مانع حمل طریقوں کے بارے میں منفی رویے کو بدلنے کی کوشش

    • مصنف, سروج سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

انڈیا میں مانع حمل کے موضوع پر بات کرنا برا سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں شرح پیدائش بہت زیادہ ہے۔

انڈیا کی غریب ترین ریاست بہار میں ہر عورت کے اوسطاً تین یا تین سے زیادہ بچے ہیں، تاہم ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک خاتون اس رویے کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

29 سالہ دو بچوں کی ماں نرما دیوی کھل کر کہتی ہیں: ’جی ہاں میں مانع حمل کے طریقے استعمال کرتی ہوں۔‘

ریاست بہار کے ضلع گیا کے دور افتادہ گاؤں براچٹی میں اس طرح یہ بات کھل کے کہنا بہت سنسنی خیز ہے۔

’میں ماہواری کے دوران سرخ گولی کھاتی ہوں جبکہ عام دنوں میں سیاہ رنگ والی گولیاں۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کے مضر اثرات نہیں ہوتے۔‘

نرما کی جب شادی ہوئی تھی تو وہ صرف 11 برس کی تھیں۔ اس کے سسرال میں مانع حمل کے بارے میں بات کرنے پر بھی سرزنش کی جاتی تھی۔

مرد اور عورت کے درمیان اس موضوع پر بات کرنا ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے، البتہ عورتیں گھروں کے اندر آپس میں اس موضوع پر کُھسر پُھسر کر لیتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بہار میں اوسط شرح پیدائش ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

خاندانوں کی صحت عامہ کے ایک قومی جائزے کے مطابق ایک عورت کی اوسطاً شرح پیدائش ریاست بہار میں تین ہے، جبکہ باقی ریاستوں میں یہ دو ہے۔

اور یہ ایک عورت کی اوسطاً شرح پیدائش ان ملکوں میں زیادہ ہے جن میں مانع حمل طریقوں کا استعمال کم ہے۔

بہار میں صرف یہی نہیں کہ مانع حمل پر چائے پیتے ہوئے بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے بلکہ شادی شدہ جوڑے تنہائی کے لمحات میں بھی مانع حمل طریقے استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

لیکن نرما دیوی اس معاملے میں منفرد ہیں۔

نہ صرف انھوں نے خود عارضی قسم کے مانع حمل طریقوں کو استعمال کرکے اپنے خاندان کے لیے منصوبہ بندی کی بلکہ اب تک انھوں نے دو سو کے قریب دیگر عورتوں کو بھی ایسا کرنے پر راضی کیا۔

نرما ٹیلی ویژن کی ایک سیریز ’میں کچھ بھی کر سکتی ہوں‘ کو دیکھ کر متاثر ہوئی تھیں۔

’میں کچھ بھی کر سکتی ہوں‘ سیریز ممبئی کی ایک ڈاکٹر سنہا کی کہانی ہے جو دیہاتی عورتوں کو جنسی صحت، مانع حمل اور معاشرتی طور پر معیوب یا ممنوع موضوعات پر تعلیم دیتی ہیں۔

اس سیریز کو دیکھنے کے بعد نرما نے ڈاکٹر سنہا کا کردار اپنے ماحول میں اپنانے کا سوچا۔

نرما نے کہا کہ ’اس کی ایک قسط میں میں نے دیکھا کہ ایک عورت ہسپتال کے بستر پر اپنے چوتھے بچے کو جنم دیتے ہوئے مر جاتی ہے۔

’اس نے گذشتہ تین برسوں میں تین بچے پیدا کیے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کا جسم چوتھے بچے کو جنم دینے کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔‘

اس قسط نے ان میں اپنی ایک تحریک شروع کرنے کا حوصلہ ہیدا کیا۔ انھوں نے 20 عورتوں پر مشتمل ایک گروپ بنایا جس نے قریبی دیہاتوں میں جا کر مقامی عورتوں کو مانع حمل کے بارے میں آگاہی دینا شروع کر دی۔

گذشتہ برس صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر ایک گھنٹے میں پانچ عورتیں بچے کو جنم دیتے ہوئے موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اس کی بڑی وجہ خون کا جریان، یعنی خون کا کثرت سے بہہ جانا ہے۔ ایسے معاشرے جہاں عورتیں کوئی اختیار نہیں رکھتی ہیں وہاں جب وہ تواتر سے بچے پیدا کرنے کے بعد پھر حاملہ ہو جاتی ہیں تو ان کے لیے پیجیدگیاں بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

انڈیا میں مانع حمل کے لیے سب سے زیادہ مستعمل طریقہ عورت کی نس بندی ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی تمام ذمہ داری بیوی پر پڑ جاتی ہے جس میں شوہر بمشکل اپنا کوئی کردار دیکھتا ہے۔

مانع حمل کے عارضی طریقے مثلاً گولیاں کھانا، کونڈوم کا استعمال لوگوں میں مقبول نہیں ہیں جس کے نتیجے میں خاص کر دیہات میں رہنے والی عورت کے لیے بچوں میں وقفہ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نرما کا بیٹا دس برس کا ہے جبکہ اس کی بیٹی سات کی، تین برس کا وقفہ۔ وہ اس کا سہرا علاقے کی ایک ہیلتھ ورکر پونم کو دیتی ہے۔

پونم اس صحت عامہ کی ٹیم کا حصہ ہیں جسے حکومت کی نیشنل رورل ہیلتھ مشن کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔

یہ ورکرز دیہاتی عورتوں کو جنسی صحت کے بارے میں آگاہی دیتی ہیں اور حاملہ عورتوں کو بچہ جنم دینے کے لیے ہسپتال پہچنے میں مدد کرتی ہیں۔

پونم وہ پہلی ورکر تھی جس نے نرما کو مانع حمل طریقے استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

اس مدد کے باوجود نرما کے لیے مانع حمل ادویات کا حصول آسان نہ تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ مانع حمل ادویات وغیرہ خرید کر لائے تو اس نے صریحاً انکار کر دیا۔ اس نے کہا میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ گاؤں کے دوسرے مرد کیا کہیں گے؟‘ کافی تگ و دو کے بعد اس کا شوہر اسے قریبی ہسپتال لے گیا جہاں اسے مفت میں مانع حمل ادویات وغیرہ مل گئیں۔

بالآخر اس نے دیہات کی دیگر عورتوں کو بھی اسی طرح کرنے پر راضی کر لیا۔

یہ ایک دشوار لڑائی ہے، لیکن اس نے مضبوطی کے ساتھ سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

نرما کا کہنا ہے کہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو تعلیم دینے سے ہی یہ ممکن ہو گا کہ اگلی نسل مانع حمل کے موضوعات پر کھل کر بات کر سکیں۔

اور ان کی یہ بھی امید ہے کہ بالآخر مرد بھی اس کام میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں گے۔

’سو خواتین‘ کیا ہے؟

بی بی سی 100 خواتین ہر برس سو خواتین کو ان کے کسی اہم کردار یا کامیابی پر انھیں اس فہرست میں شامل کرتی ہے۔ اس برس ہمارے سامنے چار اہم چیلنج ہیں جن کا عورتوں کو سامنا ہے اور ہم ان کے تحت ان کی خدمات کو ماپ رہے ہیں: اپنے شعبے میں زیادہ سے زیادہ کس اونچائی تک پہنچی ہیں، عورتوں میں خواندگی، لوگوں میں ہراسانی اور کھیلوں کے میدان میں جنسی بنیاد پر امتیازی سلوک۔

آپ لوگوں کی مدد سے یہ عورتیں ان چیلنجوں کے کچھ عملی قسم کے حل ڈھونڈ سکیں گی اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے خیالات ہمیں بھیج کر اس کام میں شامل ہوں۔ ہم تک آپ فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں #100Women کا ہیش ٹیگ ضرور استعمال کریں۔