آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آندھراپردیش میں سینیٹائزر اور جعلی شراب پینے سے 38 افراد ہلاک
انڈیا میں جعلی شراب اور سینیٹائزر پینے کے مختلف واقعات میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ نے جالندھر کے ڈویژن کمشنر کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
کچھ اموات مبینہ طور پر امرتسر، بٹالہ اور ترن ترن اضلاع میں شراب کے دھوکے میں پی جانے والے محلول کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
دوسری جانب، آندھراپردیش کے شہر کریچوڈو میں شراب کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے سینیٹائزر پینے کے باعث 10 افراد کی ہلاکت ہو گئی۔
یہ بھت پڑھیے
آندھرا پردیش کا معاملہ
سینئر سٹی پولیس آفیسر سدھارتھ کوشل نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کی دکانیں بند کردی گئیں لیکن ہینڈ سینیٹائزر آسانی سے دستیاب تھا۔
ان کے مطابق متاثرہ افراد نے سینیٹائزر کو پانی اور کولڈ ڈرنکس میں ملا کر پیا۔ اور یہ لوگ موت سے پہلے 10 دن تک اسے پیتے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینیٹائزر پینے والے کچھ افراد کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔ سدھارتھ کوشل کا کہنا تھا کہ مرنے والے کچھ لوگوں کو پہلے سے طبی مسائل کا سامنا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹائزر کی طبی جانچ کے لیے اس کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں کہ آیا اس میں کوئی زہریلا مواد تو نہیں تھا۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے سبب اب تک 35700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پنجاب کا معاملہ
ریاست پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے اس معاملے میں عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مجرموں کو بخشا نہیں جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے پولیس کو ریاست میں چلنے والے یونٹوں میں سرچ آپریشن شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
تحقیقاتی ٹیم میں جالندھر کے ڈویژن کمشنر کے ساتھ جوائنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کمشنر اور متعلقہ ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شامل ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم حقائق اور حالات کا جائزہ لے گی، جس کی وجہ سے ریاست میں اتنا بڑا واقعہ پیش آیا۔
اس معاملے میں پولیس نے اب تک بلوندر کور نامی خاتون کو گرفتار کیا ہے۔
خاتون کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 304 اور ایکسائز ایکٹ کی دفعہ 61/1/14 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی علاقے میں شراب کی جعلی فیکٹریوں کی تلاش کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پہلا مقدمہ امرتسر میں درج کیا گیا تھا جہاں اس معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے۔ چاروں ہلاک ہونے والے افراد جسوندر سنگھ ، کشمیر سنگھ ، کرپال سنگھ اور جسونت سنگھ کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔
اس کیس کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے، پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ 29 جون کی رات امرتسر گاؤں کے ترسکہ تھانے کی حدود میں پانچ واقعات کی اطلاع ملی۔