آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
آن لائن گیمنگ یا ’روح کی افیون‘: چین میں بچے اب ہفتے کے تین دنوں میں صرف ایک گھنٹے آن لائن گیمنگ کر سکیں گے
چین میں ویڈیو گیمز کی نگراں اتھارٹی نے حکم دیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو انٹرنیٹ پر گیمنگ کی صرف مخصوص دنوں میں ایک گھنٹے کھیلنے کی اجازت ہوگی۔
اس حکم کے مطابق بچے صرف جمعہ، ہفتہ، اتوار اور عوامی چھٹیوں والے روز محض ایک گھنٹے گیمنگ کر سکتے ہیں۔
نیشنل پریس اینڈ پبلیکشن نے سرکاری خبر رساں ادارے ژن ہوا کو بتایا کہ کھیلنے کے اوقات کار رات آٹھ سے نو بجے تک درمیان ہوں گے۔
اتھارٹی نے گیمنگ کمپنیوں کو بھی تنبیہ کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے ان اوقات کار کے علاوہ گیمنگ نہ کر سکیں۔
واضح رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں ایک سرکاری میڈیا کے ادارے نے آن لائن گیمنگ کو 'روح کی لیے افیون' قرار دیا ہے۔
اس حکم کے آنے کے بعد آن لائن گیمنگ کمپنیوں کی بھی نگرانی میں اضافہ ہو جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ سرکاری حکم کی تعمیل کر رہے ہیں یا نہیں۔
پہلے نافذ کیے گئے قوانین کے مطابق بچوں کو ایک دن میں نوے منٹ گیمنگ کرنے کی اجازت تھی اور ہفتہ وار چھٹیوں پر یہ اوقات بڑھ کر تین گھنٹے کر دیے گئے تھے۔
یہ حکم ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چین میں کم عمر بچوں پر حد سے زیادہ گیمنگ کرنے کے مضر اثرات کے باعث خدشات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
ان احکامات کے نافذ ہونے سے ایک ماہ قبل، چینی اخبار اکنامک انفارمیشن ڈیلی نے دعوی کیا کہ کئی نوجوانوں کو گیمنگ کی لت لگ گئی ہے اور یہ ان پر منفی اثرات چھوڑ رہا ہے۔
اس مضمون کی اشاعت کے بعد چین کی بڑی گیمنگ کمپنیوں کے حصص کی قدر میں بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
جولائی کے مہینے میں چین میں گیمنگ کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک 'ٹین سینٹ' نے اعلان کیا کہ وہ چہرے کی شناخت کرنے والا سافٹ ویئر متعارف کرا رہے ہیں تاکہ بچوں کو رات دس بجے سے لے کر صبح آٹھ بجے تک گیمنگ کرنے سے روک سکیں۔
کمپنی نے یہ فیصلہ ایسی خبریں آنے کے بعد کیا جس میں بتایا گیا کہ بچے بڑوں کی شناخت استعمال کر کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔