آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: اتر پردیش میں دو سے زیادہ بچوں پر پابندی کیوں لگائی جا رہی ہے؟
- مصنف, سوتک بسواس & آپرنا
- عہدہ, بی بی سی نیوز
انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش نے آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ایک متنازع بل پیش کیا ہے۔ اس کے تحت اگر کسی کے دو سے زیادہ بچے ہوئے تو اس شخص کے لیے سرکاری ملازمتوں، ترقی، سبسڈی اور بلدیاتی انتخابات لڑنے کے حق سے محروم رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اتر پردیش کی آبادی 22 کروڑ ہے اور طویل عرصے سے یہاں حکمرانی کا چیلنج رہا ہے اور ترقیاتی عشاریوں میں یہ مسلسل نچلے درجوں پر رہا ہے۔
لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ انڈیا کی طرح اس کی آبادی میں بھی اضافے کی رفتار پہلے سے ہی سست ہے۔
ماہرین نے 'زبردستی' دو بچوں کی پالیسی کے خلاف متنبہ کیا ہے جو خواتین کے بااختیار ہونے کی نفی کرتی ہے اور اس سے بیٹوں کی شدید خواہش میں غیر محفوظ یا جنسی انتخاب سے متعلق اسقاط حمل میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ریاستی لا کمیشن کے تیار کردہ اس بل سے وہ حیران و پریشان ہیں کیونکہ یہ اتر پردیش (یوپی) کی آبادی کنٹرول کی پالیسی سے متصادم ہے جو کہ اتوار کو ہی جاری کی گئی ہے۔
انڈیا کی پاپولیشن فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر پونم مٹریجا نے کہا: 'یہ بل آبادی کی ایک بہت وسیع پالیسی کے منافی ہے جس میں نوجوانوں کی جنسی اور تولیدی صحت، بچوں اور زچگی، شرح اموات، اور عمر رسیدہ کے مسائل سمیت بہت سے معاملات شامل ہیں۔‘
کیا یوپی کو دو بچوں کی حد بندی والے قانون کی ضرورت ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا واقعتاً نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ بیشتر ریاستوں میں خواتین پہلے سے کہیں کم بچے پیدا کر رہی ہیں جس سے مؤثر طریقے سے شرح پیدائش میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پونم مٹریجا نے کہا کہ ’یو پی کو 18 فیصد مانع حمل کی ضرورت ہے۔ خواتین کو مزید کمزور بنانے کے بجائے ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ انھیں مانع حمل کی بیشتر سہولیات فراہم ہوں۔‘
حکومت کے ایک تخمینے کے مطابق یو پی میں بچوں کی پیدائش کی شرح سنہ 2025 تک کم ہو کر 2.1 فیصد ہو جائے گی۔ اس سے قبل یہ سنہ 1993 میں 4.82 سے کم ہو کر 2016 میں 2.7 ہو گئی تھی۔
مسز مٹریجا نے کہا کہ گرتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے 'نسبندی کو فروغ دینا نقصان دہ ہو گا‘ کیونکہ 'انڈیا کی آبادی میں 70 فیصد اضافہ نوجوانوں کی طرف سے ہونا ہے۔ لہذا ہمیں غیر مستقل اور (بچوں کے درمیان) فاصلہ رکھنے والے طریقوں کی ضرورت ہے۔'
بچوں کی پیدائش کی شرح، بدلاؤ کی سطح سے نیچے چلی گئی ہے جو کہ ملکی سطح پر فی عورت 2.1 پیدائش رکھی گئی ہے اور انڈیا کی 22 ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں میں سے 19 کے تازہ ترین قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس) کے اعداد و شمار ایسا ہی بتاتے ہیں۔ اتر پردیش سمیت بقیہ نو ریاستوں کے اعداد و شمار ابھی تک تیار نہیں ہیں۔
بڑھتی ہوئی آگاہی، سرکاری پروگرام، شہریت، اوپر کی جانب حرکت اور مانع حمل کے جدید طریقوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دنیا کے قریب نصف ممالک میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2070 تک عالمی سطح پر پیدائش کی شرح متبادل کی سطح سے نیچے آنے کا خدشہ ہے۔
چین میں بچوں کی پیدائش کی شرح 2020 میں کم ہو کر 1.3 رہ گئی ہے جبکہ انڈیا کی آخری سرکاری گنتی سنہ 2016 میں ہوئی تھی جس میں شرح پیدائش 2.2 تھی۔
تو اب اس قانون کو کیوں نافذ کریں؟
ماہرین آبادیات کے مطابق اس کی ایک وجہ پورے ملک میں مختلف شرح کا ہونا ہے۔
اترپردیش، بہار، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، راجستھان، مدھیہ پردیش جیسی چھ ریاستوں میں ملک کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں اور یہاں بچوں کی پیدائش کی شرح قومی ریپلیسمنٹ کی شرح 2.1 سے زیادہ ہے۔ جبکہ اس کے برعکس جنوبی ریاست کیرالہ (1.8)، کرناٹک (1.7)، آندھرا پردیش (1.7) یا گوا (1.3) میں یہ قومی سطح پر بچوں کی پیدائش کی شرح سے کم ہے۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سائنسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کے ایس جیمز کا کہنا ہے کہ 'اس کے علاوہ ہمارے شہر بھیڑ والے ہوتے جا رہے ہیں اور یہاں منصوبہ بندی بھی نہیں ہے جو کہ زیادہ آبادی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔‘
سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات پر یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی نگاہ ہے۔ اور اس طرح کے سخت اقدام سے وہ اپنی شبیہ کو ایک سخت گیر اور تقسیم کرنے والے ہندو قوم پرست سے بدل کر ترقیاتی ایجنڈے پر کام کرنے والے سے تبدیل کر دیں گے۔
ان سب کے باوجود یہ کوئی نیا خیال بھی نہیں ہے۔ سنہ 2018 میں 125 سے زیادہ اراکین پارلیمان نے صدر کو خط لکھا تھا جس میں دو بچوں کے اصول پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جبکہ رواں سال سپریم کورٹ نے آبادی پر قابو پانے کے اقدامات کے متعلق کئی درخواستوں کو مسترد کردیا کیونکہ اس سے 'خانہ جنگی جیسی صورتحال' پیدا ہو سکتی ہے۔
پچھلے سال آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تین ممبران پارلیمنٹ نے آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا تھا۔ بہر حال سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل سے 12 ریاستوں نے دو بچوں کی پالیسی کو کسی نہ کسی صورت متعارف کروا رکھا ہے۔
کیا اس سے بات بنی؟
یہ کہنا مشکل ہے کیوں کہ مختلف ریاستوں نے اس کے مختلف ورژن نافذ کیے ہیں۔ کچھ میں تو خامیاں موجود ہیں جبکہ بعض میں ایسا کرنے والوں کو مالی مراعات کی پیشکش ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی شامل ہے۔
اس کے متلعق کوئی آزادانہ جائزہ سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن پانچ ریاستوں میں ہونے والے ایک مطالعے میں غیر محفوظ اور جنسی انتخاب سے متعلق اسقاط حمل میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور مرد اپنی بیویوں کو طلاق دے کر یا اپنے بچوں کو گود لینے کے لیے ترک کر رہے ہیں تاکہ وہ انتخابات لڑ سکیں۔
لیکن اس کے نتائج ملے جلے آئے ہیں۔ چار ریاستوں نے اس کے متعلق قانون کو کالعدم قرار دے دیا۔ بہار میں اس کا آغاز 2007 میں ہوا تھا لیکن اس کے باوجود ملک میں ولادت کی شرح (3.4) وہاں سب سے زیادہ ہے۔ جبکہ کیرالہ، کرناٹک اور تمل ناڈو میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور حالانکہ وہاں اس طرح کا کوئی قانون نافذ العمل نہیں ہے۔
انڈیا میں آبادی کونسل کے دفتر کے ڈائریکٹر نرنجن ساگورتی نے کہا: 'جہاں تک آبادی کی تقسیم کا تعلق ہے انڈیا فی الحال ایک بہترین سطح پر ہے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا ایک آبادیاتی موڑ پر جہاں نوجوان اور فعال افرادی قوت کی یہ قابلیت ہے کہ وہ معیشت کو غربت سے نکال سکیں۔ بہر حال یہ دیکھنا باقی ہے کہ خاص طور پر اتر پردیش جیسی آبادی والی ریاستیں اس کو کس طرح استعمال کرتی ہیں۔
پونم مٹریجا کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تعلیم اور صحت کے نظام میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سری لنکا سے سیکھ سکتے ہیں جس نے لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر میں اضافہ کر دیا ہے یا بنگلہ دیش اور ویتنام سے سے سبق حاصل کر سکتے ہیں جو غیر مستقل مانع حمل کی سہولیات دروازے دروازے خواتین تک پہنچا رہی ہے۔‘