انڈیا پاکستان جنگ 1971: جب پاکستانی ٹینکوں کو نشانہ بناتے ہوئے انڈین پائلٹ خود نشانہ بن گیا

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ گذشتہ برس نومبر میں شائع کی گئی تھی، جسے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

چار دسمبر 1971 کو 101 سکواڈرن کے فلائٹ لیفٹیننٹ گردیپ سنگھ سمرا صبح چار بجے آدم پور ایئربیس پر موسمی بریفنگ لینے کے لیے اٹھے۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ رات بھر سو سکے ہوں کیونکہ ایک دن پہلے ہی پاکستانی طیاروں نے انڈین ٹھکانوں پر حملہ کر کے جنگ شروع کر دی تھی۔

گردیپ سنگھ سمرا نے صبح تقریباً 9.15 بجے آدم پور ایئربیس سے اپنے سخوئی-7 طیارے میں اڑان بھری۔ انھیں چھمب سیکٹر میں بڑھتے ہوئے پاکستانی ٹینکوں کو تباہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

گردیپ سنگھ کی شادی صرف دو ماہ قبل منیندر کور سے ہوئی تھی۔ جب اُنھوں نے پاکستانی ٹینکوں پر اپنی 57 ایم ایم گن سے فائر کیے تو انھیں اپنے طیارے کے نچلے حصے سے کسی چیز کے ٹکرانے کی آواز آئی۔ یہ وہ گولے تھے جو نیچے سے طیارہ شکن بندوقوں سے فائر کیے گئے تھے۔

اچانک کاک پٹ میں کئی سرخ روشنیاں چمکنے لگیں اور سیٹ کے سامنے والا میٹر بتانے لگا کہ ان کے انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

اس وقت وہ جس سمت میں اڑ رہے تھے، ان کا طیارہ انھیں پاکستان کی حدود میں لے جا رہا تھا، لیکن اُنھوں نے عقلمندی سے اپنے طیارے کا رخ انڈیا کی سرحد کی طرف موڑ دیا۔

انھوں نے اپنے طیارے کو بہت اونچا کر لیا تاکہ وہ جہاں تک ہو سکے انڈیا کی سرحد کی طرف لوٹے۔ اگر وہ فوراً ایجکٹ کر جاتے تو تو پاکستانی سرزمین میں گرتے اور وہ جنگی قیدی بن جاتے۔

گروپ کیپٹن گردیپ سنگھ سمرا یاد کرتے ہیں، ‘میں ایک طرف ریڈیو کے ذریعے اپنی ہنگامی صورتحال سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دوسری طرف میں اپنے طیارے کے انجن کو دوبارہ سٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ میں اپنے طیارے کو قریب ہی واقع پٹھان کوٹ ایئربیس تک لے جا سکوں اور ہنگامی لینڈنگ کر سکوں۔‘

وہ کہتے ہیں، ‘میں نے 'مے ڈے کال‘ (جان کو خطرہ ہونے کی صورت میں ہنگامی کال) کرنے کی بھی کوشش کی لیکن یہ کامیاب نہیں ہوئی۔ اچانک میرا جہاز اب اتنی اونچائی پر تھا جتنے اونچے عام درخت ہوتے ہیں۔

’میں نے یہ سوچ کر دونوں ایجیکشن بٹن دبائے کہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ جیسے ہی بٹن دبایا، چند سیکنڈ کے لیے میرا ذہن خیالات سے بالکل خالی ہو گیا۔ اس وقت میٹر میری رفتار تقریباً صفر دکھا رہا تھا۔ اور وقت دن کے دس بجے کا تھا۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

پیراشوٹ آگ کی لپیٹ میں

گردیپ سنگھ سمرا جیسے ہی پیرا شوٹ سے نیچے گرے، ان کا طیارہ بھی زمین پر گر کر تباہ ہوگیا۔

گردیپ سنگھ تباہ ہونے والے طیارے سے اٹھنے والے شعلوں میں گھرے ہوئے تھے، اس لیے وہ یہ نہیں دیکھ پا رہے تھے کہ اس کا پیرا شوٹ کہاں اترنے والا ہے۔

یہ علاقہ ایک طرح کا ’نو مینز لینڈ‘ تھا یعنی وہ جگہ جس پر کسی ملک کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ گردیپ کہتے ہیں، ‘اسی وقت میرے کپڑوں میں آگ لگ گئی۔ میرا چہرہ اتنا گرم ہو رہا تھا کہ میری بھنویں جل گئیں۔ میں نے ایجیکٹ اتنا نیچے آ کر کیا تھا کہ میں اپنی ٹانگوں کو لینڈنگ کے لیے تیار ہی نہ کر سکا۔‘

وہ کہتے پیں ‘تیز شعلوں اور گرمی کی وجہ سے میرا پیرا شوٹ الجھ گیا اور میں اس تیزی سے زمین پر گرا جیسے آسمان سے پتھر گرتا ہے۔ جیسے ہی میں چاروں طرف پھیلی ہوئی آگ کے درمیان گرا، میں نے کھڑے ہو کر محفوظ مقام پر جانے کی کوشش کی لیکن تب ہی مجھے معلوم ہوا کہ میری ٹانگ کی ہڈی کئی جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔ میں چل بھی نہیں سکتا تھا اور اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

ایمبولینس 150 میٹر دور نظر آئی

گردیپ سنگھ بہت تکلیف میں تھے اور آگ سے بچنے کے لیے فوراً کچھ کرنا پڑا۔ پھر طیارے میں رکھے بم پھٹنے لگے لیکن خوش قسمتی سے ان کا رخ دوسری طرف تھا۔

اس سے بڑھ کر کیا ستم ظریفی ہوتی کہ اتنے خطرناک طریقے سے ایجیکٹ کرنے کے بعد گردیپ اپنے ہی ہتھیاروں کا نشانہ بن جاتے۔ گردیپ نے اپنا ماسک اتارا اور ملبے سے دور اپنے پیچھے درختوں کی طرف لپکے۔ انھیں پیاس لگی تھی۔ وہ پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔ تقریباً 15 یا 20 منٹ کے بعد انھوں نے ایک ایمبولینس کو آتے دیکھا۔

گردیپ سنگھ یاد کرتے ہیں ‘وہ ایمبولینس مجھ سے تقریباً 150 میٹر دور تھی۔ لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ ایمبولینس ہمارے ملک کی ہے یا پاکستان کی ہے۔ زخمی ہونے اور چلنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اپنی حفاظت کے لیے کسی اور پر انحصار کرنا پڑا، خواہ میرا دشمن ہو یا دوست۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ اور سوچتا وہ ایمبولینس میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ میں سمجھ نہیں پایا کہ کیا ہوا۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

ولیز جیپ جائے وقوعہ پر پہنچی

اسی دوران گردیپ سنگھ سوچنے لگے کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے؟ انھوں نے سوچا کہ انھیں پائلٹ کے پورے جسم کو ڈھانپنے والا اپنا لباس جلتی ہوئی آگ میں پھینک دینا چاہیے، کیونکہ اُنھوں نے اس کے نیچے سول کپڑے پہن رکھے تھے۔

ان کے پاس اپنے بال کاٹنے کے لیے ایک قینچی اور ضرورت پڑنے پر کچھ پاکستانی کرنسی بھی تھی۔

تقریباً 45 منٹ کے بعد انھوں نے ایک اور گاڑی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ یہ ایک ولیز جیپ تھی۔

گردیپ بتاتے ہیں ‘مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ واقعی ایک ایمبولینس آئی تھی اور اس میں موجود لوگ یہ سوچ کر واپس چلے گئے کہ آگ کے شعلے اتنے زیادہ ہیں کہ وہاں کسی کے زندہ بچنے کی امید نہیں تھی۔

’چھوٹی گاڑی ہونے کی وجہ سے وہ جیپ بالکل میرے پاس آئی میں نے سیٹی بجا کر اور ہاتھ ہلا کر ان کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔ تھوڑی دیر بعد کچھ سپاہیوں نے مجھے گھیر لیا۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

‘نقشے اور اپنا ریوالور ہمیں دو‘

گردیپ بتاتے ہیں ‘ان کی رائفلیں میری طرف تھیں۔ یہ بالکل ہالی وڈ فلم کے سین جیسا تھا۔ چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے مگر مجھے لگا کہ وقت رک گیا ہے۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ ہاں ٹینکوں کی فائرنگ کی آوازیں دور دور تک سنی جا سکتی تھیں۔‘

‘اسی وقت سپاہیوں کے کیپٹن نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے جواب دیا، میں انڈین ہوں۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی تاثر تھا اور نہ ہی مسکراہٹ۔ اچانک ان میں سے ایک نے کہا کیا تمہارے پاس کوئی ہتھیار ہے؟ اگر ہے تو اسے پھینک دو۔ میں نے یہی کیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

‘اس کے بعد انھوں نے مجھ سے نقشے، دیگر دستاویزات اور کوڈ الفاظ مانگے۔ میں نے سب کچھ اس کے حوالے کر دیا۔ لیکن اس کے بعد بھی جب ان کی طرف سے مجھے بچانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی تو میں تھوڑا پریشان ہو گیا۔ میں نے اس بریگیڈ کا نام بتایا جس کی مدد کے لیے ہم روانہ ہوئے تھے۔ پھر میں نے اس سے وہ سوال کیا جو مجھے کافی دیر سے پریشان کر رہا تھا۔ 'تم لوگ کون ہو؟' تھوڑی دیر بعد کپتان کا جواب آیا ہم انڈین ہیں۔‘

گردیپ سنگھ کو زیر زمین بنکر میں رکھا گیا

تھوڑی دیر بعد گردیپ کو انڈین فوجیوں نے اٹھا کر اس چھوٹی جیپ میں لاد دیا۔ ‘جن لوگوں کو ولیز جیپ کے سائز کا اندازہ ہے، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک جیپ جس میں تین لوگ ہوں اور اوپر سے ایک مریض اس میں پڑا ہے اور اس کی ٹانگیں تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں، وہ کیسا محسوس کر رہا ہوگا؟‘

گردیپ نے اسی تکلیف میں اس سے پوچھا کہ ’تم ایمبولینس کیوں نہیں بلاتے؟ اس کے بعد کیپٹن نے کچھ فاصلے پر کھڑے پاکستانی ٹینکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے، کیونکہ یہ ٹینک ہمیں نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔‘

گردیپ کو جیپ کے ذریعے کچھ دور لے جایا گیا اور پھر ایک زیر زمین بنکر میں ڈال دیا گیا۔ وہ بنکر ایک درخت کے ساتھ تھا، جہاں ایک انڈین ٹینک کھڑا تھا اور کبھی کبھار پاکستانی ٹینکوں پر فائرنگ کر رہا تھا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ پاکستانی ٹینکوں نے اسے اپنا نشانہ نہیں بنایا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGuldeep Singh

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

تاہم گردیپ کی پریشانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ ٹینک کے فائر ہوتے ہی اردگرد کی زمین زور سے لرزنے لگتی اور گرد و غبار پھیل جاتا۔ بنکر کے اندر میڈیکل کور کا ایک سپاہی زخمیوں کی مدد کے لیے بھاگ رہا تھا۔

شام کو گردیپ کو کچھ زخمی فوجیوں کے ساتھ ایمبولینس میں ڈال کر جوڑیاں کے فیلڈ ہسپتال لے جایا گیا۔ جب ہم ہسپتال پہنچے تو رات کے نو بج چکے تھے۔ لیکن اس ہسپتال میں ایکسرے مشین نہیں تھی۔ تاہم وہاں موجود ڈاکٹروں نے اوپر سے دیکھنے کے بعد گردیپ کو بتایا کہ اس کی ایک ٹانگ کی ہڈی تین جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔

دوسری جانب ہریکین لیمپ کی روشنی میں گردیپ کی ٹانگ پر بغیر سن کیے یا بے ہوشی کی دوا دیے پلستر لگا دیا گیا۔ اسے اتنا مضبوطی سے پلستر کیا گیا تھا کہ اس کا درد پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا تھا۔

پاکستانی طیاروں کے حملے

پانچ دسمبر کی صبح تک گردیپ کو ’جنگی محاذ پر لاپتہ‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ آدم پور ایئربیس سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ گردیپ کے ساتھی اُن کے بارے میں کسی اطلاع کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔

پورا دن گزر جانے کے بعد رات کو گردیپ کو اطلاع ملی کہ ایک MI-4 ہیلی کاپٹر آئے گا اور انھیں دیگر زخمیوں کے ساتھ آدم پور کے ہسپتال لے جائے گا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

‘ہم وہاں چار زخمی لوگ تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہیلی کاپٹر کا انجن بند نہیں کیا جائے گا۔ جب وہ اترے گا تو زخمی سپاہیوں کو فوراً لے کر واپس لوٹ جائے گا۔ جب ہمیں سٹریچر میں ہیلی کاپٹر میں لے جایا جا رہا تھا تو اسی وقت پاکستانی ایئر فورس کا ایک مگ نائن طیارہ اچانک وہاں آیا اور بم گرانے لگا۔‘

’مجھے نہیں معلوم کہ ہیلی کاپٹر کے روٹرز سے اڑتی دھول دیکھ کر طیارہ وہاں پہنچا یا نہیں۔ لیکن جواب میں انڈین ہیلی کاپٹر نے اپنا انجن بند کر دیا۔ جو سپاہی سٹریچر پر ہمارے ساتھ ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھ رہے تھے، وہ ہمارے سٹریچرز کو کھلے آسمان پر زمین پر چھوڑ کر جان بچانے کے لیے بنکر میں چھپ گئے۔‘

گردیپ بتاتے ہیں کہ ‘اب ہم پاکستانی طیاروں کا براہ راست نشانہ تھے۔ لیکن شاید وہ اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کہ ہم بری طرح زخمی ہیں اور زمین پر بے بس حالت میں پڑے ہیں۔ ہم خوش قسمت تھے کہ انڈین فوج کے ایک افسر نے ہماری مدد کی۔ وہ سٹریچر اٹھائے ہوئے فوجیوں پر چِلّائے۔ اُن کے ڈانٹنے پر سپاہیوں نے ہمارے سٹریچر کو دوبارہ اٹھایا اور نسبتاً محفوظ جگہ پر لے گئے۔‘

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep Singh

آدم پور اور دہلی کے فوجی ہسپتال میں علاج

جیسے ہی پاکستانی حملہ ختم ہوا گردیپ اور دیگر زخمی فوجیوں کو ہیلی کاپٹروں میں لاد کر لے جایا گیا۔ آدم پور کے بیس ہسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد، گردیپ سنگھ کو دہلی کے ایک فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

وہاں ان کا تین ماہ تک علاج ہوتا رہا۔ گردیپ سنگھ نے جنوری 1973 سے دوبارہ جہاز اڑانا شروع کیا۔

وہ 1995 میں گروپ کیپٹن کے عہدے کے ساتھ انڈین فضائیہ سے ریٹائر ہوئے۔ بعد ازاں کارگل جنگ کے دوران اُنھیں کچھ عرصہ انڈین فضائیہ کے ریزرو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع بھی ملا۔ گروپ کیپٹن گردیپ سنگھ سمرا فی الحال جالندھر میں رہتے ہیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGurdeep SIngh