پاکستان کا انڈین جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول پر انڈیا کے بغیر پائلٹ کے ایک چھوٹے جاسوس ڈرون 'کواڈ کاپٹر' کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین کواڈ کاپٹر لائن آف کنٹرول پر رکھچکری سیکٹر 650 میں میٹر اندر تک پاکستانی حدود میں گھس آیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے ماضی میں بھی اس قسم کے کئی ڈرون طیاروں کو مار گرانے کے دعوے اور ان کی تصاویر جاری کی جاتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیے

حالیہ واقعے کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے تاہم اس پر ابھی انڈیا کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان فوج کا موقف ہے کہ جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے اس طرح کے ڈرون عموماً بلندی سے تصاویر لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

لائن آف کنٹرول دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کے متنازع علاقے کو تقسیم کرتی ہے جس پر دونوں ممالک اپنا اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک سیز فائر کے معاہدے کے باوجود ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں۔

یہ حایہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا کے نہ صرف پاکستان کے ساتھ بلکہ دونوں ممالک کے ہمسایہ ملک چین کے ساتھ بھی سرد تعلقات چل رہے ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف نے بھی تین روز قبل عید کے موقع پر لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا تھا اور اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انڈیا دنیا کی توجہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے اقدامات سے ہٹانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے جارحیت کے ذریعے کشمیر کی متنازع حیثیت کی تبدیلی کی کوششوں کا پاکستان قومی عزم اور فوجی طاقت سے جواب دے گا۔‘