شملہ معاہدہ: جب بے نظیر بھٹو کو ’پاکیزہ‘ فلم دیکھنے کے لیے سینما جانا پڑا

بے نظیر بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

آج سے ٹھیک 49 برس قبل دو جولائی کو انڈیا اور پاکستان نے شملہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس وقت انڈیا میں مرکز نگاہ بے نظیر بھٹو تھیں جو بعد میں پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت تمام تر توجہ اس معاہدے کے بجائے بے نظیر بھٹو پر مرکوز تھی۔

بے نظیر بھٹو اس وقت اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ انڈیا کے دورے پر گئیں تھیں۔

دراصل ذوالفقار علی بھٹو کو سنہ 1972 میں انڈیا پاکستان کے ہونے والے اجلاس میں اپنی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ شریک ہونا تھا مگر بیگم نصرت بھٹو کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی 19 سالہ بیٹی بے نظیر بھٹو کو اپنے ساتھ انڈیا لے جانے کا فیصلہ کیا۔

بے نظیر بھٹو ان دنوں امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئیں ہوئیں تھیں۔

بے نظیر بھٹو نے اپنی سوانح حیات 'دختر مشرق' میں تفصیل سے لکھا ہے کہ ان کے والد نے جہاز میں انھیں انڈیا جاتے وقت کیا کہا تھا۔ بے نظیر لکھتی ہیں کہ انھوں نے کہا تھا کہ 'انڈیا کے دورے کے دوران آپ کو ہنسنا نہیں ہے۔ بابا نے کہا تھا کہ 93 ہزار فوجی جنگی قیدیوں کے باوجود میں انڈیا کو خوش ہونے کا موقع نہیں دے سکتا اور آپ بہت افسردہ بھی دکھائی نہ دینا ورنہ انڈین پاکستان میں دکھ کو بھانپ لیں گے۔'

بے نظیر نے اپنے والد سے پوچھا کہ وہ کسی طرح کی نظر آئیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ 'نہ زیادہ خوش اور نہ زیادہ افسردہ۔' بے نظیر نے کہا یہ تو کافی مشکل ہے جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے جواب دیا 'بالکل بھی نہیں۔'

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب اندرا گاندھی کو غصہ آ گیا تھا

انڈیا کی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی یہ جائزہ لینے کے لیے کہ کیا تمام انتظامات مکمل ہیں اور پاکستانی صدر ذوالفقار بھٹو اور ان کے وفد کا ہماچل بھون میں کیسے استقبال کیا جائے گا ایک دن قبل ہی شملہ پہنچ چکی تھی۔

اندرا گاندھی کے سیکریٹری پی این داھر لکھتے ہیں کہ 'اندرا جی اس وقت غصے میں آگ بگولہ ہو گئیں جب انھوں نے اپنی ایک تصویر ذوالفقار بھٹو کے لیے مختص کردہ کمرے میں دیکھی۔'

انھوں نے فوراً وہ تصویر وہاں سے ہٹوائی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اندرا گاندھی نے کہا تھا ' میں ہمیشہ سے کہہ سکتی ہوں کہ میری نظریں پاکستان کے صدر پر ہیں۔'

حتیٰ کہ انھوں نے کمرے میں موجود ٹوائلٹ کا بھی معائنہ کیا اور انھیں یہ دیکھ کر خوش ہوئی کہ ٹوائلٹ میں تمام انڈین اشیا رکھی گئیں تھی۔

اپنی کتاب 'اندرا گاندھی: ایمرجنسی اور انڈین جمہوریت' میں داھر جی لکھتے ہیں کہ اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ذوالفقار بھٹو کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ انڈین معیشت اپنی شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہے۔

جیسے ہی ہیلی کاپٹر شملہ کے ہیلی پیڈ پر اترا اندرا گاندھی کی نظر اس نوجوان لڑکی پر پڑی اور اس نے ان کی توجہ حاصل کر لی۔ایک دوسرے سے ملاقات کے دوران بے نظیر نے انھیں سلام کیا جس کے جواب میں اندرا گاندھی نے مسکراتے ہوئے ہیلو کہا۔

بے نظیر بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بے نظیر کے حسن کے چرچے

بے نظیر بھٹو کے پرسنل سیکریٹری خالد حسن لکھتے ہیں کہ شملہ کے دورے پر بے نظیر کی مقبولیت ذوالفقار بھٹو سے بھی زیادہ تھی۔ بے نظیر جہاں بھی جاتیں انھیں پھولوں کے ہارے پہنائے جاتے۔

ایک دن شملہ کی مال روڈ پر بے نظیر بھٹو شاپنگ کرنے گئیں تو لوگوں کی بھیڑ نے انھیں گھیر لیا۔ ہر کوئی ان سے ملنے کا، بات کرنے کا خواہشمند تھا، لیکن بے نظیر نے خالد کو کہہ رکھا تھاکہ کسی کو ملاقات کی اجازت نہ دیں۔

صرف ایک انڈین صحافی دلیپ مکھر جی کو ملاقات کی اجازت تھی کیونکہ مکھر جی نے ذوالفقار بھٹو کے بارے میں لکھ رکھا تھا۔

مکھر جی نے خالد کو بتایا کہ 'میری بیٹی جو بے نظیر بھٹو کی ہم عمر ہے ان سے ملنا چاہتی ہے۔' خالد نے اس کے متعلق بے نظیر بھٹو سے پوچھا جس پر بے نظیر بھٹو نے کہا کہ 'اگر آپ میرے ساتھ ہوں گے تو مکھر جی کی بیٹی کو ملنے کی اجازت دے دیں۔'

مکھرجی اپنے بیٹی کو لے کر آئے لیکن بے نظیر نے ان کی بیٹی پر کوئی توجہ نہ دی اور انھوں نے انھیں بتایا کہ ان کے والد کے متعلق لکھی گئی کتاب میں کچھ الفاظ درست نہیں لکھے گئے۔

کپڑے جو بے نظیر کو مانگنے پڑے

خالد لکھتے ہیں کہ انڈینز کو یہ احساس ہوا کہ بے نظیر کو اس وقت کی انڈیا کی ہٹ فلم ’پاکیزہ‘ ضرور دیکھنی چاہیے۔ لیکن بے نظیر کو فلم دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

تاہم اس بات کا خیال کرتے ہوئے کہ فلم دیکھنے سے انکار کرنا سفارتی آداب کے خلاف ہے اور یہ نامناسب ہو سکتا ہے بے نظیر بھٹو نے شملہ کی مال روڈ پر واقع سنیما میں پاکیزہ فلم دیکھی۔

بے نظیر بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے بات انھوں نے قریبی بک سٹور سے چند کتابیں بھی خریدیں تھی۔

بے نظیر کو یہ دیکھ کر حیرانی اور بے چینی ہوئی کے تمام دورے کے دوران انڈین میڈیا کی توجہ ان کے لباس اور کپڑوں پر تھی۔ مگر اس وقت تک کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ انھوں نے یہ تمام کپڑے اپنی ایک دوست کی بہن سامعیہ سے مانگے تھے۔

بے نظیر امریکہ میں ٹی شرٹ اور جینز پہنتی تھیں، انھوں نے ہارورڈ میں اپنی تعلیم کے دوران بھی یہ ہی لباس پہنے رکھا تھا۔

دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو اور ان کا وفد یہ واضح نہیں کر سکا تھا کہ انڈین میڈیا بے نظیر پر اتنی توجہ کیوں مرکوز کیے ہوئے ہے۔

اندرا گاندھی خود کو یاد کرتی تھیں

ذوالفقار بھٹو نے اس کا جواب خود دیتے ہوئے کہا تھا کہ بے نظیر پر توجہ مرکوز کر کے انڈیا سنجیدہ معاملات سے توجہ ہٹانا چاہتا تھا۔

بے نظیر نے اپنی سوانح حیات میں لکھا کہ ایک چیز جو مجھے بے چین کرتی تھی وہ یہ کہ کھانے کے دوران تمام وقت اندرا گاندھی مجھے دیکھتی رہتی تھیں۔

اندرا گاندھی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بے نظیر نے اس الجھن کو سلجھانے کے لیے اندرا گاندھی سے بات کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ واضح انداز میں جواب دیتی ہیں کہ شاید اندرا گاندھی اپنے بچپن کو یاد کرتی تھیں جب وہ اپنے والد جواہر لعل نہرو کے ساتھ سمٹوں اور اجلاسوں میں جاتی تھیں۔ شاید اندرا گاندھی کو بے نظیر میں اپنا آپ نظر آتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

بھٹو کی آخری چال

دو جولائی کو اچانک ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر سے کہا کہ 'اپنا سامان باندھنا شروع کر دیں ہم کل پاکستان واپس چلے جائیں گے۔'

بے نظیر نے پوچھا 'کیا آپ معاہدہ کیے بغیر ہی واپس جانا چاہتے ہیں؟'

ذوالفقار علی بھٹو نے کہا 'ہاں میں بغیر معاہدہ کیے واپس جانے کا عادی ہوں۔'

جس شام ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان باقاعدہ ملاقات ہونی تھی اس رات کے کھانے کی میزبانی پاکستانی وفد نے کی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر کو بتایا کہ کسی کو مت بتانا اس ملاقات میں میں اندرا گاندھی کے ساتھ اپنی آخری چال چلنے جا رہا ہوں۔

کچھ دیر بعد ذوالفقار بھٹو واپس آئے، ان کا چہرہ روشن تھا اور اس پر تمکنت جھلک رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ اب کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ انشا اللہ لگتا ہے اب معاہدہ ہو جائے گا۔'

شملہ معاہدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر کو بتایا کہ اندرا گاندھی پریشانی میں اپنے ہینڈ بیگ کے ساتھ کھیلتی رہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں گرم چائے پسند نہیں آئی۔ اس لمحے انھوں نے لمبی سانس بھری تھی۔

یہ مذاکرات آدھا گھنٹا جاری رہے، دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کھانے کے بعد تک بھی چلتی رہی تھی۔

'بیٹا پیدا ہوا ہے، بیٹا'

ان مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی وفد نے آپس میں خفیہ اشاروں کی زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا، یعنی اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے اور معاہدہ ہو جاتا تو کہا جاتا کہ بیٹا پیدا ہوا ہے اور اگر معاہدہ نہ ہوتا تو کہا جاتا کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے۔

بے نظیر اس وقت اپنے کمرے میں تھیں اور رات کے 12:40 کا وقت تھا جب ان کے کان میں آواز پڑی کہ بیٹا پیدا ہوا ہے۔

وہ دوڑتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے آئیں تو وہاں صحافیوں اور فوٹوگرافروں کا ایک جم غفیر تھا۔ بعد میں وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئیں۔ اس وقت تک پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو اور انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی شملہ معاہدے پر دستخط کر چکی تھیں۔