’حکومت مخالف‘ ہی چل رہی تھی۔ چھ نکات کا مسئلہ چل رہا تھا، پھر طلبہ کے 11 نکات کا مسئلہ چل رہا تھا، ٹریڈ یونین بڑی فعال ہوئی تھیں: یہ خبریں عام طور پر اخبارات میں اس طرح سے نہیں چھپتی تھیں یا اس جذبے کے ساتھ نہیں چھپتی تھیں جس کہ ساتھ چھپنی چاہییں تھی۔
ہم ایک خبر کو نرم کر کے چھاپتے تھے، ایسا کر کے کہ یہ ناگوار خاطر نہ ہو۔ اس کی جو شدت تھی یا جو لوگوں کے جذبات کا اظہار ہونا چاہیے تھے، اس کے بجائے ہم اس کو تھوڑا نرم کرتے تھے، ملاوٹ کرتے تھے۔
لیکن تحریک آپ کی خبروں محتاج نہیں ہوتی۔ وہ تو پھر چلتی ہے۔ اور اگر اس کو خبروں میں مناسب جگہ نہ دیں تو اس میں جو شدت آتی ہے۔
جو اصل صورتحال تھی ، وہ سامنے نہیں آ رہی تھی۔ ہم بحیثیت صحافی بھی یہ محسوس کرتے تھے اور بحیثیت شہری بھی۔
نیوز روم میں یہ ہوتا تھا کہ صحافی نے خبر لا کر دی تو سب ایڈیٹر بیٹھ کہ اس کو قارئین، حکمرانوں اور افسروں کے لیے قابل قبول بناتا تھا۔
پاکستان آبزرور، جو اب بنگلہ دیش آبزرور ہے، کے چیف رپورٹر ہوتے تھے عطا الصمد۔ انھوں نے خبر بنائی، سب ایڈیٹر نے اس کو کاٹ پیٹ دیا۔ اب وہ ہر ایک کو دکھاتے پھرتے تھے کہ بھئی ہماری خبر۔۔۔ جو چیف سب ایڈیٹر تھے انھوں نے بھی کہاں کہ ’ہاں، بس ٹھیک ہے، یہ اسی شکل میں جا سکتی ہے۔‘
مثال کے طور پر ایک خبر تھی جس میں لکھا تھا کہ مجیب الرحمان نے حکومت سے درخواست کی کہ فلاں افسر جو مغربی پاکستان سے یہاں تعینات ہیں، ان کو واپس بلایا جائے۔ یہ خبر مغربی پاکستان کے کسی اردو اخبار میں چھپی تھی۔ ہم نے ترجمہ کر کے دیا اور وہ اخباروں میں شائع ہو گئی۔
پھر مجیب الرحمان نے پریس کانفرنس کی اور اس میں بڑی شدت سے اس خبر کی مخالفت کی کہ ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کی اور ہم نے کوئی ایسی درخواست بھی نہیں کی اور یہ بدگمانی پیدا کرنے کے لیے یہ خبر شائع کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے مدیر سراج حسین، جو کہ ایک زمانے میں پاکستان ٹائمز کے وہاں نامہ نگار تھے، انھوں نے ہم سے پوچھا۔ ہم نے کہا کہ یہ خبر ہم نے ترجمہ کر کے دی ہے، خبر تو یہی ہے، فلاں اخبار میں چھپی ہے۔
سینسر لگا ہوا تھا۔۔۔ خبریں ہی ایسی کرنی پڑتی تھیں کہ وہ ارباب اختیار کو قابل قبول ہوں۔ بجائے اس کے کہ ہم اپنے قاری کے لیے خبریں بناتے، ہم کوشش یہ کرتے تھے کہ خبریں ایسی بنائیں کہ وہ کسی طرح وہ بات کہہ بھی دیں اور وہ قابل قبول بھی ہوں۔
میں نہیں جانتا کہ اُس زمانے میں مغربی پاکستان میں کیا صورتحال تھی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسی ہی صورتحال تھی۔ نتیجہ یہ تھا کہ یہاں کہ لوگ وہاں کے بارے میں نہیں جانتے تھے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور وہاں کہ لوگ یہاں کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔۔۔ ایک طرح کا خلا تھا دونوں کے درمیان۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جس طرح سے سینسر شپ اس ملک میں رہی ہے، اس کے نتیجے میں صحیح صورتحال سامنے نہیں آ سکی۔ اس کا نتیجہ تھا غلط فہمیاں۔۔۔ یہ ایک بڑتی تکلیف دہ اور ناخوشگوار صورتحال تھی اور اس کے نتائج بھی بڑے ناخوشگوار نکلے۔
ہم خبر دیتے تو وہاں جو افسر ہوتے تھے یا پبلک ریلیشنز کے لوگ، وہ اس خبر کو دبا لیتے تھے اور ہمارے اخبار کے لوگوں کی بھی یہی سوچ ہوتی تھی کہ اس طرح سے اگر خبر گئی تو یہ نہیں چھپے گی، تو وہ بھی اس کو ہلکا کر دیتے تھے۔
مثال کے طور پر جب خبر آئی کہ سرحدی قصبے جیسور میں انڈین فوج آ گئی ہے، یا یہ کہ وہاں سے پاکستانی فوجیں پیچھے ہٹ گئیں۔۔۔ تو پاکستان ریڈیو سے خبر گئی کہ یہ غلط ہے اور ہمارے فوجی لڑ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ خبر جو بی بی سی نے کی تھی، وہ سن کر لوگوں نے بھی کہا کہ ریڈیو پاکستان ایسے کہہ رہا ہے اور بی بی سی کی یہ خبر چل رہی ہے۔
پھر وہاں سے غیر ملکی نامہ نگاروں کو نکال دیا گیا۔ یعنی جس دن ہتھیار ڈالے گئے، اس دن ریڈیو پاکستان کی خبر یہ تھی کہ وہاں سے جو خبریں آ رہی ہیں، وہ ذرا مایوس کن ہیں۔ یہ نہیں تھا کہ سرنڈر ہو رہا ہے یا سرنڈر ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فریدہ حفیظ
جب 71 کی جنگ ہوئی تو میری عمر 29 برس تھی اور میں مشرق اخبار کے لیے خواتین کی ڈائری لکھتی تھی۔ کبھی کبھی میں اس قسم کی خبریں بھی لکھتی تھی۔
رپورٹنگ میں مجھے کبھئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لوگ بڑی عزت دیتے تھے۔ ہمارے اخبار نے ایک نیا رجحان قائم کیا تھا جو اس وقت اخباروں میں نہیں تھا، مشرق میں خواتین کے لیے صفحہ تھا، طلبہ کے لیے صفحہ تھا، ہر کسی کو اہمیت دی گئی تھی اور وہ بڑے شوق سے پڑھا جاتا تھا۔
اس وقت لوگ افسردہ تھے لیکن مجھے رپورٹنگ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ خواتین رپورٹرز تھیں ہی کتنی؟ ایک پاکستان ٹائمز میں ہوتی تھیں، ایک میں تھی، نوائے وقت میں دو تھیں، تو آئی ایس پی آر والے ہمیں بعد میں لے کر گئے۔
جب مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے اور تقریریں شروع ہوئیں، ’ادھر ہم، ادھر تم‘ کی باتیں ہوئیں تو ہم نے سنا کہ فوجی کارروائی ہونے والی ہے۔
یحییٰ خان نے ڈھاکہ میں فوجی ایکشن کا شاید 25 مارچ کو فیصلہ کیا تھا۔ یقین نہیں آتا تھا۔۔۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز پر تقسیم ہوتی ہے۔ ہماری فوج کا اپنے لوگوں کے ساتھ لڑنے کا جو خیال تھا، وہ لوگوں کو پسند نہیں تھا۔

میں اس وقت خواتین کے لیے زیادہ لکھتی تھی۔ اس سے پہلے 1965 کی جنگ میں ہم بھگت چکے تھے لیکن اس بار ماحول بالکل فرق تھا اور جوش اور جذبہ اور جو قربانی کے لیے لوگ پہلے تیار تھے، اس بار وہ چیز نہیں تھی۔ سوگوار ماحول تھا اور اضطراب بہت تھا کہ اب کیا ہوگا۔
اصل میں ذہنی طور پر کوئی تیار ہی نہیں تھا کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو جائے گا۔ لیکن مجھے حیرت بھی نہیں ہے کہ ایسا ہوا۔
فوج نے اپنا ایکشن شروع کیا اور خبریں آنے لگیں کہ پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ شاید دسمبر 1971 کے شروع کی بات ہے کہ خبر آئی کہ انڈیا نے لاہور پر حملہ کر دیا ہے۔
تو جب جنگ ہوئی اور اس کے بعد ایک دم سے سناٹا چھا گیا۔ ہتھیار ڈالنے کی خبریں آنے لگیں۔ رات کے کوئی ڈیڑھ بجے تھے، ہمارا گھر نسبت روڈ پر تھا اور سڑک کے پار مشرق کا دفتر تھا۔
ہم دفتر گئے تو لوگ بڑے اداس بیٹھے ہوئے تھے، رو رہے تھے۔ میں اپنے نیوز روم کی بات کر رہی ہوں، اس وقت نیوز روم میں سب کھڑکیاں بند تھیں اور ایک ہی کمرہ تھا جس میں سب بیٹھے ہوئے ہوتے تھے اور وہاں ٹیلی پرنٹرز ہوتے تھے۔
دیکھیں، صحافیوں کو علم ہوتا ہے۔ چاہے وہ کتنا ہی جذباتی ہو، کوئی نظریہ بھی رکھتا ہو، دائیں بازو کا ہو یہ بائیں بازو کا لیکن جب ملک پر آفت آ پڑتی ہے اور کوئی غلط بات ہو رہی ہوتی ہے، میرا نہیں خیال کہ کسی نے اس بات کی حمایت کی ہوگی۔ اخباروں میں بہت پریشان کن ماحول تھا اور میں نے لوگوں کو روتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
جب جنگ شروع ہوئی تو لوگ کہہ رہے تھے کہ بارڈر پر چیزیں لے کر جاتے ہیں، سگریٹ کھانا پینا وغیرہ۔۔۔ میں بھی کہتی تھی کہ ہمیں بھی جانا چاہتے ہیں لیکن ہمیں کوئی جانے نہیں دے رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
میں ایک دن دفتر میں تھی تو وہاں اکاؤنٹننٹ تھے۔ ان کے کوئی دوست آئے تو انھوں نے کہا کہ ہم سرحد پر جا رہے ہیں فیروز پور والے راستے اور ہمارے ساتھ کیمرا مین بھیج دو۔ میں نے کہا کہ مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔ ہمارے مدیر نے پہلے تو منع کر دیا لیکن بعد میں کہا کہ اپنے رِسک پر خود جاؤ۔
وہاں پر فوجی بڑے حیران ہوئے اور کہا کہ یہاں تک نہیں آنا چاہیے تھا، فائرنگ بھی ہو رہی ہے اور جہاز بھی آ رہے ہیں۔
وہ یہ کہہ ہی رہے تھے کہ جہاز آئے اور ہم سارے خندقوں میں بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد آواز آئی کہ باہر آ جائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
باہر آئے تو انھوں نے کہا کہ اب آپ لوگ آ گئے ہیں تو ہم آپ کو گھما پھرا دیتے ہیں۔ تھوڑا آگے گئے تو ایک لاش پڑی ہوئی تھی، چھوٹے سے قد کی، اس کے سر پر ٹوپی تھی۔ فوجی نے کہا کہ یہ درخت پر چڑھ کر اشارے کر رہا تھا اور دشمن کو بتاتا تھا کہ کہاں فائر کرنا ہے، تو اس کو گولی مار دی۔
اس کے بعد ہم کھیم کرن کے علاقے آئے تو وہاں چوکی پر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ وہاں ان کے برتن پڑے ہوئے تھے، پتیلے پڑے ہوئے تھے، ہم نے وہاں تصویریں وغیرہ بنوائیں، افسوس کہ اب وہ تصویریں نہیں ہیں۔
اس طرح وہ سب کچھ دیکھ کر ہم واپس آ گئے۔ دفتر میں جب ہم نے ایڈیٹر کو بتایا تو انھوں نے کہا بیٹھ کر سب لکھو تو میں نے پورے صفحے کا مضمون لکھا جو کہ ایڈیٹوریل پیج پر تصاویر وغیرہ کے ساتھ شائع ہوا۔
جب وہ شائع ہوا تو سارے اخباروں میں تھر تھلی مچ گئی، سب نے پوچھا کہ یہ کیسے ہو گیا۔
ہوا اصل میں یہ کہ ہمارے آنے کے بعد سارے لوگ اپنے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں گئے۔ اس وقت آئی ایس پی آر نے پوچھا کہ یہ کیسے اور کیوں چلے گئے، شہریوں کو وہاں نہیں جانا چاہیے، خاص طور پر صحافیوں کو تو بالکل نہیں جانا چاہیے۔
تو اس کے بعد انھوں نے پھر فیروز پور روڈ پر فوج کھڑی کر دی اور اسے عام لوگوں کے لیے بھی بند کر دیگ۔ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی گئے لیکن ان کو بھی روک لیا گیا۔ بہت شور مچا، میں بس خوش قسمت تھی کہ میں گئی اور تفصیلات لائی وہاں سے۔
لوگوں نے 65 کا ماحول بنانے کی بہت کوشش کی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ لوگ شہیدوں کی ماؤں کو بلاتے اور قومی نغمے وغیرہ گاتے۔ جو کام حکومت کو کرنے چاہیے تھے، ان کی توجہ کہیں اور تھی۔
ناصر زیدی
جس زمانے میں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا اس وقت میں نوائے ملتان میں، جو شام کا اخبار تھا، بطور رپورٹر کام کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک ہفتہ وار کراچی سے نکلتا تھا الفتح، اس میں فیچر رائٹر تھا۔
16 دسمبر کو، یحیی خان ایک دن پہلے قومی براڈکاسٹ پر آتے ہیں اور بڑا واضح اعلان کرتے ہیں کہ ہم آخری دم تک لڑیں گے۔
لیکن 16 دسمبر کو سرنڈر کے کاغذات پر دسخط ہو چکے تھے، جنرل نیازی وہ سائن کر چکے تھے۔ مشرقی پاکستان میں فوج نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور دشمن فتح کا اعلان کر چکا تھا۔
16 دسمبر کی رات کو ہمیں پتہ چل گیا تھا، بی بی سی نے سب کچھ بتا دیا تھا۔ لیکن 17 دسمبر کے اخبار میں وہ خبر ہی نہیں تھی۔

اس وقت میری کیفیت یہ تھی کہ مجھے یہ پیشہ ہی چھوڑ دینا چاہیے، کوئی فائدہ نہیں اس صورتحال کا کہ ہم عوام کو اطلاع دینا چاہتے ہیں لیکن ہم جو ترسیل دینے والے ہیں وہ لوگوں کو یہ نہ بتا سکے کہ ایک ملک کا حصہ ہم سے جدا ہو گیا۔ ہم کٹ چکے ہیں، ہمارا ملک ٹوٹ چکا ہے۔
ہم نیوز روم میں اس وقت موجود تھے جب یہ خبر بی بی سی کے ذریعے ہم نے سنی۔ وہ جو لمحہ تھا اس میں پورے نیوز روم، رپورٹنگ سیکشن اور پریش کے ملازمین جو موجود تھے۔ میں نے بوڑھے لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا اور نوجوان سکتے کی کیفیت میں تھے، کسی سے گفتگو نہیں کر رہے تھے۔
لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ایک طرف ہیڈ لاین نیوز آ رہی ہیں، ایک طرف جوش اور جذبے کی باتیں ہو رہی ہیں، نغمے گائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف یک لخت خبر آتی ہے۔۔۔ وہ بھی اپنے براڈکاسٹ سے نہیں، اپنے اخبارات سے نہیں پتہ چلتا۔ دنیا کے اخبارات، دنیا کے ریڈیو کہہ رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا ہے۔
جب مارچ میں فوجی آپریشن ہوا تو ہم اس زمانے میں ملتان یونین آف جرنلسٹس کے کارکن تھے۔ اس وقت ہم نے ملتان جیسے دور دراز علاقے میں احتجاج کیا اور ہم نے کہا کہ فوجی آپریشن حل نہیں۔
آپ کو معلوم ہے کہ پاسکتان میں آزادی صحافت پر ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہا ہے۔۔۔ 1947 سے لے کر اب تک آزادی صحافت پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
ایسے قوانین بنائے گئے، سینسرشپ کو سخت ترین کیا گیا، ایوب خان اور یحیی خان کا دور پریس پر پابندیوں کے حوالے سے بدترین تھا۔ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈننس ایوب کے زمانے میں لایا گیا۔ اس وقت صرف پرنٹ میڈیا ہوتا تھا، باقی براڈکاسٹ میڈیا سرکاری میڈیا ہوتا تھا، تو اس قانون کے تحت پرنٹ میڈیا پر ’ایڈواس‘ پر عمل کرنا لازمی تھا۔
مزید پڑھیے
اس لیے مشرقی پاکستان میں مارچ 1971 میں جب آپریشن شروع ہوا، 16 دسمبر تک پاکستان کے عوام کو یک طرفہ کہانیاں بتائی جاتی رہیں۔
مجھے اس زمانے کا پتا ہے کہ ہم لوگ ہمیشہ رات کو بی بی سی لگاتے تھے اور بی بی سی پر اتنا اعتماد تھا لوگوں کو۔۔۔ کہ مشرقی پاکستان میں اصل صورتحال کیا ہے۔ اصل حقائق ہمیں باہر کا میڈیا دے رہا تھا، ہمیں اندر کی خبر نہیں مل رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہDaily Nawa-e-Waqt
ایسا سخت قسم کی سینسرشپ نافذ ہوئی اور ایڈوائس کا سلسلہ شروع ہوا کہ خبردار کسی قسم کی کوئی بھی خبر نہیں جانی چاہیے جس سے ’مورال ڈاؤن‘ ہو۔
تو یہ جو مورال کو اپ کرنے کی مصنوعی کوششیں تھیں۔۔۔ دل انھیں نہیں مانتا تھا۔ میں بار بار لکھتا، بار بار لوگوں کے جذبات نوٹ کرتا۔ میں فی البدیہہ گلیوں اور سڑکوں میں جا کر لوگوں سے انٹرویو کیے کہ یہ کیا ہوا۔ لیکن جو لوگوں کے جذبات تھے، جو حقیقت تھی وہ میں لکھ نہیں پاتا تھا۔ بار بار میرے سے قلم گر جاتا۔
میرے محلے میں ایک بوڑھی خاتون رہتی تھیں۔۔۔ وہ سماجی کار کن تھیں۔ وہ میرے گھر آئیں اور کہا ’سنا ہے بیٹا، پاکستان ٹوٹ گیا۔ یہ کیسے ہو گیا؟‘ اور رونا شروع کر دیا۔
ان کے جذبات بھی امڈ آئے۔ ’ہم تو لٹے پھٹے آئے تھے وہاں سے، ہم نے تو ایک خواب دیکھا تھا۔ یہ مسلمانوں کا ملک۔۔۔ یہ کیسے ہو گیا، بتاؤ ہمیں۔‘
اس خاتون کے جذبات اور جس طرح وہ زاروقطار رو رہی تھیں، آج تک میرے ذہن سے نہیں جاتے۔






