انڈیا کی ریاست بہار میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم 21 ہلاک، کئی ایک کی آنکھوں کی بینائی جانے کی بھی اطلاعات

    • مصنف, سیتو تیواری
    • عہدہ, پٹنہ سے بی بی سی کے لیے

انڈیا میں ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ایک ویڈیو ٹویٹ میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ 'گڑبڑ پیو گے تو اسی طرح جاؤ گے۔ پیجیے گا تو گڑبڑ تو ہو گا ہی۔ جہاں بھی شراب چل رہی ہے وہاں بھی یہ سب گڑبڑ ہوتی رہتی ہے۔ یہ کریں گے تو کوئی بھی گڑبڑ طریقے سے آپ کو پلا دے گا اور چلا جائے گا۔‘

نتیش کمار نے یہ بات ریاست میں جعلی شراب پینے کی وجہ سے ہونے والی حالیہ اموات کے تناظر میں کہی ہے۔

انڈیا کی مشرقی ریاست بہار میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین دنوں میں جعلی شراب پینے سے کم از کم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم صحافیوں اور مقامی شہریوں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

ریاست میں ایکسائز کے وزیر سنیل کمار نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ‘مغربی چمپارن میں زہریلی شراب کی وجہ سے 10 اموات ہوئی ہیں جبکہ گوپال گنج میں اموات کی تعداد 11 بتائی جاتی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد ہی یہ ظاہر ہو گا کہ کیا ان اموات کی وجہ نشہ اور شراب ہے۔ واقعے کے حوالے سے پولیس کے ذریعے متعدد جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مقامی پولیس افسر کو بھی معطل کیا گیا ہے۔‘

گوپال گنج میں ہلاکتوں کا سلسلہ دو نومبر جبکہ مغربی چمپارن میں تین نومبر سے شروع ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق دلت برادری سے ہے۔ ان واقعات میں ہلاکت کے علاوہ آنکھوں کی بینائی جانے کی بھی خبریں ہیں۔

اگست 2016 میں بھی گوپال گنج میں زہریلی شراب پینے سے 19 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور چھ لوگ بینائی سے محروم ہوئے تھے۔

’رات کو منہ سے جھاگ نکلا اور موت ہو گئی‘

ضلع گوپال گنج میں مرنے والوں میں سے ایک شخص کا نام چھوٹے لال تھا۔ وہ اپنے بھائی کے سسرال گئے ہوئے تھے جب وہ دو نومبر کی شام کو واپس گھر پہنچے تو ان کے منہ سے بدبو آ رہی تھی۔ ان کی بہو چندا دیوی کہتی ہیں کہ ‘انھوں نے شراب پی رکھی تھی۔ انھوں نے چادر منگوائی اور اوڑھ کر سو گئے۔‘

‘اس کے بعد وہ اٹھے، انھوں نے کھانا مانگا لیکن کھانے سے انکار کر دیا۔‘ دیوی کے مطابق کچھ دیر بعد انھیں تین سے چار بار الٹیاں ہوئیں اور رات بارہ بجے کے بعد وہ چیخنے لگے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘ان کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ جب میری بھابھی نے مجھے بلایا تو میں نے انھیں پانی پلایا لیکن ان کے منہ سے جھاگ آنے لگی اور وہ آدھے گھنٹے میں ختم ہو گئے۔‘

جن دیہات میں یہ حادثات ہوئے ہیں وہ دریائے گنڈک کے کنارے ہیں۔ ہر سال یہ سیلاب کی زد میں آتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں آبادی کم ہے۔

دریائے گنڈک کے کنارے ہونے کی وجہ سے یہ جغرافیائی لحاظ سے مشکل علاقہ ہے لیکن شراب کا کاروبار کرنے والوں کے لیے کافی مناسب ہے کیونکہ مشکل رسائی والے علاقوں میں حکام کی کارروائیوں کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں شراب آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔

شراب اور انتخابات

بہار میں شراب کے استعمال پر سنہ 2016 میں ریاستی حکومت نے پابندی لگا دی تھی جس کی وجہ سے وہاں شراب صرف غیر قانونی طور پر استعمال ہوتی ہے مگر پھر بھی آسانی سے دستیاب ہے۔

سنہ 2020 کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق بہار میں شراب کا استعمال کئی ان ریاستوں سے زیادہ تھا جن میں شراب کی ممانعت نہیں ہے۔ اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ انڈیا میں شہروں کے مقابلے گاؤں میں شراب کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں بہار کی اکثریتی آبادی دیہات میں رہتی ہے۔

ملک کے دوسرے خطوں کے مقابلے میں یہاں کی عام آبادی کی فی کس آمدنی بھی نسبتاً کم ہے جس کی وجہ سے لوگ سستی یا مقامی شراب کا استعمال کرتے ہیں۔

بہار میں اس وقت پنچایتی انتخابات چل رہے ہیں اور ان دونوں اضلاع میں بھی 29 نومبر کو یہ انتخابات ہونے ہیں۔

بہار الیکشن واچ سے منسلک راجیو کمار کہتے ہیں کہ انتخابات کو متاثر کرنے کا سب سے آسان طریقہ شراب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'سال 2016 میں جو پنچایتی انتخابات ہوئے تھے، وہ پابندی کے فوراً بعد ہوئے تھے، تب بھی بڑے پیمانے پر شراب تقسیم کی گئی تھی۔ ایسے حالات میں آپ ابھی کا اندازہ لگا سکتے ہیں جبکہ انتظامیہ اسے روکنے میں انتہائی ناکام ثابت ہو رہی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ اس بار بھی ہولی کے بعد سے ہی شراب بانٹی جا رہی تھی کیونکہ تب سے انتخابات کی خوشبو آنے لگی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

'تھانے میں سب ملے ہوئے ہیں'

مغربی چمپارن کے جنوبی تلہوا گاؤں میں جہاں کل تک دیوالی کی وجہ سے پورے دن شور تھا، اب خاموشی اور ماتم کا منظر ہے۔ یہاں آس پاس کے گاؤں میں انتظامیہ کے مطابق آٹھ مشتبہ اموات ہوئی ہیں لیکن مقامی صحافیوں اور لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد 16 ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی رشتے دار سارنی دیوی اور پائنپتی دیوی نے پولیس پر اس حوالے سے جان بوجھ کر قانونی کارروائی کر کے جعلی شراب کو نہ روکنے کا الزام لگایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس سٹیشن میں سب ملے ہوئے ہیں۔ سبھی پیسے کھا کر اپنے گھر سو جاتے ہیں۔ ہمارے گھر کے لوگ شراب پی کر آئے تھے۔ شام کو ان کی طبیعت خراب ہوئی اور صبح تک ان کی موت ہو گئی۔‘

مغربی چمپارن کسان سنگھ کے ضلع صدر نند کشور نول بتاتے ہیں کہ کیونکہ یہ پورا علاقہ سیلاب سے متاثر ہے، ’لوگ کشتی اور سائیکل کے ذریعے شراب سپلائی کرتے ہیں۔ یہاں 29 نومبر کو پنچایتی انتخابات ہونے ہیں۔ اس لیے بڑے پیمانے پر شراب تقسیم کی جا رہی ہے۔‘

مقامی لیڈروں نے کیا کہا؟

اس حادثے کے حوالے سے حزب اختلاف کے رہنما تیجسوی یادو نے حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست میں 20 ہزار کروڑ کی غیر قانونی شراب کی سمگلنگ اور مساوی کالی معیشت کے سرغنہ کو سامنے آ کر جواب دینا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ پانچ دن پہلے مظفر پور میں 10، گوپال گنج میں 20 اور بیتیہ میں 13 لوگوں کی موت جعلی شراب پینے سے ہوئی ہے۔

تیجسوی نے الزام لگایا ہے کہ حال ہی میں ہوئے (تاراپور اور کشیشور ستھان کے) ضمنی انتخاب میں بھی ووٹروں میں شراب تقسیم کی گئی تھی۔

انھوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا ایک ویڈیو ٹویٹ کیا جس میں وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ 'گڑبڑ پیو گے تو اسی طرح جاؤ گے۔'

تیجسوی نے نتیش پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ 'محض گذشتہ تین دنوں میں شراب پر پابندی کے بارے میں بڑ بڑ کرنے والوں کے راج میں زہریلی شراب سے 50 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔‘

اسی دوران بہار اسمبلی کے سپیکر وجے کمار سنہا نے ٹویٹ کیا کہ ’گوپال گنج اور بیتیہ میں شراب نوشی سے ہونے والی اموات سے میں حیران اور صدمے میں ہوں۔‘

بہار حکومت میں وزیر اور بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جس کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ زہریلی شراب فروخت کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔