آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مغربی بنگال انتخابات: ممتا بینرجی کی نندی گرام میں ’غیر متوقع‘ شکست اور بی جے پی کی انا کی جنگ
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا میں مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں ووٹنگ سے قبل وزیر اعلی ممتا بینرجی نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کھلے چیلنج کے جواب میں کہا تھا کہ 'کھیلا ہوبے' یعنی ’زبرست مقابلہ ہوگا‘ اور دو مئی کو آنے والے انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ یہ معرکہ انھوں نے مار لیا۔
بی جے پی حکومت کو جہاں چہار جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی کے لیے تنقید کا سامنا ہے وہیں گذشتہ روز مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے اسے چاروں خانے چت کر دیا ہے۔
ریاست کی وزیر اعلی ممتا بینرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں جیت کی ہیٹرک مکمل کی ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی نے بھی مغربی بنگال میں اپنے قدم جمائے ہیں اور یہ سب کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کی قیمت پر ممکن ہو سکا ہے، جنھیں ریاست میں کوئی سیٹ نہ مل سکی۔
ملک کے الیکشن کمیشن کے مطابق ممتا بینرجی کی پارٹی آل انڈیا ترنمول کانگریس کو 292 میں سے 210 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ تین پر وہ آگے ہے دوسری جانب بی جے پی نے 76 سیٹیں جیتی ہیں اور ایک پر وہ آگے ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ممتا بینرجی نندی گرام انتخابی حلقے سے اپنی نشست ہار گئی ہیں اور ان کے مطابق وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائيں گی۔
دوسری جانب بی جے پی نندی گرام کی جیت کو اصل جیت مان کر خوش ہو رہی ہے لیکن ریاست میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے رہنما دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ 'ہم نے بڑا ہدف رکھا تھا جسے ہم حاصل کرنے میں ناکام رہے۔'
مغربی بنگال کے انتخاب کو بی جے پی نے اپنی انا کا انتخاب بنا لیا تھا اور اس میں اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے علاوہ بی جے پی کے تمام بڑے رہنما کورونا کی وبا کی پروا نہ کرتے ہوئے بڑی بڑی ریلیاں کرتے نظر آئے۔
یہاں تک کہ مدراس ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ضابطے پر عمل در آمد نہ کرانے کے لیے سخت سست کہا اور پوچھا کہ ان پر قتل کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا جائے جس کے جواب میں الیکشن کیمشن نے کہا کہ ضابطوں پر عمل درآمد کرانا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔
بی جے پی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہمیشہ ہی انتخابی موڈ میں رہتی ہے چنانچہ مغربی بنگال کے انتخابات سے برسوں قبل ہی اس نے وہاں زمین ہموار کرنی شروع کر دی تھی اور سنہ 2019 کے پارلمیانی انتخابات میں اس کی نمایاں کامیابی نے یہ واضح کیا تھا کہ وہ وہاں ایک اہم قوت کے طور پر ابھری ہے۔
شاید اسی پارلیمانی نتیجے نے ہی بی جے پی رہنما اور وزیر داخلہ امت شاہ کو بلند بانگ دعوے کرنے کی ترغیب دی کہ وہ اسمبلی انتخابات میں 200 سیٹیں حاصل کریں گے۔ ان کے اس دعوے کے جواب میں ترنمول کانگریس کے لیے انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والے پرشانت کشور نے کہا تھا کہ اگر بی جے پی تین ہندسوں یعنی سو سیٹ بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اپنا پیشہ چھوڑ دیں گے۔
ترنمول کے باغی رہنما سوویندھو ادھیکاری جنھیں ریاست میں بظاہر بی جے پی کا چہرہ سمجھا جا رہا تھا انھوں نے ممتا بینرجی کو نندی گرام سے لڑنے کے لیے چیلنج کیا اور ممتا بینرجی نے ان کے چیلنج کو قبول کیا۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ممتا نے ان کے چیلنج کو قبول کر کے انتخاب کا رخ موڑ دیا جبکہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں دوسری جگہ سے بھی لڑنا چاہیے تھا۔
بہرحال گذشتہ روز نندی گرام کے نتیجے کے حوالے سے مستقل کھیل جاری رہا اور کئی نیوز چینلز اور خبررساں اداروں نے وہاں سے ممتا بینرجی کی جیت کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
چنانچہ اسی حوالے سے گذشتہ روز 'نندی گرام' ہیش ٹیگ انگریزی اور ہندی دونوں زبانوں میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرتا رہا اور مغربی بنگال کے انتخابات کے حوالے سے بہت سارے میمز شیئر کیے جاتے رہے جس میں دو کلپس کو ملا کر ایک میم بنایا گیا تھا جس میں ممتا بینرجی ٹوٹے پاؤں کے ساتھ سٹیج سے گیند پھینکتی ہیں اور وہ گیند وزیر اعظم کے پیٹھ پر لگتی ہے جس سے وہ لڑکھڑا کر سیڑھی پر گرتے ہیں۔
ایک دوسرے میم میں نریندر مودی کی داڑھی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں رابندرناتھ ٹیگور انھیں شیونگ ریزر دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی داڑھی منڈوا لیں۔ اس کے 'دو مئ آئی، داڑھی گئی' بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔
دو لاکھ سے زیادہ ٹوئٹر فالوورز رکھنے والی صحافی پلووی گھوش حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ 'عجیب و غریب چیز ہو رہی ہے۔ ٹی ایم سی کی جانب سے میمو دینے کے بعد اب الیکشن کمیشن نے ممتا بینرجی کو فاتح قرار دیا ہے۔'
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے تو نندی گرام میں ممتا بینرجی کی جیت کا اعلان بھی کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک ٹی وی چینل نے ان کی جیت کا ٹکر بھی چلایا۔ اسی حوالے سے بی بی سی ہندی نے بھی ممتا بنرجی کی جیت کی بات لکھی لیکن وہاں تو کھیل ہونا تھا سو کھیل ہوگیا۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ممتا بینرجی نے نندی گرام سیٹ کو مغربی بنگال کی سب سے ہاٹ سیٹ بنا دیا اور وہاں بی جے پی کے امیدوار سوویندھو ادھیکاری کے لیے مرکزی وزیر امیت شاہ، مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان، اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ فلم سٹار متھن چکرورتی نے بھی پرچار اور ریلیاں کیں۔
لیکن نندی گرام کے نتیجے پر سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ بی جے پی والے جہاں یہ کہہ رہے ہیں کہ ترنمول پارٹی جیتی تو ہے لیکن ممتا ہار گئی ہیں اس لیے انھیں ریاست کی وزیر اعلی بننے کا اخلاقی جواز نہیں ہے جبکہ بہت سے لوگ اس نتیجے کو مرکز اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کہہ رہے ہیں۔
سی پی آئی ایم ایل کی رہنما اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کویتا کرششن نے ٹویٹ کیا: 'الیکشن کمیشن نے اپنا کام کر دیا۔ اور نندی گرام سے ممتا کی جیت کو چھین کر سوویندھو ادھیکاری کو دے دیا۔ بہر حال یہ بی جے پی کے لیے بہت گرانقدر جیت ہے۔ ممتا کے نندی گرام سے انتخاب لڑنے کے دلیرانہ فیصلے نے پوری ریاست میں بی جے پی کے خلاف رخ موڑ دیا۔'
دوسری جانب چارلاکھ سے زیادہ فالوورز رکھنے والی سواتی چترویدی نے ایک سوویندھو کے چیلنج کو ٹویٹ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ وہ کب سیاست چھوڑ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ سوویندھو ادھیکاری نے کہا تھا کہ اگر ممتا نندی گرام سے جیت جاتی ہیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔
ان تمام اٹھا پٹخ اور بیان بازیوں کے درمیان یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ممتا بنرجی جنھیں ملک اور ریاست میں دیدی (یعنی بڑی بہن) کہا جاتا ہے ان کا جادو چل گیا اور ان کے نعرے 'کھیلا ہوبے' یعنی مقابلہ زوردار ہوگا نے کھیل کا رخ پلٹ دیا۔
انڈیا کے معروف وکیل اور ایکٹوسٹ پرشانت بھوشن نے ممتا کی جیت پر ایک ٹویٹ کیا جسے تقریبا ایک ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا۔ اس ٹویٹ سے ممتا بینرجی کی جیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
انھوں نے ٹائمز آف انڈیا کے ایک کارٹون کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ 'پیسے، مودی، شاہ، یوگی، الیکشن کمیشن آف انڈیا، ای دی، سی بی آئی، این آئی اے اور آئی ٹی کے مشترکہ محاذ کو شکست دے کر ممتا سنہ 2024 کے انتخاب میں مودی/شاہ کو چیلنج کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ اب کھیلا 2 کا انتظار کیجیے۔'
انھی خیالات کا اظہار ایک دوسرے صارف نے اس طرح کیا کہ دیدی نے تن تنہا سب کو شکست دے کر بنگال کی روح کو فتح سے ہمکنار کیا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کی پانچ ریاستوں میں سات مرحلوں میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے۔ کیرالہ میں روایت کے برخلاف کمیونسٹ پارٹی نے دوبارہ حکومت سازی کے لیے ووٹ حاصل کیا ہے جہاں بی جے پی کو ایک سیٹ بھی نہیں مل پائی اور ان کے سب سے مشہور چہرے اور 'میٹرو مین' کہے جانے والے امیدوار بھی شکست سے دو چار ہوئے۔
کئی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ کیرالہ میں بی جے پی کوئی سیٹ اس لیے نہیں جیت سکی کیونکہ وہاں کی عوام تعلیم یافتہ ہے۔ خیال رہے کہ انڈیا میں کیرالہ شرح خواندگی میں سرفہرست ہے۔
آسام میں بی جے پی اتحاد نے اکثریت حاصل کی ہے۔ آسام کے ایک رہائیشی اور تاجر خالد لطیف نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ریاست میں سی اے اے (شہریت کے نئے قانون) اور این آر سی کے خلاف شدید لہر کے باوجود بی جے پی کی جیت تو اصل کھیل لگتی ہے۔ یعنی ان کے مطابق کھیل مغربی بنگال میں نہیں بلکہ آسام میں ہوا ہے اور برسر اقتدار بی جے پی نے اپنی حکومت بچال لی ہے۔ واضح رہے کہ آسام میں بی جے پی کے ایک امیدوار کی کار سے ای وی ایم (یعنی ووٹنگ مشین) کے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس کے متعلق بڑے پیمانے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
جنوبی ریاست تمل ناڈو میں دس سال بعد ڈی ایم کے نے کامیابی حاصل کی ہے اور بی جے پی کی اتحادی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے کو شکست ہوئی ہے۔
تمل ناڈ میں معروف اداکار کمل ہاسن نے اپنی پارٹی لانچ کی تھی اور انھوں نے متعدد انتخابی حلقوں سے اپنے امیدوار بھی اتارے تھے لیکن انھیں خود ہی شکست کا سامنا رہا اور وہ بی جے پی کی امیدوار سے بہت کم ووٹوں سے شکست کھا گئے۔
بہت سے لوگوں نے ان کی شکست پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کی کامیاب امیدوار کو مبارکباد دی ہے اور لکھا ہے کہ 'آپ نے کمل ہاسن کو سبق سکھا دیا جو یہ سمجھتے تھے کہ صرف مودی کو گالی دے کر وہ انتخابات جیت جائيں گے۔'
پانڈی چیری میں بی جے پی اور ان کی حلیف جماعت نے اکثریت حاصل کی ہے اور کانگریس کی روایتی ریاست کو ان سے لے لیا ہے۔
بہت سے ماہرین کا خیال ہے مغربی بنگال نے انڈیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر تمام تر پولرائیشن اور ممتا بنرجی پر ہندو مخالف ہونے کے تمام الزامات کے باوجود بی جے پی کی ناکامی سیکولر انڈیا کی جیت ہے۔