انڈیا میں کووڈ سے بڑھتی ہوئی ہلاکتیں: ’میں پہلے لاوارث لاشوں کی آخری رسومات ادا کرتا تھا لیکن اس وقت تو سبھی لاوارث ہی‘

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، انڈیا

یہ مئی کے اوائل کی بات ہے۔ انڈیا میں کووڈ کے اوسطاً روزانہ چار لاکھ کیس سامنے آ رہے تھے اور اموات کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔

مئی کے ہی اوائل میں مجھ میں کووڈ کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ میں دہلی میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا اور فی الفور کورونا ٹیسٹ کی عدم موجودگی میں میرا سہارا اب صرف دعائیں تھیں۔ اگرچہ مجھے ایمرجنسی بنیادوں پر علاج کی ضرورت تو نہیں تھی مگر میں انتہائی تھکا ہوا محسوس کرتا تھا۔ مجھ پر تھکاوٹ کا ایسا غلبہ تھا جیسا کہ کسی ایسے پلیئر پر ہو سکتا ہے جو فٹبال کے دو میچ بیک وقت کھیل کر آیا ہو۔

اگرچہ میں حرکت کرنے سے قاصر تھا لیکن میں اپنے دوستوں کو برابر والے کمرے میں دفتر سے موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز اور سوشل میڈیا پر عام لوگوں کی آکسیجن، پلازما اور ہسپتال کے بستروں کی اپیل پر مدد کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے سُن سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن آخر کار مایوس ہو کر انھوں نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے۔ طلب بہت زیادہ تھی اور رسد بہت کم۔

چند دنوں بعد صورتحال کچھ بہتر ضرور ہوئی۔ لیکن سوشل میڈیا پر عام افراد کی جانب سے مدد کی اپیلوں میں کمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ وبائی مرض ان علاقوں میں پھیل گیا ہے جہاں کے لوگ سوشل میڈیا پر اتنے ایکٹیو نہیں ہیں جیسا کہ انڈیا کے چھوٹے شہر اور دیہی علاقے۔

میں پہلے لاوارث لاشوں کی آخری رسومات ادا کرتا تھا، اس وقت تو سبھی لاوارث ہیں

دلی سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور ضلع گوپال گنج میں نوین شریواستو صورتحال کو سنگین ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ گوپال گنج کی 90 فیصد سے زائد آبادی دیہی ہے اور روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا سے کافی دور ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جب بھی کسی کو کووڈ ہوتا ہے تو وہ معاشرے میں اچھوت جیسا بن جاتا ہے۔ ایسے افراد کی تیمار داری کے لیے کوئی بھی موجود نہیں، یہاں تک کہ رکشے والے بھی ایسے مریض کو ہسپتال لانے لے جانے سے انکار کر رہے ہیں۔‘

وہ کووڈ سے پہلے انفرادی سطح پر عوام کی مدد کرتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ حالات کہیں زیادہ خراب ہیں۔

سنہ 2001 میں شریواستو کا ایک رشتےدار کنبھ میلے کی تقریب میں دریائے گنگا میں ڈوب گیا تھا، ان کی انتھک کوششوں کے باوجود اس کی لاش نہ مل سکی اور اس کے بعد شریواستو نے لاوارث لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنا شروع کر دیں۔

ان کے اس کام کی وجہ سے گاؤں والوں نے ان سے نفرت کرنا شروع کر دی اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انڈیا میں لاشوں کو جلانے کا کام ’چھوٹی ذات‘ کے لوگ کرتے ہیں۔

سب سے بڑا چیلنج تو اس وقت آیا جب ان کی بہن کی شادی ہو رہی تھی۔ ہوا یوں کہ عین شادی کے دن ایک لاوارث لاش آخری رسومات کے لیے لائی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے شادی چھوڑ کر اس لاش کی آخری رسومات ادا کیں۔‘

شریواستو کے لیے لاشوں کی تدفین کرنے کا یہی تجربہ کورونا وائرس بحران میں کام آ رہا ہے۔ ’وبا کی پہلی لہر میں میں نے 13 لاوارث لاشوں کو جلایا، حالانکہ مجھے خود بھی کووڈ ہو گیا تھا۔ دوسری لہر میں اب تک 12 لاشوں کی آخری رسومات ادا کر چکا ہوں۔‘

ان میں سے زیادہ تر لاشیں غریبوں کی تھیں لیکن ان میں ایسے افراد بھی تھے جنھیں ان کے کنبے نے وائرس کے خوف سے چھونے سے انکار کر دیا تھا۔

شریواستو کہتے ہیں ’میں پہلے لاوارث لاشوں کی آخری رسومات ادا کرتا تھا لیکن اس وقت تو سبھی لاوارث ہیں۔‘

ریاست بہار وبا کی دوسری لہر میں انڈیا کی بدترین متاثرہ ریاستوں میں سے ایک ہے اور یہاں صحت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے اور انڈیا کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی آکسیجن کی شدید کمی ہے۔ شریواستو نے گذشتہ برس اس خطے میں آنے والے سیلاب میں ایک مفت ایمبولینس سروس شروع کی تھی جسے انھوں نے اسے کووڈ کے دور میں مریضوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

وہ کووڈ کی پہلی لہر کے دوران بھی لوگوں کو راشن فراہم کرتے رہے ہیں اور پہلی اور دوسری لہر کے دوران ان کی تمام بچت، جو کہ انھوں نے سول سروسز کے کوچنگ سینٹر چلانے سے حاصل کی تھی، ختم ہو چکی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ایمبولینس چلانے اور آکسیجن سیلنڈر خریدنے کے لیے مجھے اپنی بیوی کے زیورات گروی رکھنے پڑے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اب برداشت نہیں ہوتا۔ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے آکسیجن کہ متلاشی 32 مریضوں کی مدد کی ہے جن میں سے 30 افراد کی جان بچ گئی۔

وقت کے ساتھ انھیں یہ بھی احساس ہوا کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ حکومت سے منظور شدہ ایپ پر ویکسین کے لیے اندراج کیسے کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے کوچنگ سینٹر میں مفت میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں سے مدد حاصل کرنے کا سوچا۔

’وہ اپنے گاؤں کے بارے میں بہتر جانتے ہیں کہ کس کو مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ ضرورت مند لوگوں کے پاس جائیں اور اپنے فون سے ان کے لیے ویکسین کی بکنگ کریں۔‘

سطح کرید کر تو دیکھیے ذرا

انڈیا جیسے متنوع ملک میں جیسے ہی آپ کوئی متضاد سطح کریدتے ہیں، معاشرے کی قدیم لکیریں نمودار ہو جاتی ہیں اور ان میں سب سے کمزور دیہی علاقے، خواتین اور نچلی ذات کے لوگ اور تارکین وطن نظر آتے ہیں۔ کووڈ لاک ڈاؤن نے ایسے طبقوں کے لیے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دلت، معاشرے کے سب سے کمزور طبقوں میں شامل ہیں جو کہ صفائی کا وہ کام کرنے پر مجبور ہیں جو سماج کے دیگر طبقے نہیں کرتے۔ ان میں سے بہت سارے لوگ ہسپتالوں میں صفائی کا کام کرتے ہیں اور ہمیشہ وبائی امراض کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ لیکن حکومت پھر بھی انھیں ’فرنٹ لائن ورکرز‘ تسلیم نہیں کرتی اور ویکسین دینے میں ان کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔

منیشا مشال جو کہ شمالی ریاست ہریانہ میں دلت خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں، صفائی کے کاموں میں شامل ان خواتین کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو میڈیا اور سوشل میڈیا سے بہت دور ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب ہم دوائی کے لیے حکومت سے رجوع کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ان خواتین کی مدد کرنے کا انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان سے خود ہی اپنے علاج کے انتظام کی توقع کی جاتی ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’یہ عورتیں نجی صحت کے مراکز میں کیسے جائیں گی؟ تین وقت کی روٹی کے لیے تو انھیں ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے۔‘

وہ تقریباً 25 خواتین رضاکاروں کے ایک گروپ کی رہنمائی کرتی ہیں اور انھوں نے ہریانہ میں 9000 صفائی کرنے والی خواتین کارکنوں کا سروے کیا ہے جنھیں راشن کی ضرورت ہے۔ اب تک وہ 3000 خواتین کو راشن فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

کووڈ کے دوران انھیں اکثر پریشان حال فون کالیں آتی ہیں لیکن، بقول ان کے، چند روز قبل آنے والے ایک عورت کی کال نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔

اس عورت کی دو نابالغ بیٹیوں کو چند سال قبل مبینہ طور پر ان کے والد نے ریپ کیا تھا۔ وہ عدالت گئیں جس سے ان کے گاؤں والے ناراض ہوگئے جو معاملے کو رفع دفع کرنا چاہتے تھے اور اس صورت میں ان کے لیے معاشرتی مدد کا فقدان ہے۔ مشال نے ان کے لیے ہنگامی طور پر راشن کا انتظام کیا۔

ایک ایسے معاشرے میں جو انتہائی پدرانہ اور ذات پات پر یقین کرنے والا ہے، مشال شہریت کے تصور کو چیلنج کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں اکثر انھیں، یا ان کے ساتھ کام کرنے والی رضا کار عورتوں کو، طاقتور اور اثر و رسوخ رکھنے والے مردوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن مشال کہتی ہیں کہ وہ اپنے قدم نہیں روکیں گی۔ ’یہاں تک کہ میرے اہل خانہ پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ لیکن ہر ایک کو مرنا ہے۔ اور کووڈ جیسے واقعات قدرتی آفات ہیں۔ لیکن جب تک ہم زندہ ہیں، ہم دوسروں کے حقوق کے لیے لڑتے رہیں گے۔‘

شہروں میں لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں

یہ خبر کہ عام لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں، لاک ڈاؤن کے دوران شہر سے لوٹے نوجوانوں اور مقامی میڈیا کے ذریعہ دیہات اور چھوٹے شہروں تک پہنچ چکی ہے۔ لوگ ان افراد کو ٹیگ کر کے مدد کے لیے پکار رہے ہیں جن سے انھیں توقع ہے کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں، جیسا کہ کسی سیاسی پارٹی کے یوتھ ونگ کے سربراہ، اداکار، فٹ بالر، ماحولیاتی تبدیلیوں کے کارکن، کالج کے طالب علم وغیرہ۔

نظام صحت کے عدم موجودگی میں علاج کے غیر سائنسی طریقہ کار اور دعاؤں میں پھنسے لوگوں کے لیے ہر ایک چھوٹی کوشش اہمیت رکھتی ہے۔

مشال کے شہر کوروچھیتر سے 2000 کلومیٹر دور ممبئی میں ایک انڈرگریجویٹ طالبہ سارہ کارلوس وبا کے عروج کے دنوں میں اپنے سوشل میڈیا پر دیکھتی ہیں کہ ہر طرف حالات ہنگامی ہیں اور ہر ایک اہم چیز کی کمی ہے: ’ریمڈیسویر، پلازما، آکسیجن اور ہسپتال کے بیڈ وغیرہ۔‘

مزید پڑھیئے

ان کے امتحانات جاری ہیں لیکن وہ سوچتی ہیں کہ وہ اور ان کا کنبہ تو محفوظ ہے، لیکن ان کے آس پاس کے لوگوں کو مدد نہیں مل پا رہی۔ 'یہ یقینی طور پر مجھے متاثر کر رہا ہے۔‘

وہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مدد کے اپیل شیئر کرتی ہیں۔

ملک بھر سے آنے والی پریشان حال التجاؤں میں سب سے زیادہ تشویش ناک جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ اور پنجاب سے ہیں۔

لیکن مدد کی اپیل یا مدد کی پیش کش کرنے والے فون نمبر مخصوص نہیں ہیں۔ کارلوس ان نمبروں پر معلومات کی تصدیق کے لیے خود کال کرتی ہیں، اور اگر ضرورت ہوتی ہے تو ان کی تصدیق کے لیے دوسرے ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال بھی کرتی ہیں، اور تصدیق شدہ معلومات اپنے سوشل میڈیا پر ڈالتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مثال کے طور پر ہسپتالوں اور آکسیجن کے لیے لوگوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر فراہم کیے ہوئے اسی فیصد نمبر کام نہیں کر رہے تھے۔ یہ پریشانی میں مبتلا لوگوں کے لیے کافی تکلیف اور الجھن کا باعث تھا۔‘

ایک طالب علم کی حیثیت سے وہ اپنے گھر سے جو کر سکتی تھیں انھوں نے وہ کیا۔ لیکن پھر ان کی چاچی کورونا وائرس سے متاثر ہوگئیں اور وہ بھی اس قدر کہ ان کی آکسیجن کی سطح ایک بار تو 15 تک پہنچ گئی جو کہ ایک صحت مند شخص میں عموما 98 ہوتی ہے۔ حالات سے نمٹنا ان کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ انھیں بریک لینا پڑی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں اب اپنے امتحانات اور باقی یہ ساری چیزیں سنبھال نہیں پا رہی۔‘

ممبئی سے تقریباً 1400 کلومیٹر دور جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ویلور میں چند بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو ہنگامی حالت میں ہسپتال میں داخل ہونے میں مدد چاہیے۔ آبھا مرلی دھرن جو کہ کیرل سے تعلق رکھتی ہیں، ویلور سے تقریباً 400 کلومیٹر دور بنگلور میں متبادل تعلیم کے میدان میں کام کرتی ہیں۔ ماضی میں اپنے ایکٹیویزم کے تجربے کے وجہ سے وہ مہاجرین کے حالات سے واقف ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ انڈیا میں سیاسی آب و ہوا پناہ گزینوں کو استحصال کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان کے پاس اکثر صحیح دستاویزات نہیں ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں تو وہ حکام سے رجوع کرنے سے گھبراتے ہیں۔ مرلی دھرن نے ان پناہ گزینوں سے رابطہ قائم کیا۔ وہ حکومت میں ایک اعلی عہدیدار سے رابطے میں تھیں جو ان پناہ گزینوں کی مدد کے لیے تیار ہو گئے۔

مزید ہنگامی پیغامات کی کثرت کی وجہ سے وہ اس کیس کی پوری طرح پیروی نہیں کر سکیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات اکثر اجنبی لوگوں کی مہربانی کی وجہ سے ممکن ہوئے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب دہلی میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تو ان کے ایک دوست نے ایک پھول بیچنے والے کی جانب سے ایک پیغام شیئر کیا۔ پھول والے کا کاروبار پہلے ہی کورونا وائرس کی پہلی لہر کی وجہ سے متاثر ہوا تھا، دوبارہ لاک ڈاؤن سے انھیں فاقوں کا خطرہ تھا۔ مرلی دھرن اور ان کے دوستوں نے اس پیغام کو دوسروں تک پہنچایا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’لوگوں نے اس کے تمام پھول خرید لیے، یہاں تک کہ بنگلور سے بھی لوگوں نے خریدے۔ لوگوں نے اسے آن لائن رقم بھیج دی اور کہا کہ تم وہ پھول جسے چاہو اسے دو، اور یہ رقم خود رکھ لو۔‘

میں نے اس بحران میں تقریباً سو جانیں بچائی ہیں

پورے ملک میں کورونا سے متعلق مایوس کن خبریں دلی کے ایک 9 سالہ بچی کے فون پر پہنچ رہی ہیں۔ لسی پریہ کانگوجام ان مہمات کی رہنمائی کرتی رہی ہیں جو ان کی عمر سے پرے ہیں جیسے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور اس کے لیے وہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں یہ سن کر حیران تھی کہ آکسیجن کی قلت کی وجہ سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ لوگوں کو تدفین کے لیے جگہ نہیں مل رہی ہے۔ میرے آبائی شہر منی پور میں بھی لوگ مر رہے ہیں۔‘

انھوں نے اس کے بارے میں کچھ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں تو ایک ’ایکسیڈینٹل کووڈ وارئیر‘ہوں۔ جب ہمارے قائدین کام کرنے میں ناکام ہیں تو میں نے سوچا کہ مجھے ایسے چپ چاپ نہیں رہنا چاہے گھر بیٹھے بیٹھے۔‘

انھوں نے اپنے اعزازات کے طور پر ملی رقم اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر بولنے سے ملنے والے رقم کو کووڈ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن 1.4 ارب کی آبادی والے اس ملک میں یہ واضح طور پر کافی نہیں ہے۔ پھر انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پر عام لوگوں سے چندے کی درخواست بھی کرنا شروع کر دی۔ چند ہی دنوں میں ان کے پاس 73 لاکھ روپے کی رقم جمع ہو گئی۔ حالانکہ یہ رقم بھی کافی نہیں تھی لیکن اس سے لوگوں کی مدد کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔

ان سے مختلف لوگ رابطہ کرتے ہیں۔ کوئی لکھتا ہے کہ ’میرے والد کی حالت بہت خراب ہے، کیا آپ آسام میں آ کسیجن کا انتظام کر سکتی ہیں؟ کوئی کہتا ہے کہ اسے گووا میں آکسیجن کنسنٹریٹر چاہیے، بہن میری مدد کریں۔‘

ایسے وسیع پیمانے پر کام کرنا ان کے لیے اکیلے ممکن نہیں تھا اس لیے انھوں نے ایک این جی او سے مدد لی جسکی رسائی پورے ملک میں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ان پیسوں سے دہلی، میری جائے پیدائش منی پور، تمل ناڈو، کرناٹک، اترپردیش، بہار، آسام اور متعدد ریاستوں میں آکسیجن کنسینٹریٹر بھیجا ہے۔'

لسی پریہ کہتی ہیں کہ ’لوگ ہمیشہ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ اس طرح کی سرگرمی میں ملوث ہونے کے لیے بہت کم عمر ہیں، لیکن میں نے ثابت کردیا ہے کہ عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تبدیلیاں بڑی ہوں یا چھوٹیٰ، عمر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے اس بحران میں ابھی تک سو جانیں بچائی ہیں۔‘

وہ سوال کرتی ہیں کہ ’مجھے انڈیا اور دنیا میں ہونے والے کووڈ۔19 وائرس کے بحران یا ماحولیاتی تبدیلیوں سے کیوں پریشان ہونا چاہیے؟ مجھے تو پڑھائی کرنی چاہیے، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ لیکن ہمارے رہنماؤں کو وقت ہی نہیں ملتا ہم جیسے لوگوں کی بات سننے کے لیے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘

اگرچہ ملک میں وائرس کی وجہ سے متاثرہ اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد پر بحث جارہی ہے، اموات کی شرح ابھی بھی بہت زیادہ ہے۔

لسی پریہ کہتی ہیں کہ ’میں بڑے ہو کر خلائی سائنسدان بننا چاہتی ہوں۔ میں خود ایک راکٹ بناؤں گی، میں خود اس راکٹ کو اڑاؤں گی اور چاند، مریخ یا اور دیگر جگہوں پر جاؤں گی، اور تحقیق کروں گی کہ ہم سانس لینے کے لیے صاف ہوا، پینے کے لیے صاف پانی کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ میں ’پلانیٹ بی‘ بنانا چاہتی ہوں کیونکہ ہمارا سیارہ موت کی طرف گامزن ہے۔‘

لوگ یہاں مُردوں کو سانسوں میں اتار رہے ہیں

مئی کا مہینے ختم ہونے کو ہے، کووڈ کی علامات سے تقریباً بازیافت ہونے کے بعد میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ لیکن میں دیکھ سکتا ہوں کہ اس وبائی مرض نے، جو کہ ابھی اپنے خاتمے سے کافی دور ہے، لمبے سائے چھوڑے ہیں: لواحقین، گاؤں والے، دوست، ہر سمت موت کی خبریں ہیں، اور آپ صرف اسے بے بسی سے دیکھ سکتے ہیں۔

مجھے دلی سے 400 کلومیٹر دور ایک پہاڑی شہر رانی کھیت میں رہنے والی ناول نگار انورادھا رائے کے اس وبا پر ایک حالیہ مضمون کے کچھ الفاظ یاد آرہے ہیں: ’دہلی میں جلی ہوئے لکڑی کی راکھ سے بھری ہوائیں چلنے کی خبریں آرہی ہیں۔ ہزاروں لوگوں کی آخری رسومات کی وجہ سے یہ راکھ اب وہاں کی ہواؤں میں بس گئی ہے۔ لوگ وہاں مُردوں کو سانس میں اتار رہے ہیں۔‘

وہ دہلی کے بارے میں لکھ رہی ہیں، لیکن ملک کے دوسرے حصوں میں صورتحال کوئی بہتر نہیں ہے۔ وہ شاید دوسروں کے مقابلے میں تھوڑا کم لے رہے ہوں، لیکن یہاں ہر کوئی بلاشبہ مردوں کو سانسوں میں اتار رہا ہے۔

خداؤں نے اس شہر کے راستے ترک کر دیے ہیں

میں نے شریواستو کو فون کیا اور ان سے پوچھا کہ ایسا کام جس کی وجہ سے انھیں اپنی بیوی کے زیورات گروی رکھنے پر مجبور ہونا پڑے، ایک سکول جانے والے بیٹے کا مستقبل سامنے ہو، اور حالیہ دنوں میں حالات بہتر ہونے کے امکانات بہت کم ہوں، ایسی صورت میں آپ کی کاوشیں کب تک ممکن ہیں؟

وہ کہتے ہیں کہ ’میں لوگوں کے مستقبل کی تعریف سے اختلاف رکھتا ہوں۔ کیا میں جو کر رہا ہوں وہ مستقبل نہیں ہے؟ میرا بیٹا دیکھ رہا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔‘

شریواستو اپنے کام سے مطمئن ہیں، مشال کی جنگ جاری ہے، کارلوس اپنے امتحانات کے بعد پھر سے صحیح رابطوں کی تصدیق کرنے کے لیے انسٹاگرام پر واپس آگئی ہیں اور لسی پریا سکول واپس جانا چاہتی ہیں لیکن فی الحال تو وہ کووڈ سے متعلق امدادی کام جاری رکھیں گی۔