آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین مردم شماری: ملک میں آبادی بڑھنے کا تناسب، کئی برسوں میں سب سے کم سطح پر
منگل کے روز چینی حکومت کی جانب سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چین کی آبادی کئی دہائیوں کی سست ترین رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
گذشتہ دس سالوں کے دوران آبادی میں اضافے کا اوسط تناسب 0.53 فیصد رہا جبکہ 2000 سے 2010 کے دوران یہ شرح 0.57 فیصد تھی۔ اب ملک کی کل آبادی 1.41 ارب ہوگئی ہے۔
ان نتائج کی وجہ سے بیجنگ پر دباؤ ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ نوجوان مزید بچے پیدا کریں تاکہ آبادی مجموعی طور پر گھٹنی نہ شروع ہو جائے۔
یہ مردم شماری 2020 کے آخری حصے میں کی گئی تھی جب 70 لاکھ کارکنوں نے گھر گھر جا کر معلومات جمع کی تھیں۔
ہمیں چین میں آبادی میں اضافے کے تناسب کا کیا پتا ہے؟
شماریات کے قومی بیورو کے سربراہ نگ جزہے نے بتایا کہ گذشتہ سال 12 ملین بچے پیدا ہوئے تھے جو کہ 2016 میں پیدا ہونے والے 16 ملین بچوں سے کہیں کم ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پھر بھی یہ ایک بڑی تعداد ہے۔ انھوں نے کہا کہ کم تر فرٹیلیٹی ریٹ چین میں سماجی اور اقتصادی ترقی کا نتیجہ ہے۔
جیسے جیسے کسی ملک میں ترقی ہوتی ہے، تو آبادی میں اضافے کا تناسب کم ہوتا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کی ترجیحات میں تعلیم اور کیریئر کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔
چین کے ہمسایہ ممالک جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی آبادی کا تناسب کم ہوا ہے حالانکہ وہاں حکومتوں نے اس حوالے سے لوگوں کی بچے پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال تاریخ میں پہلی مرتبہ جنوبی کوریا میں پیدائش سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ جنوبی کوریا میں دنیا کا کم ترین آبادی بڑھنے کا تناسب ہے۔
کم ہوتی آبادیاں اس لیے مسئلہ ہیں کیونکہ آپ کی آبادی میں بوڑھے لوگوں کا تناسب بڑھنے لگتا ہے۔ جب یہ ہوتا ہے تو آپ کے پاس اتنے لوگ نہیں رہتے جو مستقبل میں کام کر کے معیشت چلا سکیں جو کہ بڑی عمر کے لوگوں کے اخراجات اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ صحت اور سماجی دیکھ بھال کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
کیا چین پہلے ہی اس میں بہتری کی کوشش نہیں کر رہا؟
بالکل کرتا رہا ہے۔ 2016 میں حکومت نے متنازع ون چائلڈ پالیسی ختم کر دی تھی اور لوگوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ دو دو بچے پیدا کر لیں۔
مگر ان اقدامات سے ملک میں گرتے پیدائشی تناسب کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ میں ماہرِ معیشت وے سو کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ دوسرے بچے کی پالیسی کے مثبت اثرات ہوئے۔‘
اس وقت توقع کی جا رہی تھی کہ چین فیملی پلانگ کو مکمل طور پر چھوڑ دے گا تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ اس سال اپریل میں فائنیشنل ٹائمز نے کچھ افراد کے حوالے سے کہا تھا کہ شاید آبادی میں مجموعی کمی رپورٹ کی جائے۔ اگرچہ ایسا 2020 میں نہیں ہوا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا آئندہ چند سالوں میں ہو سکتا ہے۔
یہاں تک کہ کچھ ماہرین کی رائے ہیں ایسا 2021 یا 2022 تک بھی ہو سکتا ہے۔
ہم نے اور کیا سیکھا ہے؟
چین میں کام کرنے کی عمر کی آبادی جس میں 16 سے 59 سال عمر کے لوگ ہیں، میں بھی اس دفعہ کمی ہوئی ہے۔ یہ آبادی 2010 کی مردم شماری کے مقابلے میں 40 ملین کم ہوئی ہے۔ تاہم آبادی کے اس حصے کی شرح ابھی بھی کافی زیادہ ہے جو کہ880 ملین ہے۔
مردم شماری کے چیف میتھاڈولوجسٹ زینگ یپنگ کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے پاس اب بھی کافی ورک فورس موجود ہے۔‘
تاہم اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ میں ماہرِ معیشت وے سو کا کہنا ہے کہ لیبر فورس میں متواتر کمی چین کی اقتصادی ترقی کو محدود کر دے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آبادی کی عمر کم ہونے میں جو فائدہ تھا، اب وہ چین کے پاس نہیں رے گا اور آئندہ چند دہائیوں میں ختم ہونے لگے گا۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں آبادی کی کمی کی وجہ سے دنیا کے دیگر ممالک بھی اور اثر انداز ہوں گے۔