طوفان توکتے کی شدت میں کمی، ممبئی کے سمندر میں 90 افراد لاپتہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے شہر ممبئی کے ساحل سے طوفان توکتے کے ٹکرانے کے بعد سمندر میں 90 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
انڈین بحریہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے 270 افراد میں سے 177 کو بچا لیا ہے اور باقی بچ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
طوفان توکتے کے نتیجے میں تقریباً 700 افراد پر مشتمل تین دیگر تجارتی کشتیاں سمندر میں پھنسی ہوئی ہیں۔
انتہائی شدید تصور کیا جانے والا یہ طوفان انڈیا کی ریاست گجرات میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ساحل سے ٹکرایا، جس کے بعد اس کی شدت میں تو کمی آ گئی لیکن کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس طوفان کے نتیجے میں انڈیا کے بہت سے متاثرہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتوں کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی آئل اور گیس کارپوریشن (او این جی سی) کے بحری جہاز پر عملے کے ڈرلنگ کرنے والے افراد سوار تھے۔ طوفان سے ٹکرانے کے بعد اس کشتی کا بادبان گر گیا اور یہ سمندر میں بہنے لگی۔
انڈین بحریہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے پھنسی ہوئی تین تجارتی کشتیوں میں سوار افراد کو بچانے کے لیے تین جہاز بھیجے ہیں۔ دو کشتیاں ریاست مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے ساحل سے دور ہیں جبکہ تیسری گجرات کے ساحل سے دور ہے۔
او این جی سی نے بتایا کہ اس نے بھی اپنے اہلکاروں کو بچانے کے لیے کشتیاں بھی تعینات کیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ طوفان سنہ 1998 کے بعد سے اس خطے کو متاثر کرنے والا سب سے مضبوط طوفان ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب انڈیا کی متعدد ریاستیں کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہیں اور صحت کا نظام پہلے سے دباؤ کا شکار ہے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے آخر میں انڈیا کے محکمہ موسمیات نے اعلان کیا کہ ’انتہائی شدید طوفان‘ نے گجرات کے ساحل سے ٹکرانا شروع کردیا ہے۔ سمندری طوفان کا اثر ساحل تک نظر آنے میں کئی گھنٹے لگے۔
محکمہ موسمیات نے منگل کی صبح بتایا کہ انتہائی شدید کہلانے والے اس طوفان کی شدت میں کمی آ گئی ہے اور بعد میں ایک ٹویٹ میں انھوں نے بتایا کہ اس کی شدت میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز انڈیا کے محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ بحیرہ عرب میں آنے والا ’طوفان توکتے‘ اگلے 12 گھنٹوں میں خوفناک شکل اختیار کر سکتا ہے اور پیر کی دوپہر سے 15:00 بجے کے درمیان 160 کلومیٹر فی گھنٹے سے زیادہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔
انڈیا کے محمکہ موسمیات نے گجرات کے ساحلی اضلاع اور دیاؤ ساحل کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔ انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کے محکمہ موسمیات کو توقع تھی کہ یہ طوفان منگل 18 مئی کو انڈین ریاست گجرات کے ساحل سے ٹکرائے گا۔

پیر کو ہی پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ سمندری طوفان ’توکتے‘ اب انتہائی شدید طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس وقت کراچی سے آٹھ سو کلو میٹر دور ہے۔ اتوار کو یہ فاصلہ 1210 کلومیٹر تھا۔
صوبہ سندھ میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق طوفان توکتے نے جنوبی انڈیا کے ضلع کیرالہ کے مدمقابل سمندری علاقے (جو مالدیپ کے شمال میں واقع ہے) سے 13 مئی کو جنم لیا تھا اور اس کا دباؤ کم تھا لیکن 15 مئی کو کیرالہ ہی کے جزیرے لکشدوویپ میں اس نے شدت اختیار کر لی۔
سرفراز خان کے مطابق ’توقع کی جا رہی تھی کہ یہ طوفان پاکستان کے ساحلی علاقوں سے بھی ٹکرا سکتا ہے مگر 16 مئی کو طوفان نے اپنا رخ تبدیل کر لیا تھا۔‘
گذشتہ روز اس طوفان کے باعث کیرالہ، کرناٹک، گوا اور مہاراشٹر میں تیز بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہا۔
کرناٹک اور کیرالہ میں کیا صورتحال رہی؟
پیر کے روز کرناٹک سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ اس طوفان کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں چھ اضلاع میں شدید بارش ہوئی ہے اور چار افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
دی ہندو اخبار کے مطابق کیرالہ کے ارنکلام اور کوزیک کوڈ اضلاع میں طوفان سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ایک ہی وقت میں دو ہزار سے زیادہ افراد اپنے گھر چھوڑنے اور امدادی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان لوگوں کے لیے 71 امدادی کیمپوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
ریاست میں سنیچر کے روز اوسطاً 145.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔
ریاست کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا تھا کہ اس طوفان نے بجلی کی فراہمی کی سہولت اور زراعت کے شعبے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
سمندری طوفان کے باعث تمل ناڈو اور لکشدیپ جزیرے کے متعدد ساحلی اضلاع میں بھی زبردست بارش ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اگلے 48 گھنٹوں میں کرناٹک، مہاراشٹر اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ اس کی وجہ سے درخت گرنے اور مکانات کو نقصان پہنچنے اور سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
ماہی گیروں کو سمندر سے دور رہنے کی وارننگ جاری کر دی گئی تھی۔ محکمہ موسمیات نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ طوفان 18 مئی کی سہ پہر یا شام تک پوربندر اور نالیہ کے درمیان گجرات کے ساحل پر آئے گا۔ اس سے ہوا کی رفتار 175 کلومیٹر تک بڑھ جائے گی۔
ایک اندازے کے مطابق گجرات کے ساحل پر آنے والے طوفان کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں موسلا دھار بارش ہونے کا امکان تھا۔ اس کے علاوہ جوناگڑھ، گیر سومناتھ، سوراشٹر، کچ، ڈیو، پوربندر، دیوبومی، دوارکا، امریلی، راجکوٹ اور جام نگر میں تیز بارشو ںکا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان 18 مئی کو گجرات کے ساحل کو عبور کرتے ہوئے شمال مغرب میں منتقل ہوگا۔ محکمہ موسمیات نے ساحلی علاقوں کے ماہی گیروں کے لیے انتباہ جاری کیا تھا۔
گذشتہ روز ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان) کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان نے صحافی زبیر خان سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ طوفان انڈین ریاست گجرات کے پور بند اور مہووا کے درمیانی ساحلی علاقے سے ٹکرانے کا خدشہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہARUNCHANDRA BOSE/gettyimages
سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ طوفان توکتے براہ راست پاکستان کے ساحلوں سے تو نہیں ٹکرا رہا مگر اس کے منفی اثرات پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاوہ سندھ کے پانچ اضلاع تھرپارکر، بدین، ٹھٹہ، عمر کوٹ اور میرپور پر اس کے کچھ اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کراچی میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور گرم ہوائیں چل رہی ہیں۔ گذشتہ روز تقریبا 48 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرم ہوا چلتی رہی اور درجہ حرارت 44 ڈگری تک رہا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج بھی گرم ہوائیں چل رہی ہیں اور سمندری ہوائیں بند ہیں۔‘ سردار سرفراز کے مطابق یہ صورتحال 18 مئی تک برقرار رہ سکتی ہے اور اس دوران درجہ حرارت 42 سے 44 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے۔
سردار سرفراز کے مطابق سندھ کے علاقے تھرپارکر، بدین،ٹھٹہ، میرپور اور عمر کوٹ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر میں گذشتہ روز درجہ حرارت 45 ڈگری تک رہا اور باقی اضلاع میں 42 سے 44 تک رہا جبکہ اٹھارہ مئی تک یہی صورتحال رہنے کا امکان ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’سندھ کے ان اضلاع میں تقریباً 37 سے 55 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔‘
سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں بارش کا امکان کم ہے جبکہ سندھ کے ان پانچ اضلاع اور ان سے منسلک اضلاع میں آج شام سے کچھ مقامات پر ہلکی اور تیز بارش کا امکان موجود ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معظم خان کے مطابق ’طوفان کے اثرات پاکستان پر نظر آنا شروع ہو چکے ہیں اور اس وقت ضلع تھرپارکے کچھ مقامات پر بادل چھائے ہوئے ہیں۔ کراچی اور سندھ کے کچھ علاقوں میں معمول سے زیادہ گرمی پڑنے کے علاوہ تیز گرم ہوائیں چل رہی ہیں جو کہ غیر معمولی صورتحال ہے۔‘
معظم خان کا کہنا تھا کہ ’توکتے کی وجہ سے سمندری ہوائیں رک چکی ہیں۔ مگر توقع ہے کہ طوفان کے سمندر کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد صورتحال بہتر ہونا شروع ہو جائے گی اور گرمی کا زور ٹوٹ جائے گا۔ تاہم سندھ میں شام سے شروع ہونے والا بارشوں کا سلسلہ ایک روز تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق ان بارشوں کے سبب سیلاب یا طغیانی کی صورتحال پیش آ سکتی ہے۔
معظم خان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی بارشوں اور تیز ہواؤں کے سبب سندھ کے مختلف علاقوں پر درختوں پر تیار آموں کے علاوہ دیگر پھل اور فصلوں کو نقصاں پہنچ سکتا ہے۔
معظم خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کراچی اور ساحلی شہروں کے لوگوں کو انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ یہ وقت سمندر کا نظارہ کرنے کا نہیں ہے، کوئی بھی بے قابو لہر نقصاں پہنچا سکتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ 20 مئی تک طوفان کے کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور خطے میں سمندر کا رخ کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘
ایک اور طوفان کے اثرات

،تصویر کا ذریعہwww.nhc.noaa.gov
معظم خان کے مطابق بین الاقوامی طور پر تازہ ترین سیٹلائیٹ تصاویر سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس وقت مالدیپ کے قریب اور کراچی سے تقریباً 2080 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک اور طوفان کے اثرات نمودار ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو، تین روز میں صورتحال واضح ہو گی کہ یہ طوفان کیا شکل اختیار کرتا ہے تاہم خدشات ہیں کہ سمندر کے اس حصے میں پیدا ہونے والے طوفان عام طور پر شمال کا رخ کرتے ہیں یعنی ان کا رخ پاکستان اور انڈیا ہی کی طرف ہوتا ہے۔
معظم خان کے مطابق اس موسم کے اندر بحیرہ عرب میں طوفان پیدا ہونا معمول کی بات ہے۔ یہ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پیدا ہو سکتے ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پر نظر رکھی جائے۔
کراچی سمیت تمام ساحلی علاقوں اور شہروں میں انتطامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نالوں کی صفائی کا کام فی الفور انجام دیں، کراچی اور دیگر شہروں میں بڑے اور خطرناک اشتہاری بورڈوں کو ہٹایا جائے اور ہر قسم کے حفاظتی اقدامات مکمل کیے جائیں۔












