چین میں شرح آبادی میں کمی کے مختلف اسباب: مرد جو سنگل ہیں اور خواتین جو بچے پیدا کرنا نہیں چاہتیں

    • مصنف, ویئی یپ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

چین میں گذشتہ دہائی کی واحد مردم شماری سے پتا چلا ہے کہ چین میں پیدائش کی شرح سنہ 1960 کی دہائی کے بعد سے اب تک کی سب سے کم سطح پر آچکی ہے جس کے بعد پیدائش پر کنٹرول کی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لیکن چین میں کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدائش کی شرح میں کمی صرف ان پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ اس کے پس پشت کچھ دیگر عوامل بھی کار فرما ہیں۔

اگرچہ ان کی والدہ نے انھیں اس حوالے سے کئی بار تاکید کی ہے، بیجنگ کی رہائشی للی (اصلی نام نہیں) جلد بچے پیدا کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتیں۔

31 سالہ للی کی شادی کو دو سال ہوچکے ہیں اور وہ بچے کی پرورش کی 'مستقل پریشانیوں' میں پھنسے بغیر 'اپنی مرضی کی زندگی' گزارنا چاہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں 'میرے کم ہی ساتھی ایسے ہیں جن کے بچے ہیں، اور جن کے بچے ہیں وہ بہترین آیا حاصل کرنے یا اپنے بچے کو بہترین سکولوں میں داخل کرانے کے بارے میں جنون کی حد تک متفکر رہتے ہیں۔ یہ تھکا دینے والی بات لگتی ہے۔'

للی نے بی بی سی سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی والدہ کو معلوم ہوگا کہ ان کی بیٹی کیا سوچتی ہے تو انھیں گہرا دھچکہ لگے گا۔

لیکن نسلوں کے مابین یہ اختلاف بہت سے نوجوان چینی شہریوں کے بچے ہپیدا کرنے کے حوالے سے بدلتے ہوئے رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔

اور اعداد و شمار بھی اس کی عکاسی کرتے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں جاری چین کی مردم شماری کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ گزشتہ سال تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ بچے پیدا ہوئے جو کہ سنہ 2016 میں ایک کروڑ 80 لاکھ بچوں کی پیدائش سے نمایاں طور پر کم ہیں اور سنہ 1960 کی دہائی کے بعد یہ سب سے کم شرح پیدائش ہے۔

اگرچہ مجموعی طور پر آبادی میں اضافہ ہوا ہے لیکن کئی دہائیوں کے دوران سست ترین اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ چین کی آبادی توقع سے پہلے ہی کم ہونے لگے گی۔

سکڑتی ہوئی مجموعی آبادی پریشانی کا باعث ہوتی ہے کیونکہ جوانوں سے بوڑھے افراد کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو مستقبل میں معمر افراد کی امداد کے لیے کام کرنے والے کافی لوگ موجود نہیں ہوں گے جس سے صحت اور سماجی نگہداشت کی ریاست سے مانگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے قومی بیورو کے سربراہ ننگ جیزے نے ایک سرکاری پریزنٹیشن میں کہا کہ کم شرح پیدائش چین کی معاشرتی اور معاشی ترقی کا فطری نتیجہ ہیں۔

جوں جوں ممالک زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں تعلیم اور کریئر جیسی دیگر ترجیحات کی وجہ سے شرح پیدائش میں کمی آتی ہے۔

مثال کے طور پر جاپان اور جنوبی کوریا جیسے پڑوسی ممالک میں بھی حالیہ برسوں میں زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے سکاری مراعات کے باوجود شرح پیدائش کو کم ہوتے دیکھا گیا ہے۔

شدید صنفی عدم توازن

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کا معاملہ ديگر ممالک سے مختلف ہے کیونکہ مردوں کی تعداد اتنی ہے کہ انھیں اپنے لیے ایک عدد دلہن کا ملنا ہی مشکل ہے چہ جائے کہ وہ ایک خاندان شروع کرنے کے بارے میں سوچیں۔

ملک میں شدید صنفی عدم توازن ہے۔ گزشتہ سال ملک میں خواتین کی نسبت ساڑھے تین کروڑ زیادہ مرد تھے۔

یہ ملک کی سخت 'ون چائلڈ' پالیسی کا خمیازہ ہے جو سنہ 1979 میں آبادی میں اضافے کو سست کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

ایک ایسی ثقافت جہاں تاریخی طور پر لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے وہاں اس پالیسی کے نتیجے میں جبری اسقاط حمل نظر آیا اور سنہ 1980 کی دہائی کے بعد سے نئے پیدا ہونے والے بچوں میں اچانک لڑکوں کی تعداد میں اضافہ نظر آيا۔

سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں علم سماجیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والی استاد ڈاکٹر مو زینگ نے کہا 'اس سے شادی کی منڈی بطور خاص کم سماجی وسائل والے مردوں کے لیے مشکلات پیدا ہونے لگی۔'

سنہ 2016 میں حکومت نے ون چائلڈ پالیسی ختم کردی اور جوڑے کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دی۔

تاہم ان اصلاحات کے باوجود اس میں خواطر خواہ تبدیلی نہ آئی۔ البتہ شروع کے دو سال میں اضافہ نظر آیا تھا لیکن پھر اس میں ریکارڈ گراوٹ آئی۔

'اس صورتحال میں بچے پیدا کرنے کی ہمت کون کرے گا؟'

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پالیسی میں نرمی کے ساتھ اس سے منسلک دوسری قسم کی تبدیلیاں نہیں لائی گئیں جو کہ فیملی لائف کے لیے ممدومعاون ہیں۔ جیسے کہ تعلیم کے لیے مالی تعاون اور بچوں کی نگہداشت کی سہولت تک ان کی رسائی وغیرہ۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے افراد خاندان کو چلانے کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان بچوں کی پرورش کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر مو نے کہا 'بچوں کی پیدائش سے لوگوں میں گریز بچے پیدا کرنے کے عمل میں چھوٹ نہیں ہے بلکہ اس سے منسلک معاملات ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ چین میں کامیابی کے نظریے میں بھی تبدیلی آچکی ہے، کم از کم بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لیے۔

اب زندگی میں روایتی معیار کی اہمیت نہیں رہی کہ شادی کی اور بچے پیدا کیے بلکہ اب ذاتی ترقی زیادہ معنی رکھنے لگی ہے۔

صنفی اصولوں کے تحت خاص طور پر خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہی بچوں کی بنیادی نگہداشت کرنے والی ہوں گی۔

اگرچہ نظریاتی طور پر چین میں پیٹرنیٹی یعنی بچے کی ولادت پر باپ کے لیے 14 دنوں کی چھٹی ہے لیکن مردوں کے لیے یہ غیر معمولی بات ہے اور ان کے لیے کل وقتی باپ ہونا اور بھی شاذونادر ہے۔

ڈاکٹر مو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خدشات کے نتیجے میں خواتین اولاد پیدا کرنے کی اس لیے بھی خواہش نہیں رکھتیں کہ ان کے کریئرکے امکانات اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

چینی سوشل میڈیا پر یہ معاملہ گرما گرم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جس میں 'نوجوان نسل بچے پیدا کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں' جیسے ہیش ٹیگ کے تحت مائکروبلاگنگ پلیٹ فارم ویبو پر 440 ملین سے زیادہ تبصرے کیے گئے ہیں۔

ایک شخص نے پوچھا: 'حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے لیے بہت ساری اچھی ملازمتیں نہیں ہیں اور جن خواتین کے پاس اچھی ملازمت ہے وہ ان کو برقرار رکھنے کے لیے جو بھی کرنا ہو کریں گی۔ اس صورتحال میں بچے پیدا کرنے کی ہمت کون کرے گا؟'

اگرچہ حالیہ برسوں میں کچھ شہروں میں زچگی کی چھٹیوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں خواتین کو معیاری 98 دن سے زیادہ دنوں کے لیے چھٹی کی درخواست دینے کا اختیار ہے لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے کام کی جگہ پر مزید صنفی فرق پیدا ہوگا۔

مارچ میں چونگ کنگ میں ملازمت کی درخواست دینے والی ایک خاتون کو اس کے ممکنہ آجر نے اس بات کی ضمانت چاہی کہ حاملہ ہونے کے ساتھ ہی وہ ملازمت چھوڑ دے گی۔

کیا صورتحال کو الٹنے میں بہت دیر ہو چکی ہے؟

توقع ہے کہ مستقبل قریب میں پیدائش پر عائد پابندیاں مکمل طور پر ختم کردی جائیں گی۔ ذرائع نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ اگلے تین سے پانچ سالوں میں ایسا ہوسکتا ہے۔

لیکن کچھ نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی برتھ کنٹرول کی پالیسیاں ختم کردے۔

چین کے مرکزی بینک کے محققین نے اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مقالے میں کہا کہ 'اب تو بچے پیدا کنے کی آزادی ہونا چاہیے، ایسے میں جب کچھ باشندے بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں کرسکتے ہیں۔

'جب کوئی اولاد پیدا ہی نہیں کرنا چاہتا تو اسے آزاد کرنا بیکار ہے۔ ہمیں ہچکچانا نہیں چاہیے۔'

لیکن کچھ ماہرین شہری باشندوں اور دیہی لوگوں کے مابین زبردست تفاوت کے پیش نظر احتیاط سے چلنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ اور شنگھائی جیسے مہنگے شہروں میں رہنے والی خواتین تو بچے کی پیدائش میں تاخیر کرسکتی ہیں لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی رواج کی پیروی کرنے والے بڑے خاندان کی خواہش رکھتے ہیں۔

اس پالیسی سے منسلک ایک اندر کے آدمی نے روئٹرز کو بتایا کہ 'اگر ہم پالیسی کو ترک کردیتے ہیں تو دیہی علاقوں کے لوگ شہروں کی بنسبت زیادہ بجوں کی پیدائش کے خواہاں ہوسکتے ہیں جس سے دیگر مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔' انھوں نے یہ بھی کہا اس سے دیہی علاقوں میں غربت اور روزگار کے دباؤ پیدا ہوسکتے ہیں۔

فی الحال بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کوئی ایک فارمولہ نہیں جو سب پر فٹ آئے۔ لیکن ژیان جیوٹونگ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے آبادیات کے ماہر ڈاکٹر جیانگ کوان باؤ پر امید ہیں کہ چین کے لیے اب بھی اپنی آبادی کے مسائل کو دور کرنا ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بچے کی ولادت کی شرح کم ہورہی ہے لیکن یہ شرح 'اب بھی لچکدار' ہے کیونکہ چینیوں کے معاشرتی اصولون میں شادی اور بچے پیدا کرنا ابھی شامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کے شعبے میں کنبوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تو 'ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔'

یہاں تک کہ للی بھی اپنا خیال بدلنے کے لیے تیار ہوسکتی ہیں۔

انھوں نے کہا: 'اگر بچوں کے لیے ضروری وسائل حاصل کرنے میں زیادہ مارا ماری نہ ہو تو میں شاید زیادہ ذہنی طور پر بچے کے لیے تیار ہو جاؤں اور میری والدہ یہ سن کر کتنی خوش ہوں گی بتا نہیں سکتی۔'