آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جموں ڈرون حملہ: کیا انڈیا نئی ٹیکنالوجی سے ہونے والے حملوں کے لیے تیار ہے؟
- مصنف, رگھویندر راؤ
- عہدہ, بی بی سی
27 جون کو انڈین فضائیہ کی جموں ائیر بیس پر چھوٹے ڈرون سے حملے انڈیا کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ سمجھا جا رہا ہے جس میں چھوٹے ڈرونز پر بارودی مواد لگا کر انڈین فوج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اگرچہ بھارتی فضائیہ نے سرکاری طور پر صرف اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جموں ایئر فورس سٹیشن کے تکنیکی علاقے میں دو کم شدت والے دھماکے ہوئے تھے تاہم یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا تھا۔
انڈین دفاعی ماہرین اس حملے کو انڈیا کے خلاف ’پاکستان کی پراکسی جنگ کا ایک نیا باب‘ بھی سمجھ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی ماضی میں کئی ڈرون طیاروں کو مار گرانے کے دعوے اور ان کی تصاویر جاری کی جاتی رہی ہیں۔ گذشتہ برس بھی پاکستانی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر انڈیا کے بغیر پائلٹ کے ایک چھوٹے جاسوس ڈرون 'کواڈ کاپٹر' کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
پاک بھارت سرحد پر اڑتے ڈرونز
گذشتہ چند برسوں سے پاکستان اور انڈیا کی سرحد سے وقتاً فوقتاً ڈرونز سے متعلق خبریں آتی رہتی ہیں۔
انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جب بھی سکیورٹی فورسز کو ڈرون یا ڈرون نما کوئی چیز نظر آتی ہے تو وہ اس کی اطلاع تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کو دیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ سکیورٹی ایجنسیاں باہمی طور پر یہ معلوم کرتی ہیں کہ آیا دیکھی جانے والی چیز واقعی ڈرون تھا اور اگر ڈرون تھے تو کس طرح کے ڈرون تھے۔
گذشتہ سال جون میں بی ایس ایف نے کٹھوعہ میں مبینہ طور پر سرحد پار پاکستان سے آنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔ جب یہ ڈرون گرایا گیا تو اس سے ایک نیم خودکار کاربائن، گولہ بارود اور دستی بم برآمد ہوا تھا۔ اس ڈرون کا وزن تقریباً 18 کلو تھا اور یہ 5-6 کلو وزن کے ساتھ اڑ رہا تھا۔ انڈین سکیورٹی اداروں کے مطابق اس ڈرون کے بیشتر حصے چینی ساخت کے تھے۔
پچھلے سال ستمبر میں ڈرون حملوں کے خطرے سے متعلق لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ 'ملک میں ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ گذشتہ مارچ میں بھی اسی موضوع پر سوال کیا گیا تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں حکومت نے کہا تھا کہ اس نے 'اہم حفاظتی ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے ایک معیاری طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا ہے۔'
کیا انڈیا ان حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟
جس طرح سے انڈیا پاکستان سرحد پر ڈرونز کو دیکھا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ دن دور نہیں جب ڈرونز کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے گا۔ جموں کے حملے کے بعد اس پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے کہ کیا انڈیا ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟
اجے ساہنی دہلی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف کانفلِکٹ مینجمنٹ اور جنوبی ایشیاء میں شدت پسندی سے متعلق ایک پورٹل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'انڈین سکیورٹی کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک ردعمل ہے اور یہ کہ سکیورٹی کے شعبے کی ضروریات تک رسائی بیوروکریسی کے ذریعے چلتی ہے جو اعلیٰ سطح پر ٹیکنالوجی کے بارے میں بہت کم جانتی ہے'۔
ان کا کہنا ہے '2016 اور اس کے بعد سے دہشت گردوں نے متعدد مقامات پر مسلح ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ دولت اسلامیہ نے شام میں اس کا استعمال شروع کیا تھا۔ وہ بارود سے بھرے ڈرونز سے حملے کرتے تھے۔ اسے استعمال کرنا زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ یہ بازار میں دستیاب ہیں اور آپ انہیں صرف کچھ مقدار میں دھماکہ خیز مواد سے لوڈ کرتے ہیں اور انہیں کسی ہدف پر پہنچا دیتے ہیں۔‘
ڈرون حملے مہلک ہوسکتے ہیں
اجے ساہنی کا خیال ہے کہ اگرچہ ڈرون استعمال کرنے میں بہت موثر آلہ نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ ایک بہت ہی خطرناک چیز ہے جسے امریکی فوج بڑے مؤثر اور تباہ کن طاقت کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ فوجی سطح پر بڑے ڈرونز کا پاکستان سمیت کئی ملکوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
اجے ساہنی کا کہنا ہے 'سب سے بڑا خطرہ سرحد پار سے ڈرون حملے ہیں۔ ہر ماہ ڈرون کے 3 سے چار واقعات کا پتہ چلتا ہے۔ کئی بار انہیں مار گرایا بھی گیا۔ وہ ایسے ڈرونز استعمال کر رہے ہیں جو 10 کلو یا اس سے زیادہ کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب اگر آپ کے پاس 10 کلوگرام فوجی گریڈ دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے تو یہ کافی تباہ کن ہوسکتا ہے۔ '
ساہنی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے انڈیا میں ڈرون کے خطرات کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ شعور اور تیاری ہونی چاہیے تھی۔
ان کا کہنا ہے 'اب مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا میں جنگی حکمتِ عملی کی تیاری فوج کا کام نہیں ہے۔ ان کے پاس خود کو لیس کرنے، خود کو ہتھیار مہیا کرانے ردِ عمل دینے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ سٹریٹیجک تیاری سے متعلق تمام اختیارات پولیٹیکل ایگزیکٹو اور سول بیوروکریسی کے پاس ہیں۔ فوج اس سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاری کے بارے میں بات کر سکتی ہے لیکن اگر سول بیوروکریسی نے جواب نہیں دیا تو اس کے بہت کم نتائج برآمد ہوں گے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ انڈیا میں سول بیوروکریسی کا کیا حال ہے'۔
ساہنی کا یہ بھی خیال ہے کہ سکیورٹی کے شعبے میں اکثر ایسے فیصلے پولیٹیکل ایگزیکٹو طبقہ کرتا ہے اور ایسی باتوں کو اپناتا ہے جس سے انتخابی فائدہ ہو۔
ساہنی کے مطابق ابھی ڈرون سے حملہ ہوا ہے کل مصنوعی ذہانت یا روبوٹس کے استعمال سے کچھ ہوگا اور ہم حیران رہ جائیں گے اور ہم ہمیشہ کی طرح واقعے کے بعد اس کے بارے میں بات کریں گے۔'
مستقبل میں روبوٹک آلات بم دھماکوں کے لیے استعمال ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔ کیا اس کے لیے انڈیا کے پاس کسی قسم کا دفاع یا تیاری ہے؟
اس کے جواب میں اجے ساہنی کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان تمام امور پر سکیورٹی فورسز میں تبادلہ خیال کیا جارہا ہے 'لیکن ان کی بات سنتا کون ہے۔ وہ اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ سکیورٹی فورسز ہلاکتوں کو کم رکھنے کے لیے کسی نہ کسی طرح کا دفاعی پروٹوکول تیار کرسکتی ہیں۔ جب بات خود کو تیار کرنے کی ہوگی تو یہ فیصلہ ایک بار پھر افسر شاہی اور سیاسی رہنماؤں کا ہوگا۔‘
نئے خطرے کے پیشِ نظر نئے اقدامات کرنے ہوں گے
انڈین فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل ایس بی استھانہ نے ڈرون حملوں کو 'دہشت گردی کی ایک نئی جہت' قرار دیا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'ڈرون متعدد بار استعمال ہوتے رہے ہیں۔ آذربایجان آرمینیا تنازعہ ہو یا حماس کے ساتھ اسرائیل کی لڑائی، ڈرون کثرت سے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ لیکن اب ڈرون کے استعمال میں تھوڑی بہت بہرتی آ گئی ہے اور وہ تشویش کی بات ہے۔ اس بہتری کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پیچھے ایک پیشہ ور کا ہاتھ ہے'۔
استھانہ کا کہنا ہے کہ ڈرون پر دھماکہ خیز مواد لوڈ کرنا اور پھر یہ یقینی بنانا کہ یہ صحیح جگہ پر صحیح وقت پر پھٹے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے پیچھے پیشہ ورانہ ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرون طیاروں کا مسئلہ یہ ہے کہ دھماکے کے بعد یہ پوری طرح تباہ ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے اسے ٹریس کرنا مشکل ہے۔
استھانہ کا کہنا ہے کہ تجارتی طور پر دستیاب بہت سے ڈرون ریڈار کی گرفت میں نہیں آتے اور بہت سے ڈرونز کا پتہ لگانے میں ’لائن آف ویژن‘ نگرانی کا نظام مؤثر نہیں ہے۔
استھانہ کہتے ہیں' چونکہ یہ ایک خطرے کی شکل میں تیار ہو رہا ہے ہمیں اسی کے مطابق ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس کچھ سسٹم موجود ہیں۔ تمام ہوائی اڈے فضائی دفاعی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ اگر کوئی ڈرون بہت دھیمی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے تو اسے اینٹی ائیرکرافٹ گن سے مار گرایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے آپ کو میزائل یا پیچیدہ ریڈار کی ضرورت نہیں ہے۔ '
استھانہ کے مطابق ڈرون کوئی تیز رفتار سے چلنے والی چیز نہیں ہے جب تک کہ یہ ایک اعلیٰ قسم کا ڈرون نہ ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ جموں حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون بہت سست رفتار تھا 'اگر آپ کم اونچائی پر نگرانی کریں گے تو شاید ایسے ڈرونز کو نشانہ بنایا جاسکے۔'
اس کا حل کیا ہے؟
انڈیا کئی برسوں سے پاکستان کی سرحد پر سمارٹ فینسِنگ کی بات کر رہا ہے۔ استھانہ کا کہنا ہے کہ ڈرون کا استعمال کر کے سمارٹ فینسِنگ کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ 'چونکہ ڈرون کم اونچائی پر اڑ رہے ہیں اس لیے ان کا پتہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن اگر آپ کے ڈرون معمول کے ڈرون سے اونچے اڑ رہے ہیں تو وہ کم اڑنے والے ڈرون کا پتہ لگا سکتے ہیں۔'
ساہنی کا کہنا ہے کہ آلات ملک میں ہر جگہ نہیں ہوسکتے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان کو کس حد تک تعینات کرتے ہیں اور وہ تعیناتی کتنی موثر ہے'۔
ساہنی کا خیال ہے کہ انڈیا میں عام طور پر ایک علامتی ردعمل اپنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ہمیں ایسی چیز کی ضرورت ہے جو کہیں زیادہ کارآمد ہو تاکہ ڈرون کو ہوا میں جاتے ہی اس کا سراغ لگایا جاسکے اور اس پر جوابی کارروائی کی جاسکے۔'
اسرائیل کی اینٹی میزائل ٹیکنالوجی ’آئرن شیلڈ‘ کی مثال دیتے ہوئے ساہنی کا کہنا ہے کہ وہ ہزاروں میزائلوں کو بے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے حالانکہ کچھ میزائل اب بھی نہیں رکے۔
'لہذا اس نوعیت کے نقطہ نظر کی ضرورت ہے تاکہ اس خطرے کو کم کیا جاسکے۔ اور اس کے لیے بہت زیادہ منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے یہ فیصلہ کرنے کا بیوروکریسی کا عمل انتہائی غیر موثر اور غیر حساس ہے'۔
استھانہ کا کہنا ہے کہ سویلین سیکٹر میں ڈرون کی آسانی سے دستیابی دہشت گردوں کو موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کریں۔ ان کے بقول ایک عام ڈرون کو ہتھیار بنانے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے اور انڈیا کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
وہ کہتے ہیں 'یہ ایک ’ویک اپ‘ کال ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی موجود ہے اور اس کا استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ جموں میں یہ صرف ایک چھت سے ٹکرایا تھا لیکن یہ کسی لڑاکا طیارے سے بھی ٹکرا سکتا تھا اور پھر اس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا'۔