آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
والدین بچوں کے 'سکرین ٹائم' کو کیسے مفید بنا سکتے ہیں؟
- مصنف, ملیسا ہوجنبوم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جب میری نوازئیدہ بیٹی نے بولنا بھی شروع نہیں کیا تھا تب بھی اسے یہ معلوم تھا کہ کون سا موبائل میرا ہے اور کون سا اس کے والد کا۔ دونوں موبائل ایک جیسے دکھتے تھے لیکن اگر میرے علاوہ کوئی میرے فون کو ہاتھ بھی لگاتا تو وہ چیخ اٹھتی۔ اگر میں اپنا فون کسی اور کو تصویر دکھانے کی غرض سے بھی دیتی تو وہ شدید غصے میں آ جاتی۔
اس کی چھوٹی سی دنیا میں میرا فون میرا اتنا ہی حصہ تھا جتنے میرے جوتے یا کپڑے کیونکہ فون ہمیشہ میرے پاس ہی رہتا تھا اور میری بیٹی میری چیزوں کے تحفظ کے معاملے میں خاصی حساس تھی۔
جب مجھے اس بات کا احساس ہوا تو میں نے سوچا کے واقعی اب یہ حقیقت ہے کہ سکرینز ہماری روزمرہ کی زندگیوں کا انتہائی اہم حصہ ہیں۔ حالانکہ میں موبائل کے استعمال میں کمی لانے کی بے انتہا کوشش کرتی ہوں تاہم اس کے فوائد بھی ہیں۔ یہ مجھے راستہ بتانے میں انتہائی مددگار ہے، اس کے ذریعے میں سوشل میڈیا دیکھ سکتی ہوں، آن لائن کھانا منگوا سکتی ہوں اور کتابوں کے آڈیو ورژن وغیرہ سن سکتی ہوں۔ کیونکہ میری بیٹی کے نانا نانی ہم سے دور رہتے ہیں تو ان سے موبائل کے ذریعے رابطہ قائم رکھا جا سکتا ہے اور یہ اب اس لیے بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں کے باعث میں اپنی والدہ سے سنہ 2019 کے بعد سے نہیں ملی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہماری سکرینز خاصی متاثر کن ہوتی ہیں اس لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہمارے بچے ان کے بارے میں بہت جلدی، آسانی سے اور فطرتاً سیکھ لیتے ہیں۔ میرے بیٹے کو جیسے فطرتاً ہی یہ معلوم تھا کہ فون پر سوائپ کرنے سے روشنی جلتی ہے۔ ابھی وہ ایک سال کا بھی نہیں ہوا تھا لیکن اسے یہ بات معلوم تھی۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ سکرینز کی آپ کو بہت جلد عادت بھی ہو جاتی ہے اور اس کے باعث بچوں کے ذہنوں میں ایسی تبدیلیاں آتی ہیں جن کے بارے میں ہم آہستہ آہستہ جان رہے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے اثرات صرف برے ہی ہیں لیکن یہ اچھے بھی نہیں ہیں۔ تاہم اس بات کا ادراک ہونا کہ سکرینز کو کس طرح مفید انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور انھیں استعمال کرنا کب ترک کرنا چاہیے کے مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔
بیرونی اثرات
آج کل ہمیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ بچوں کی سوچ پر بیرونی ذرائع کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مشہور فلسفی پلاٹو (افلاطون) کو بھی یہ اندیشہ تھا کہ شاعری اور ڈرامہ نوجوان ذہنوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی نوعیت کی پریشانی ان والدین کو بھی ہوئی جن کے گھروں میں شروعات میں ٹیلی ویژن نے ایک لازمی حیثیت حاصل کی تھی۔ والدین اس دوران بھی بچوں کو ٹیلی ویژن کا عادی ہونے اور اس سے اپنی آنکھوں کے متاثر ہونے کے حوالے سے خبردار کرتے تھے۔
شاید یہی وجہ تھی کہ رولڈ ڈاہل نے سنہ 1964 میں اپنی کتاب چارلی اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری میں لکھا تھا:
'خدارا، خدارا، ہم ہاتھ جوڑتے ہیں
جاؤ اپنے ٹی وی پھینک آؤ
اور ان کی جگہ آپ اسی دیوار پر
خوبصورت کتابوں کی الماری نصب کر لو'
جہاں ہمیں یہ معلوم ہے کہ کتب بینی سے ہماری علمی قابلیتوں کا تعلق ہے وہیں ہمیں یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں ہر جانب سکرینز موجود ہیں۔ تاہم ان کی جانب سے سکرینز استعمال کرنے کا دورانیہ ایک افسردہ خاکہ کھینچتا ہے۔
اندازوں کے مطابق بچے جن کی عمر دو سال سے کم ہےوہ دن میں تین گھنٹے سکرینز کے سامنے گزارتے ہیں۔ یہ دورانیہ پچھلے 20 سالوں میں دگنا ہوا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق سکول جانے کی عمروں والے بچوں کے لیے 49 فیصد کا دو گھنٹے سے زیادہ دورانیہ رہا اور 16 فیصد کا چارگھنٹے سے زیادہ۔
سکرین ٹائم میں اضافے سے جسمانی ورزش میں کمی آتی ہے، وزن بڑھتا ہے اور خاندان کے ساتھ اکھٹا کھانا کھانے کے کم مواقع ملتے ہیں۔ اس کے باعث بچوں کو بڑی عمر میں نیند کی کمی جیسے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق وہ بچے جن کے کمرے میں ٹی وی موجود ہے وہ ہر روز 31 منٹ کم سوتے ہیں۔
پہلی نظر میں یہ سب بہت چونکا دینے والا لگتا ہے تاہم ٹی وی پر لگنے والے تمام پروگرام ہی بچوں پر منفی اثرات نہیں ڈالتے ہیں اور چند معلوماتی پروگرامز دیکھنا بچوں کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ تاہم یہ صرف ان بچوں کے لیے مفید ہے جن کے عمر دو سال سے زیادہ ہے، دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے عام طور پر ایسا کچھ بھی مفید نہیں ہے۔
خوش قسمتی سے چند بہترین کام کرنے والے پروڈیوسرز نے ٹی وی پروگرامنگ میں معلوماتی پروگرام بھی شامل کر دیے ہیں، ٹی وی شو 'سیسمی سٹریٹ' اس کی ایک مثال ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹی وی پر چلنے والے معلوماتی مواد کی مدد سے تین سے پانچ برس کے بچوں کے رویوں، خواندگی اور علمی مہارت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
امریکی ریاست فلاڈیلفیا کی ٹیمپل یونیورسٹی میں نوزائیدہ بچوں کی زبان کی لیبارٹری کی کیتھی ہیرش پاسیک کا کہنا ہے کہ 'اگر یہ معلوماتی پروگرامز ہیں اور انھیں ٹی وی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تو ان کے بچوں پر منفی اثرات نہیں ہو سکتے ہیں۔ بلکہ اس کے باعث غریب بچوں کی بھی مدد کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر آپ رات کا خبرنامہ دیکھ رہے ہیں یا کوئی پرتشدد پروگرامز دیکھ رہے ہیں جو ہمارے ٹیلی ویژنز پر ہر وقت ہوتے ہیں تو یہ بچوں کے لیے بہت برا ہے۔
یہی سب دوسرے میڈیا کے حوالے سے بھی سچ ہے۔ جب آپ سکرین پر اور سکرین آپ پر اثر انداز ہو رہی ہو، جیسے ویڈیو کالز کے دوران، دور پرے سے کہانیاں سنانا یا ایسے شوز دیکھنا جن کے دوران ہم اپنے بچوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہوں ہمارے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ انٹرایکٹو ہوتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اوقات بچے سکرینز کا استعمال اس طرح نہیں کرتے اور اس کے پیچھے بھی کافی اہم وجوہات موجود ہیں۔ والدین سنہ 2020 میں انوکھی پریشانیوں سے دوچار ہیں جس میں ان کا کام اور ان کی گھریلو زندگی کی حدود تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ بچے اکثر غیر فعال انداز میں میڈیا کا مواد غرفعال انداز میں دیکھتے یا سنتے ہیں اور یہ ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بچے سامنے بیٹھے شخص سے یا کسی ویڈیو کال کے دوران ایک لفظ بہتر طریقے سے سیکھ سکتے ہیں تاہم وہی لفظ اگر ایک سکرین پر یکطرفہ انداز میں کہا جائے گا تو شاید وہ اسے نہ سیکھ سکیں۔
دو سال سے سے زیادہ عمر کے بچوں کے دماغ بہتر انداز میں نشونما پا رہے ہوتے ہیں اور ان کے اپنے والدین اور خیال رکھنے والوں سے ہونے والی گفتگو انتہائی اہم ہوتی ہے۔ 15 ماہ کے بچے اپنی ٹیبلیٹس کے ذریعے نئے الفاظ سیکھ ضرور سکتے ہیں لیکن انھیں یہ علم حقیقی زندگی میں استعمال کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ٹیلی ویژن کے استعمال کا تعلق تخلیقی سوچ میں کمی سے بھی ہے۔ اسی تناظر میں ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ سکرین کے سامنے گزارا گیا وقت سکول جانے والے بچوں کی 'دماغی منظر کشی کی صلاحیتوں' میں کمی لاتا ہے۔
دماغی منظر کشی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ہم دنیا میں لوگوں، جگہوں اور واقعات کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں انسانوں کی ایک عادت ہے جس کے ذریعے موقع پر غیر موجودگی کے باوجود وہ دنیا میں ہونے واقعات کی دماغی منظر کشی کرتے ہیں۔
اس کے ذریعے آپ صرف الفاظ پڑھ کر ہی اس جگہ موجود ہو سکتے ہیں۔ جرمنی میں یونیورسٹی آف ریگنزبرگ میں زبان کی تشکیل کی ماہر اور یہ تحقیق لکھنے والوں میں سے ایک سیباسٹیئن سگیٹ کا کہنا تھا کہ 'جب ہم ایک کام انجام دیتے ہیں تو ہمارے دماغ میں ایک عصبی ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے ہم خیال ہی میں عمل کر لیتے ہیں حالانکہ ہم جسمانی طور پر وہاں موجود نہ بھی ہوں۔
اس تحقیق کے دوران تین سے نو برس کی عمر کے 266 بچوں کو زیرِ نگرانی رکھا گیا اور انھیں ہر 10 ماہ کے دوران دو دماغی منظر کشی کے ٹیسٹ دے کر آزمایا گیا۔ اس دوران بچوں سے اس طرح کے سوال پوچھے گئے کہ کیا زیادہ چمکدار ہے، باجا یا وایلن؟ کیا چیز زیادہ نوکیلی ہے ناخن یا نتھی کرنے والی سوئی؟
ان سوالات کے باعث بچوں کو دماغی منظر کشی کرنے میں بھی مدد ملی جیسے انھیں یہ معلوم ہوا کہ ایک گول پتھر سوئی سے زیادہ ملائم ہوتا ہے۔ یہ بات تجربے کے ذریعے زیادہ بہتر انداز میں پتا چلتی ہے نہ کہ پڑھانے سے۔ اس سوال کا فوری جواب دینے کے لیے 'دماغی مناظر' کا اشیا سے موازنہ کرنا ضروری ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کو تحقیق کے ایک برس کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سکرین کے سامنے گزارا گیا وقت چاہے فعال ہو جیسے گیمنگ یا غیرفعال جیسے ٹیلی ویژن دیکھنے کے باعث کم دماغی منظر کشی عمل میں آتی ہے۔
آپ کچھ دیر کے لیے اپنی آنکھیں بند کریں اور سوچیں کے آپ ایک سوئمنگ پول میں ہیں۔ یہ انتہائی آسان ہے سوچنا کہ پانی جب آپ کے جسم سے ٹکراتا ہے تو آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے، اس کی خوشبو کیسی ہوتی ہے اور زمین پر پھسلن کتنی ہوتی ہے۔ یہ احساسات ماضی کے تجربات سے ہی آتے ہیں۔ اگر صرف کسی کو سکرین پر تیرتے دیکھیں گے تو ہمیں یہ لمحہ اتنی آسانی سے یاد نہیں آئے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سکرین ہمارا کام کر دیتی ہے۔ سکرینز ہماری آنکھوں کے سامنے اور کانوں تک معلومات لے آتی ہیں لیکن ہماری دیگر حواس پر اثر انداز نہیں ہوتی جیسے محسوس کرنے، چھونے یا توازن برقرار رکھنے کی حس۔
سگیٹ کا کہنا ہے کہ 'پہلے دس سالوں میں اور آغاز میں بھی ہمیں یہ معلوم ہے کہ بچوں میں اپنے حواس سے متعلق معلومات ابھی بہتر ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ آپ اپنے حواس کی قابلیت کو بہتر بناتے ہیں۔'
تو بطور والدین ایک ایسے دور میں جب سکرینز ہماری زندگیوں کا ایک اہم حصہ بن گئیں ہیں آپ کیا کر سکتے ہیں؟
اچھی خبر یہ ہے کہ والدین کے لیے اب یہ انتہائی آسان ہے کہ وہ بچوں کی دماغی منظر کشی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا سکرین ٹائم بھی کم کریں۔ سگیٹ کےمطابق صرف آپ کو کرنا یہ ہے کہ انھیں کھیلنے کی اجازت دینی ہے کیونکہ تخلیقی کھیلوں کی بنیاد ہی دماغی منظر کشی ہے۔ جتنا زیادہ بچوں کو کھیلوں میں لگایا جائے گا، اتنا زیادہ ان کے خیالات میں پختگی آئے گی۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ بچے جتنا زیادہ وقت سکرینز کے سامنے گزار رہے ہیں اتنا ہی کم وقت باہر گزارتے ہیں۔
سگیٹ کا کہنا ہے کہ 'ظاہر ہے ہم سب ایک ایسی جدید دنیا میں رہتے ہیں جہاں سکرینز کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ضرور والدین میں کوئی مسئلہ ہے اور وہ بچوں کو وقت نہیں دے پاتے بلکہ شاید بچوں کی جبلت پر اعتماد کیا جائے تاکہ وہ حقیقی دنیا کے ان متنوع تجربات میں شریک ہو سکیں۔'
بہت سارے والدین کے لیے شاید یہ آسان بھی نہ ہو۔ اسی وجہ سے یہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ 'سکرین ٹائم' میں بہت ساری ڈیوائسز کا مجموعہ ہے۔ موبائلز، ٹیبلیٹس، ٹی وی اور گیمنگ سب ہی سکرین ٹائم کے لیبل تلے آتے ہیں۔ ٹیبلٹس ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے موجود ہیں لیکن ان کی وجہ سے کلاس روم اور گھر بیٹھے تعلیم جیسی سہولیات دی جا سکتی ہیں۔
ہیرش پاسیک کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ہمیں بچوں کے لیے مفید، فعال اور معلوماتی سکرین کے استعمال کو یقینی بنانا ہے کیونکہ 'اسے آسانی سے اپنایا جا سکتا ہے اور یہ فعال بھی ہے دوسری جانب زیادہ تر سکرین ٹائم کا مطلب بیٹھ کر سننا اور وقت ضائع کرنا ہے۔'
مثال کے طور پر لاک ڈاؤن کے دوران ہیرش پاسیک اور ان کے دوستوں نے مل کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ سکول جانے سے قبل بچے ورچوئل کہانیاں سننے پر کیسا ردِ عمل دیتے ہیں۔ یہ ان کے الفاظ سیکھنے کے پچھلے کاموں جیسا ہی ہے۔ ان کی ٹیم نے جانا کہ بچوں کو ورچوئل کہانیوں سے مدد مل سکتی ہے جو انھیں ویڈیو کالز پر بتائی جاتی ہیں اور انھیں ان کی اتنی ہی سمجھ آتی ہے جتنی آمنے سامنے کہانی سنانے سے آتی ہے۔ وہ ریکارڈڈ ویڈیوز کے مقابلے میں لائیو ویڈیوز پر زیادہ بہتر ردِ عمل دیتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر سکرینز کو انٹرایکٹو انداز میں استعمال کیا جائے جو سیکھنے کے لحاظ سے انتہائی اہم ہیں تو یہ واقعی مفید ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ لائیو ویڈیو ریکارڈڈ سے بہتر تھیں لیکن چار سال کے بچے ریکارڈڈ ویڈیو سے بھی سیکھ سکتے ہیں بس وہ بہتر ردِ عمل نہیں دیتے۔
ہرش پاسیک کا کہنا ہے کہ بحث صرف اس بارے میں نہیں ہونی چاہیے کہ کیا سکرینز کے اثرات منفی ہیں یا مثبت بلکہ ہم کچھ قسم کی سکرینز کو بطور آلات بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
'ہمیں ایسی سکرینز بنانی ہوں گی جو سماجی گفتگو کا آغاز کرنے کے لیے معاونت کریں نہ کہ انسانوں کی جگہ لے لیں۔'
تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس کی زیادتی چاہے وہ معلوماتی مواد کی ہی کیوں نہ ہو، بچوں کی حقیقی دنیا کی منظرکشی کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔