انڈیا میں دہشت گردی کے الزام میں جیل جانے والے سب سے معمر شخص کی موت، سوشل میڈیا پر شور

اسٹین سوامی کا پوسٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے ہزاروں کارکنوں، سیاسی رہنماؤں اور شہریوں نے قبائلی حقوق کے کارکن اسٹین سوامی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہار لیا ہے۔

اسٹین سوامی کی قید کی حالت میں موت ہو گئی۔ وہ 84 سال کے تھے۔

بہت سے لوگوں نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس طرح انھیں کووڈ 19 کے دوران جیل بھیجا گیا اور بار بار ضمانت دینے سے انکار کیا گيا۔

مسیحی پادری پارکنسن کی بیماری میں مبتلا تھے اور انڈیا میں دہشت گردی کے الزام میں جیل جانے والے سب سے معمر شخص تھے۔

جیل میں کووڈ کی زد میں آنے کے بعد انھیں مئی کے مہینے میں ایک نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

وہ سوموار کے روز مغربی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں دل کی بندش کے سبب چل بسے۔

معروف مورخ رامچندر گوہا نے ان کی موت کو 'عدالت میں ہونے والے قتل کا معاملہ' قرار دیا ہے۔

حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ 'وہ انصاف پانے اور انسانی سلوک کے مستحق تھے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لاؤلر نے کہا کہ وہ سوامی کی موت کے بارے میں سن کر بہت صدمے میں ہیں اور انھوں نے کہا کہ 'انسانی حقوق کے محافظوں کو جیل بھیجنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔'

فادر اسٹین سوامی ان 16 نامور کارکنوں، ماہرین تعلیم اور وکلاء میں شامل تھے جن پر دہشت گردی مخالف کالے قانون کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا اور اس پورے واقعے کو بھیما کورے گاؤں کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اکتوبر سنہ 2020 میں گرفتار ہونے کے بعد انھوں نے آٹھ ماہ ممبئی کی ایک جیل میں مقدمے کی سماعت کے انتظار میں گذارے۔ اس دوران ان کی صحت تیزی سے بگڑتی گئی اور یہ حالت ہو گئی کہ نہ وہ خود سے کھا سکتے تھے اور نہ غسل کر سکتے تھے۔

جیل حکام کو انھیں پانی پینے کے لیے نلی جیسی بنیادی سہولیات نہ دینے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گيا۔ انھیں ان چیزوں کی اس لیے ضرورت تھی کہ پارکنسن کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں ارتعاش رہتا تھا اور وہ پانی بھی ٹھیک سے نہیں پی سکتے تھے۔

مئی میں آخری بار ضمانت کی سماعت کے دوران سوامی نے اپنی موت کی پیش گوئی کی تھی۔ انھوں نے ججوں سے کہا تھا کہ 'اگر ایسا ہی چلتا تو میں پریشان ہوتا رہوں گا شاید بہت جلد یہاں مرجاؤں گا۔'

منگل کے روز انگریزی زبان میں شائع ہونے والے اخبار دی انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ سوامی کی موت نے 'انڈیا میں نظام انصاف کے سب سے اونچے اداروں (کی وقعت کو) کم کر دیا ہے۔'

سٹین سوامی کی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اخبار نے ایک اداریے میں لکھا: ' قید کے تقریبا نو مہینوں کے دوران ان کی موت تک بیمار کارکن بار بار ریاست کے استبدادی ہاتھ، غیر ذمہ دار عدلیہ اور جیل کے ٹوٹے پھوٹے نظام کے کا مقابلہ کرتے رہے۔'

مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین نے کہا کہ وفاقی حکومت کو 'مکمل بے حسی اور بروقت طبی خدمات کی عدم فراہمی کے لیے جوابدہ ہونا چاہئے، جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

خیال رہے کہ سٹین سوامی جھارکھنڈ میں رہتے تھے اور کام کرتے تھے۔

سوامی پر سنہ 2018 میں مہاراشٹر کے بھیما کورے گاؤں میں ایک ریلی میں ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے سلسلے میں الزامات لگائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)، جو دہشت گردی کے جرائم کی تحقیقات کرتی ہے، اس نے سوامی اور دیگر پر ماؤ نواز باغیوں سے تعلقات رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سوامی نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ انھیں جھارکھنڈ میں قبائلی لوگوں کی ذات پات اور زمین کی جدوجہد سے متعلق ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اسٹین سوامی کی پرانی تصویر

سپریم کورٹ کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ سوامی کی موت 'ڈیزائن کی گئی تھی۔'

بیلجیئم میں پیدا ہونے والے اور انڈیا میں ترقیاتی علم معاشیات کے ماہر ژاں دریز ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے فادر سوامی سے واقف تھے۔ انھوں نے کہا: 'اگر آپ ماؤ نواز بھی ہوں، جس پر میں ذرہ برابر بھی یقین نہیں، تو بھی جو آج ہوا اس پر آپ کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے۔