فاطمہ صہبا: 19 سالہ انڈین لڑکی نے ایک سال دو ماہ کے عرصے میں قرآن کی خطاطی مکمل کی ہے

،تصویر کا ذریعہFatimha Shahaba
- مصنف, خدیجہ عارف
- عہدہ, بی بی سی اردو
’میری دلی خواہش تھی کہ میں اپنی سب سے پسندیدہ کتاب یعنی قرآن کی خطاطی کروں اور جتنی جلد ہو سکے اس کام کو انجام دوں‘۔
’گزشتہ برس میں نے قرآن کے ایک پارے کی خطاطی کی اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کو دکھایا اور ساتھ یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ میں پورے قرآن کی خطاطی کرنا چاہتی ہوں۔ میرے والدین کو یہ سن کر خوشی تو بہت ہوئی لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا سوچ لو، محنت بہت کرنی ہوگی‘۔
یہ کہنا ہے بے حد کم گو، شرمیلی، اور بیڈمنٹن کی فین، فاطمہ صہبا کا جنھوں نے کیلیگرافی یعنی خطاطی کے اپنے شوق کو جنون میں تبدیل کیا اور ایک سال دو ماہ کے اندر قرآن کی خطاطی کر کے نہ صرف اپنے خاندان والوں بلکہ متعدد انجان لوگوں کا بھی دل جیت لیا ہے۔
جنوبی انڈیا کی ریاست کیریلا کے شہر کنور سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ فاطمہ کو بچپن سے خطاطی کا شوق تھا اور وہ کبھی کبھی قرآن کی آیات کی خطاطی کر کے اپنے والدین کو دکھاتی تھیں اور وہ بہت خوش ہو جاتے تھے۔
فاطمہ نویں جماعت میں تھیں جب انھوں نے دیگر آرٹ کے ساتھ اپنی خطاطی کی صلاحیت کو بہتر کرنا شروع کیا۔ اس وقت فاطمہ اپنے خاندان کے ساتھ اومان میں رہائش پزير تھیں اور سکول سے آنے کے بعد اکثر خطاطی کرتی تھیں۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ انہیں قرآن بہت خوبصورت لگتا ہے اور ان کی خواہش تھی کی وہ ایک دن پورے قرآن کی خطاطی کریں۔
وہ بتاتی ہیں ’ابتدا میں، میں نے ایک دو سورتوں کی خطاطی کرنا شروع کی۔ میرے امی ابو نے ہمیشہ کی طرح میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ میں کبھی کبھی بعض آیات کی خطاطی کرتی تھی اور ان کو فریم کرواتی تھی، تو مجھے میرے رشتہ داروں اور دوستوں نے آرڈر دینا شروع کر دیے۔ اس سے مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے ہاتھ میں صفائی ہے اور میں اس کو جاری رکھوں‘۔

،تصویر کا ذریعہFathima Shahba
دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد فاطمہ اپنے والدین اور دونوں چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ واپس انڈیا آگئی تھیں اور ان کے والد نے اپنے کنور ضلع کے کوڈاپارمبا شہر میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد فاطمہ آرٹ کے شعبے میں کچھ کرنا چاہتی تھیں اس لیے انہوں نے انٹیریر ڈیزائنگ کا کورس کرنے کا فیصلہ کیا۔
فاطمہ اب اپنے ضلاع کنور کے مقامی کالج میں زیر تعلیم ہیں اور وہاں سے انٹیریر ڈیزائننگ کا کورس کر رہی ہیں۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ اومان کی زندگی اور وہاں اپنے دوستوں کو بے حد مِس کرتی ہیں لیکن انہیں کنور میں نئے دوست بنانے میں کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے ’میں سکول سے آکر تھوڑی دیر آرام کرتی ہوں، اور مغرب کے بعد کچھ وقت خطاطی کرنے میں گزارتی ہوں‘۔
وہ بتاتی ہیں ’اومان میں زندگی بہت الگ تھی۔ وہاں کا کلچر الگ ہے۔ وہاں ہم بہت مزے کرتے تھے۔ لیکن انڈیا میں ہمارے سارے خاندان والے ہیں، اس لیے یہاں بھی زندگی اچھی ہے‘۔
اسلامی تعلیم کے استاد سے رجوع اور قرآن کی خطاطی کا آغاز

،تصویر کا ذریعہFatima Sahaba
فاطمہ کا کہنا ہے کہ ہر ایک شخص کو، اگر موقع ملے تو، اپنی پسند کے پروفیشن کا انتخاب کرنا چاہیے اور اس کے لیے محنت کرنی چاہیے۔
پورے قرآن کی خطاطی شروع کرنے سے پہلے فاطمہ کے والدین نے ایک اسلامی تعلیم دینے والے استاد سے رجوع کیا اور معلوم کیا کہ فاطمہ قرآن کی خطاطی کرسکتی ہے یا نہیں۔
فاطمہ بتاتی ہیں کہ ’ان کی اجازت کے بعد میں نے اس کام کا آغاز کیا‘۔
وہ بتاتی ہیں ’میں نے اپنے والد سے کہا کہ مجھے بلیک بال پین اور آرٹ بکس چاہیے۔ وہ قریب کی دکان سے سارا سامان لے آئے۔ میں روازنہ سکول سے آکر کچھ دیر آرام کرنے اور مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد خطاطی کرنے بیٹھتی تھی۔ میں نے گزشتہ برس جولائی میں یہ کام شروع کیا تھا اور اس برس ستمبر میں مکمل کیا ہے‘۔
ان کا کہنا ہے ’میری ایک چھوٹی بہن ہے اور نو سال کا بھائی۔ میرے والدین تو سمجھتے ہیں کہ میں ایک سنجیدہ کام کر رہی ہوں، لیکن میرے چھوٹے بہن بھائیوں نے بھی میرا پورا ساتھ دیا‘۔

،تصویر کا ذریعہfathima Shahba
’مجھے یہ فکر تھی کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو جائے تو میری امی میرے ساتھ بیٹھتی تھیں اور میرے کام پر نظر رکھتی تھیں۔ میں پہلے پینسل سے خطاطی کرتی تھی اور اس کے بعد جب ایک بار پورا صفحہ بغیر کسی غلطی کے لکھ لیتی تھی تو پھر اس کو پین سے لکھتی تھی۔
’کبھی کبھی غلطیاں بھی ہوتی تھیں لیکن میں ان میں اصلاح کر لیتی تھی۔ بعض اوقات میں خطاطی کر رہی ہوتی اور غلطی ہوجاتی تھی، مجھے پتہ نہیں چلتا تھا تو میری امی مجھے اسے صحیح کرنے کا کہہ دیتی تھیں‘۔
یہ بھی پڑھیے
فاطمہ کا مزید کہنا تھا ’مجھے شروع میں ایسا لگتا تھا کہ ’جس کام کی شروعات کی ہے کیا میں اسے مکمل کر سکوں گی یا نہیں۔ لیکن میں نے ہر دن مزے سے اس کام کو انجام دیا۔ میرا اپنا کمرہ ہے میں وہاں بیٹھ کر گھنٹوں خطاطی کرتی تھی‘۔

،تصویر کا ذریعہFathima Shahba
فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کل 604 صفحات پر خطاطی کی ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ شروع کے صفحات بہت صاف اور اچھے ہیں لیکن جیسے جیسے میں خطاطی کرتی رہی، ہر صفحہ مزید بہتر ہوتا چلا گیا‘۔
فاطمہ نے 'سب کا دل خوش کر دیا ہے'
فاطمہ کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نہ صرف ان کا بلکہ 'سب کا دل خوش کر دیا ہے'۔
ان کی والدہ نادیہ رؤف کا کہنا ہے ’صرف اللہ کی مدد سے فاطمہ نے یہ کام مکمل کیا ہے۔ مجھے اپنی بیٹی پر بہت فخر ہے۔ فاطمہ بہت محنتی ہے۔ وہ جو بھی کام کرتی ہے اسے پوری محنت اور لگن سے انجام دیتی ہے'۔
فاطمہ کے والد عبدالرؤف کا کہنا ہے ’مجھے فاطمہ پر بہت فخر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اللہ نے مجھے اتنی نیک، اور دین و ایمان سے محبت کرنے والی بیٹی دی ہے'۔

،تصویر کا ذریعہFathima Shahba
فاطمہ کا کہنا ہے کہ ’ابو اور امی نے ہمیشہ میری حوصلہ افضائی کی ہے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب میں یہ کام پورا کروں گی تو انہیں مبارکباد کے اتنے فون آئیں گے۔ ابو بہت خوش ہوتے ہیں جب لوگ ان سے کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی نے بہت زبردست کام کیا ہے‘۔
فاطمہ مزید بتاتی ہیں ’میرے والد بہت کم بولتے ہیں لیکن جب لوگ ان کو فون کر کے میری تعریف کرتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں‘۔
فاطمہ نے بتایا کہ شروع میں انہوں نے اپنے والدین اور صرف بہت قریبی دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ پورے قرآن کی خطاطی کر رہی ہیں ’اس کی وجہ یہ تھی کہ میں چاہتی تھی کہ ایک بار میں یہ کام مکمل کرلوں تب ہی سب کو بتاؤں گی اور کوئی وجہ نہیں تھی‘۔
دوسروں کو خطاطی سکھانے کی خواہش

،تصویر کا ذریعہFathima Sahaba
فاطمہ کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے گھر اور اپنے ارد گرد چيزوں کو سجانے کا بہت شوق ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل میں لوگوں کو خطاطی سکھائیں۔
ان کا خیال ہے کہ انسان کو اگر کسی چيز کو سیکھنے کا شوق ہے اور اپنے فن سے محبت ہے تو وہ کسی بھی طرح اس کو پورا کرلیتا ہے۔
فاطمہ جب چھوٹی تھیں تب اپنے بہنوں اور سہلیوں کے ہاتھوں پر مہندی لگاتی تھیں اور ’لوگ کہتے تھے کہ میرے ہاتھ میں بے حد صفائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے بچپن سے ڈیزائن بنانے کا بہت شوق ہے۔ اسی وجہ سے میرا دھیان کیلیگرافی کی طرف گیا۔ عربی زبان میں اتنے ڈیزائن ہیں کہ کسی بھی فن کار کے لیے خطاطی کرنا ایک بے حد مزے کا تجربہ ہوسکتا ہے‘۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ خطاطی کرتی رہیں گی کیونکہ یہ ایک کام ہے جسے کرتے ہوئے وہ اپنے آس پاس جو ہو رہا ہوتا ہے اسے بھول جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFathima Sahaba
فاطمہ بہت محنتی اور بے حد لگن سے اپنی تعلیم اور شوق کو انجام دے رہی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ جب وہ فری ہوتی ہیں تو انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جانا، مزے کرنا بہت پسند ہے۔ وہ بے شک کم گو ہیں لیکن 'مجھے اپنے دوستوں سے باتیں کر کے بہت خوشی حاصل ہوتی ہے‘۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ 'میں بہت شرمیلی ہوں لیکن پورے قرآن کی خطاطی مکمل کرنے کے بعد میڈیا اور متعدد لوگوں نے مجھ سے بات کی، مجھے بہت اچھا لگا۔ یہ احساس ہوا کہ میری محنت رنگ لائی ہے۔ لوگ جب تعریف کرتے ہیں تو اچھا لگتا ہے‘۔







