انڈیا چین سرحدی تنازع: چین اور بھوٹان کے درمیان سرحدی معاہدہ انڈیا کے لیے باعث تشویش کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, راگھویندرراؤ
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، نئی دہلی
چین اور بھوٹان کے وزرائے خارجہ نے جمعرات 14 اکتوبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ایک میٹنگ کی اور دونوں ممالک کے درمیان کئی سالوں سے جاری سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لیے تھری-سٹیپ روڈ میپ معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ معاہدہ ڈوکلام سہ رخی جنکشن پر انڈیا اور چین کی افواج کے درمیان 73 روز تک جاری رہنے والی کشیدگی کے چار سال بعد سامنے آیا ہے۔ ڈوکلام میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب چین نے ایک ایسے علاقے میں سڑک بنانے کی کوشش کی جس پر بھوٹان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کا حصہ ہے۔
اس معاہدے پر انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے کہا: 'ہم نے آج بھوٹان اور چین کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کا نوٹس لیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ بھوٹان اور چین سنہ 1984 سے سرحدی مذاکرات کر رہے ہیں۔ انڈیا بھی اسی طرح چین کے ساتھ سرحدی مذاکرات کر رہا ہے۔'
اس معاملے پر بھوٹان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’تھری-سٹیپ یا تین مرحلے کے روڈ میپ پر ایم او یو سرحدی مذاکرات کو ایک نئی سمت و رفتار فراہم کرے گا۔‘
چین کے ساتھ بھوٹان کی 400 کلومیٹر سے زیادہ لمبی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے 1984 کے بعد سے سرحدی مذاکرات کے 24 دور ہو چکے ہیں۔
انڈیا نے اس معاہدے پر کوئی تفصیلی جواب نہیں دیا ہے لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال سے چین کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے وہ اس پیش رفت کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کی کس علاقے پر نظر ہے؟
جن دو علاقے پر چین اور بھوٹان کے درمیان زیادہ تنازع ہے ان میں سے ایک انڈیا چین بھوٹان ٹرائی جنکشن کے قریب 269 مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے اور دوسرا بھوٹان کے شمال میں 495 مربع کلومیٹر کا جکارلنگ اور پاسم لنگ وادیوں کا علاقہ ہے۔
چین بھوٹان کو 495 مربع کلومیٹر کے علاقے کے عوض 269 مربع کلومیٹر کا علاقہ لینا چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین آرمی کے ریٹائرڈ میجر جنرل ایس بی استھانا سٹرٹیجک امور کے تجزیہ کار ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ چین ہمیشہ کمزور ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے تاکہ وہ ان ممالک کو اپنے معاشی اور عسکری اثر و رسوخ سے متاثر کرے اور اپنے فائدے کے لیے فیصلے کرائے۔
وہ کہتے ہیں: 'بھوٹان کی شمالی سرحد کے جن دو علاقوں پر چین کا دعویٰ ہے، ان میں سے ایک وادی چونبی ہے جس کے قریب ڈوکلام میں انڈیا اور چین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ چین نے بھوٹان سے وادی چونبی کا مطالبہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں اسے ایک اور متنازعہ علاقہ دینے کے لیے تیار ہے جو کہ وادی چونبی کے علاقے سے بہت بڑا ہے۔ چین جو علاقہ مانگ رہا ہے وہ انڈیا کی سلی گوری راہداری کے قریب ہے۔‘
سلی گوری کوریڈور جسے چکنز نیک (مرغی کی گردن) بھی کہا جاتا ہے، وہ انڈیا کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ شمال مشرقی ریاستوں تک پہنچنے کے لیے اہم راستہ فراہم کرتا ہے اور اگر چین سلی گوری کوریڈور کے قریب آ جائے تو یہ انڈیا کے لیے شدید تشویش کا باعث ہو گا۔ شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ رابطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
میجر جنرل استھانا کہتے ہیں: 'چکنز نیک کا علاقہ انڈیا کے لیے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ اگر چین اس علاقے میں تھوڑا سا بھی فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا نقصان ہو گا۔ اور یہ معاہدہ انڈیا کے مفاد میں نہیں ہو گا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش'
ڈاکٹر الکا آچاریہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینٹر فار ایسٹ ایشین سٹڈیز میں پروفیسر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس پیش رفت سے انڈیا کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں: 'ڈوکلام تنازع کے بعد چین نے بھوٹان سے رابطہ کرنے اور سرحد کے بارے میں بات کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی۔ یہ دیکھا گیا کہ چین کی طرف سے بہت زیادہ پہل ہوئی ہے۔ اب چین کی کوشش ہے کہ اسے بھوٹان کے ساتھ ایک براہ راست معاہدہ کرنا چاہیے۔ اس سے انڈیا کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ چین نے تو سب کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے اور اب صرف انڈیا ہی بچ جاتا ہے تو آخر ایسا کیوں ہے۔ اس سے انڈیا پر ایک طرح کا نفسیاتی دباؤ ہو گا۔'
پروفیسر آچاریہ کے مطابق: 'یہ انڈیا کے لیے بھی تشویش کا باعث ہو گا کہ ڈوکلام کے قریب تین ممالک کی سرحدوں والے اس سہ رخی جنکشن پر کس قسم کا معاہدہ کیا جائے۔'
وہ کہتی ہیں کہ یہ اس پس منظر میں صورتحال قدرے نازک ہے اور انڈیا کو اس پر کڑی نظر رکھنی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بھوٹان کے سامنے تذبذب؟
کیا چین اور انڈیا کے درمیان جاری تازہ ترین کشیدگی کی وجہ سے بھوٹان کو کسی مخمصے کا سامنا ہے؟
پروفیسر آچاریہ کا کہنا ہے کہ یہ واضح ہے کہ انڈیا اور بھوٹان کے تعلقات بہت گہرے ہیں اور بھوٹان کا جھکاؤ انڈیا کی طرف زیادہ ہے۔ 'انڈیا کی وزارت خارجہ سے بہت زیادہ رقم بھوٹان کو جاتی ہے۔ مالی طور پر انڈیا بھوٹان کی بہت مدد کرتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ چین بھوٹان میں زیادہ مداخلت نہ کرے۔ چین بھی تنقید کرتا ہے کہ انڈیا بھوٹان کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے کئی بار واضح طور پر کہا ہے۔'
لیکن پروفیسر آچاریہ کا کہنا ہے کہ بھوٹان چونکہ ایک چھوٹا سا ملک ہے اور وہ چاروں طرف زمین سے گھرا ہوا ہے، اس لیے یہ فطری بات ہے کہ وہ یہ نہیں چاہے گا کہ اس کا چین کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔
وہ کہتی ہیں: 'بھوٹان یہ بھی چاہے گا کہ چین کے ساتھ اس کا سرحدی تنازع حل ہو جائے جس کے بعد وہ چین کے ساتھ معاشی تعلقات استوار کرنا شروع کر سکے۔ تو ایک طرح سے یہ فیصہ ایک آزاد ملک کے اپنے مفاد کے بارے میں بھی ہے۔
’دوسری جانب بھوٹان ایک طرح سے انڈیا اور چین کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں نہیں جانا چاہتا کہ اسے انڈیا اور چین کے درمیان کسی کے ایک کے ساتھ اور دوسرے کے خلاف دیکھا جائے۔'
یہ بھی پڑھیے
پروفیسر آچاریہ کا کہنا ہے کہ بھوٹان ایک ایسا ملک ہے جو جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کے بجائے مجموعی قومی خوشی کے انڈیکس کی بات کرتا ہے اور اس کی دونوں ملکوں کے درمیان طاقت کی سیاست میں کوئی مداخلت نہیں ہے۔
ان کا خیال ہے کہ انڈیا کو بھوٹان کی حساسیت کو مدنظر رکھنا چاہیے اور اگر چین بھوٹان کے ساتھ یہ پہل کر رہا ہے تو اس کی بھی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ بھوٹان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے تاکہ اسے معلوم ہو کہ چین کے ساتھ اس کی گفتگو کس سمت میں جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کی نیت
دوسری طرف میجر جنرل استھانہ کا خیال ہے کہ یہ چین کی دباؤ پیدا کرنے کی حکمت عملی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'چین کی حکمت عملی بغیر لڑے جیتنا ہے۔ وہ جنگ نہیں چاہتا اور اس لیے اس کی حکمت عملی میں دباؤ، پروپیگنڈا، دھمکیاں اور پڑوسیوں کو آمادہ کرنا شامل ہے۔'
ان کا کہنا ہے کہ چین کا اصل مقصد یہ ہے کہ انڈیا مشرقی لداخ میں جاری تعطل کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں پہلے کی طرح دوبارہ شروع ہو جائیں۔ چین لداخ کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن انڈیا جھکنے والا نہیں ہے اس لیے چین دوسرے علاقوں میں دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
استھانہ کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا نے ہوشیار نہیں ہوا تو جلد ہی ایک چینی ریلوے لائن وادی چونبی تک پہنچ جائے گی۔ وہ کہتے ہیں: 'چین کے پاس پہلے سے ہی یاتونگ تک ریل لائن کا منصوبہ ہے اور یاتونگ چونبی وادی کے دہانے پر ہے۔ لہٰذا اگر انڈیا محتاط نہ رہا اور چین بھوٹان کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اسے چونبی میں اپنی جگہ مل جائے گی اور انڈیا کا کوئی اثرورسوخ نہیں رہے گا۔
ان کے خیال میں اس علاقے میں انڈین فوج کی تعیناتی سب سے مضبوط ہے کیونکہ وہ اونچائی پر تعینات ہیں، اس لیے چین شاید سلی گڑی راہداری میں نقب زنی نہیں کر پائے لیکن ٹرائی جنکشن ایریا تک پہنچنے سے اسے سٹرٹیجک فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔










