آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طالبان قندھار پر قبضہ کے بعد صوبہ لوگر میں داخل، برطانوی سیکرٹری دفاع کا کہنا ہے 'افغانستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے‘
طالبان نے افغانستان میں جاری اپنی پیش قدمی کے دوران ملک کے دوسرے بڑے شہر قندھار پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوسری طرف برطانیہ کے سیکرٹری دفاع بین والیس کا کہنا ہے کہ 'افغانستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔'
انھوں نے بی بی سی کے پروگرام بی بی سی بریکفاسٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'میرے خیال میں ہم (افغانستان میں) خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں، صوبے ناکام ہو رہے ہیں اور ملک میں غربت اور دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے برطانیہ کے خلاف کوئی دہشت گردی کا منصوبہ بنایا گیا تو برطانیہ وہاں مداخلت کرنے کا حق رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اگر افغانستان نے دوبارہ دہشت گردوں کو پناہ دینی شروع کی جو ایک بین الاقوامی خطرہ ہے، جیسا کہ انھوں نے ماضی میں اسامہ بن لادن اور ان کی تنظیم القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں دے کر کیا تھا تو برطانوی فورسز اپنے شہریوں کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا کہ اگر دیگر اقوام نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہ اٹھایا تو بین الاقوامی قوانین کے تحت ہمارے (برطانیہ) پاس یہ حق ہے کہ ہم ممکنہ خطرے کے پیش نظر اپنا دفاع کریں۔'
حالیہ لڑائی میں قندھار پر قبضہ مسلح جنگجوؤں کی بڑی فتح اور افغان حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعے کو صوبہ لوگر کی صوبائی کونسل کے دو ارکان نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان صوبائی دارالحکومت پلِ علم میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انھوں نے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور شدید لڑائی جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ لوگر کی سرحد کابل کے صوبے سے ملتی ہیں اور پلِ علم سے سیدھی سڑک دارالحکومت کابل جاتی ہے۔
جمعے کو ہی خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے قندھار کی مقامی حکومت کے ایک اہلکار نے تصدیق کی تھی کہ ’گذشتہ رات فوج سے جھڑپوں کے بعد طالبان نے قندھار شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔‘
طالبان کے ترجمان نے جمعے کو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ زابل اور ارزگان کے صوبے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کسی لڑائی کے بغیر زابل اور ارزگان کا کنٹرول سنبھالا ہے۔
ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنوبی شہر اور صوبہ ہلمند کا دارالحکومت لشکر گاہ بھی طالبان کے قبضے میں جا چکا ہے تاہم سرکاری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق بھی نہیں کی گئی ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا ہے کہ ہرات میں حکومت کا ساتھ دینے والے ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان کے بھی ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال کر طالبان لشکر کا حصہ بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اسماعیل خان کی طالبان جنگجوؤں کے ہمراہ تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں۔
اسماعیل خان وہ کمانڈر ہیں جنھیں ہرات میں طالبان کے خلاف لڑائی کے دوران مکمل حکومتی حمایت حاصل رہی ہے اور انھیں ’ہرات کا شیر‘ کہا گیا تھا۔
ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے سفارتی عملے کو واپس لانے کے لیے قریب تین ہزار فوجی بھیج رہا ہے۔
’ڈونلڈ ٹرمپ اس 'بے کار معاہدے' کے ذمہ دار ہیں'
برطانیہ کے سیکرٹری دفاع بین والیس نے افغانستان میں طالبان کی تیزی سے جاری پیش قدمی اور ملک میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ طالبان سے انخلا کے اس 'بے کار معاہدے' کے ذمہ دار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس معاہدے نے افغانستان میں موجودہ حکومت کو کمزور کیا ہے۔'
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر طالبان قومی امن مذاکرات کے لیے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور اپنے زیر انتظام علاقوں میں القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں اور غیر ملکی افواج پر حملے بند کر دیں تو امریکہ اپنے فوجی اور اتحادی نیٹو افواج کو اگلے 14 ماہ میں افغانستان سے نکال لے گا۔
طالبان نے اس معاہدے کے تحت بین الاقوامی فوجیوں پر اپنے حملے بند کر دیے تھح تاہم افغان حکومت کے ساتھ لڑائی جاری رکھی تھی۔
’افغان مترجموں کو لانا ہماری ذمہ داری ہے‘
برطانیہ کے سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ چھ سو فوجی افغانستان بھیجے جا رہے ہیں تاکہ وہاں پر موجود پانچ سو کے قریب سفارتی و حکومتی عملے سمیت تین ہزار کے قریب مختلف امدادی ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے برطانوی شہریوں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔
افغانستان میں برطانوی فوجیوں اور حکام کے لیے بطور مترجم کام کرنے والے افغان شہریوں کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'تقریبا دو ہزار افغان مترجم سمیت دیگر افراد کو برطانیہ لانا ہماری ذمہ داری ہے۔'
واضح رہے کہ برطانیہ پہلے ہی ایسے تین ہزار افراد کو برطانیہ بلا چکا ہے۔
’افغانستان میں 20 برس گزارنا ناکامی نہیں تھی‘
افغانستان سے فوجیوں کے انخلا پر سابق فوجی افسران اور ٹوری پارٹی کے ارکان کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ برطانیہ کا افغانستان میں 20 برس گزارنا ایک ناکامی تھی۔
اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو اقتدار سے بے دخل کیے جانے کے عرصے کےدوران 30 لاکھ افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم دلوائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'آپ ان افراد سے یہ تعلیم نہیں چھین سکتے۔'
'بی بی سی کے صحافیوں کے متعلق تشویش ہے'
افغانستان میں جاری لڑائی اور طالبان کی جانب سے تیزی سے ملک کے متعدد صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کے بعد سخت شرعی قوانین کے نفاذ پیش نظر وہاں موجود بی بی سی کے صحافیوں اور زمینی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ بی بی سی کے صحافیوں کی وہاں موجودگی کے متعلق 'تشویش' ہے کیونکہ 'وہاں زمینی حالات بہت کشیدہ ہیں۔'
طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی ’دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے بھی حیران کن‘
ملک میں غیر ملکی افواج کے 20 سالہ آپریشن اور انخلا کے بعد اب طالبان نے تیزی سے کئی شہری علاقوں میں قبضہ کیا ہے جس پر عالمی سطح پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
طالبان نے شمالی افغانستان کے اکثر علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ جمعرات کو طالبان نے ملک کے تیسرے بڑے شہر ہرات کے علاوہ غزنی اور قلعہ نو جیسے صوبائی دارالحکومتوں پر اپنی عملداری قائم کی تھی۔
طالبان اب ملک کے بیشتر شمالی علاقے اور 34 میں سے 14 صوبائی دارالحکومتوں پر قابض ہو چکے ہیں اور ان کی نظر اب کابل پر ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے پناہ گزین بھی پہنچ رہے ہیں جن کے آبائی علاقوں پر طالبان کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔
بی بی سی میں جنوبی ایشیا کے ایڈیٹر انبراسن ایتھیراجن نے کہا ہے کہ 'طالبان کی پیش قدمی کی رفتار نے بڑے بڑے فوجی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
ادھر قطر میں افغانستان کی صورتحال پر ہونے والی بات چیت کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں افغانستان کے صوبائی دارالحکومتوں اور دیگر شہروں میں فوری طور پر تشدد اور حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد سیاسی تصفیے اور جامع جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کوششیں تیز کریں اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان میں کسی ایسی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے جو طاقت کے استعمال سے مسلط کی گئی ہو۔
قندھار کیوں اہم ہے اور افغان حکومت کیا کر رہی ہے؟
قندھار غزنی اور ہرات کے بعد طالبان کے قبضے میں جانے والا اہم ترین شہر ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ طالبان تحریک نے قندھار سے جنم لیا تھا اور یہ ان کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ یہ ملک کا معروف تجارتی مرکز بھی ہے۔
قندھار پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں فی الوقت حالت پرسکون ہیں اور شہر سے نقل مکانی کر جانے والے افراد کی واپسی بھی شروع ہو گئی ہے۔
طالبان نے شہر کے مرکز پر حملے سے قبل اس کے گرد و نواح کے علاقوں پر قبضہ کیا تھا اور پھر مرکز پر حملہ کیا۔
بدھ کو طالبان نے یہاں کے مرکزی جیل پر حملہ کیا اور جمعرات کو ایسی تصاویر جاری کیں جن میں انھیں شہر کے اہم مقامات پر دیکھا جاسکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان فوج نے بظاہر اس جنوبی شہر سے باہر فوج کی ایک عمارت میں پناہ لے لی تھی۔
حکمت عملی کے اعتبار سے قندھار اس لیے اہم ہے کہ یہاں بین الاقوامی ہوائی اڈہ (ایئر پورٹ) ہے۔ یہاں زرعی اور صنعتی پیداوار ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے بڑا تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
قندھار میں انڈیا، پاکستان اور دیگر ممالک کے قونصل خانے بھی ہیں۔
اس سے قبل غزنی میں بھی ان دعوؤں کے مطابق طالبان کو فتح ہوئی ہے جو کابل-قندھار موٹر وے پر واقع ہے۔ اس سے کابل کے جنوب میں شہروں پر طالبان نے اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دوسری طرف ہرات شاہراہِ ریشم کا ایک قدیم شہر ہے جہاں کئی ہفتوں تک افغان فوج اور طالبان میں لڑائی جاری رہی اور آخر میں فوجیوں کو واپس لوٹنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنگجو سڑکوں پر ہتھیار لیے گھوم رہے ہیں اور پولیس کے صدر دفتر پر طالبان کا پرچم لہرا رہا ہے۔
ہرات کے ایک شہری معصوم جان نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ 'گذشتہ رات نے سب بدل دیا ہے۔ وہ (طالبان) شہر میں داخل ہوئے اور انھوں نے ہر کونے پر اپنے پرچم لہرا دیے۔'
کابل میں امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان ہتھیار ڈالنے والے افغان فوجیوں کو ہلاک کر رہے ہیں جو کہ 'بہت پریشان کن ہے اور جنگی جرائم کا سبب بنتا ہے۔'
اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ ایک ماہ سے افغانستان میں ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کی موت اس لڑائی کی وجہ سے ہو چکی ہے۔
ہزاروں افراد شمالی صوبے سے بے گھر ہوچکے ہیں اور کابل پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ سیو دی چلڈرن کے مطابق گذشتہ دنوں کابل آنے والے بچوں کی اندازاً تعداد 72 ہزار تھی۔ یہ بچے اب سڑکوں پر سو رہے ہیں۔ جبکہ کابل کے باہر عارضی کیمپوں میں کچھ خاندانوں کو پناہ دی گئی ہے۔
جرمن حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ اگر طالبان افغانستان پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ملک کے لیے 500 ملین ڈالر کی سالانہ مالی امداد روک دیں گے۔
افغان صدر اشرف غنی منتشر سابقہ جنگجوؤں کو طالبان کے خلاف متحد کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔
بدھ کو انھوں نے مزار شریف کے دورے میں حکومت کی حمایت میں گروہوں کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ شہر روایتی طور پر طالبان مخالف سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے شہر کے تحفظ کے لیے ان مسلح گروہوں کے سربراہان سے بات چیت کی۔
کئی برسوں تک اشرف غنی نے حکومت کی حمایت کرنے والے جنگجوؤں کو نظر انداز کیا تاکہ افغان فوج کی اہمیت بڑھ سکے مگر اب انھیں دوبارہ ان کی ضرورت پڑی ہے تاکہ طالبان کا مقابلہ کیا جاسکے۔
رواں ہفتے کے اوائل میں صدر غنی نے حکومت کی حامی ملیشیا کو ہتھیار دینے کی منظوری دی تھی۔
اس سے پہلے افغانستان کے وزیر داخلہ جنرل عبدالستار مرزاکوال نے طالبان کو پیچھے دھکیلنے کے حکومتی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ملک کے بڑے حصوں کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے تین مراحل پر مشتمل حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے جس کے تحت مقامی 'رضاکار مزاحمت کاروں' کو مسلح کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ افغانستان کی افواج بڑی شاہراہوں، شہروں اور سرحدی گزرگاہوں کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرانے پر توجہ دے رہی ہیں۔
امریکی اور برطانوی شہریوں کو نکالنے کا منصوبہ
برطانوی دفترِ خارجہ نے افغانستان میں موجود تمام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ اندازاً چار ہزار برطانوی شہری اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ کھلا رہے گا تاہم 'ہم کابل میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں موجود سویلینز کی تعداد میں کمی کر رہے ہیں۔'
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں 3000 امریکی فوجی کابل بھیجے جائیں گے، تاہم پینٹاگون نے زور دیا کہ یہ فوجی طالبان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
سپین بولدک پر پاکستان اور افغانستان کی سرحد کھل گئی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا جس کے باعث یہاں سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت شروع ہو گئی ہے۔
چمن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی سرحد کو کھول دیا گیا ہے۔
اس سرحد کو افغان طالبان نے چھ اگست کو بند کیا تھا اور انھوں نے پاکستانی حکام سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ یہاں سے آمدورفت کے اوقات کو بڑھا دیا جائے ۔
افغان طالبان اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد ڈپٹی کمشنر چمن نے دس اگست کو سرحد کو صبح آٹھ بجے سے سہ پہر چار بجے تک آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا لیکن اس نوٹیفیکیشن کے اجرا کے دو روز بعد بھی سرحد کھل نہیں سکی تاہم طالبان کی جانب سے قندھار کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد جمعہ سے سرحد کھول دی گئی۔
سرحد کی بندش کے باعث دونوں طرف ہزاروں افراد پھنس گئے تھے اور انھیں شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جمعرات کو باب دوستی کے مغرب میں ایک کراسنگ پوائنٹ پر افغانستان جانے والے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی گئی تھی۔