بیجنگ پیلا پڑ گیا، چین کے دارالحکومت میں اس دہائی کا بدترین ریت کا طوفان

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پیر کے روز بڑے پیمانے پر سموگ محسوس کی گئی ہے۔ یہاں محکمہ موسمیات نے اسے دہائی کا بدترین ریت کا طوفان قرار دیا ہے۔

ہوا کی آلودگی کا جائزہ لینے والے اداروں نے بتایا ہے کہ طوفان کی وجہ سے اس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ تجویز کردہ حد کے برعکس کچھ ضلعوں میں ہوا کی آلودگی 160 گنا زیادہ ہے۔

منگولیا سے آنے والی گرد آلود ہواؤں سے بیجنگ میں آسمان دہندلا ہوگیا اور اس کا نیلا رنگ خاکی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس دوران سینکڑوں پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

منگولیا بھی شدید ریت کے طوفان سے متاثر ہوا ہے۔ یہاں چھ اموات کے علاوہ درجنوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہReuters

چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق چین میں کم از کم 12 صوبوں میں ریت کا طوفان آیا ہے۔ اس سے متاثر ہونے والے شہروں میں دارالحکومت بیجنگ بھی شامل ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ دن کے دوران موسم ایسا ہی رہنے کی پیشگوئی ہے جبکہ رات کے وقت اس میں کچھ بہتری آسکتی ہے۔

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہEPA

بیجنگ کی رہائشی فلورا زو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’یہ دنیا کا اختتام لگ رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس موسم میں واقعی بابر نہیں نکلنا چاہتی۔‘

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہEPA

عالمی ادارۂ صحت پارٹیکولر میٹر (پی ایم) 10 کے اعتبار سے ہوا کے معیار کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ ماحول میں آلودگی کے کتنے زرے ہیں۔

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو چین میں اس کی مقدار تجویز کردہ حد سے 20 گنا زیادہ تھی، یعنی ہوا کی آلودگی 8100 مائیکرو گرام پر کیوبک میٹر سے زیادہ تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق صفر سے 54 تک کی مقدر اچھی قرار پاتی ہے جبکہ 55 سے 154 کی تعداد درمیانی تصویر کی جاتی ہے۔

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہEPA

اے ایف پی کے مطابق سکولوں نے آوٹ ڈور سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں اور نظام تنفس سے متعلق بیماریوں میں مبتلا افراد کو عمارتوں کے اندر رہنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گذشتہ برسوں میں بھی بیجنگ کئی ریت کے طوفانوں سے متاثر ہوچکا ہے۔ لیکن کئی عمارتوں اور پروجیکٹس کی تعمیر نو سے یہ صورتحال بہتر ہوگئی تھی۔

بیجنگ

،تصویر کا ذریعہEPA

اے ایف پی کے مطابق بیجنگ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں گذشتہ ہفتوں میں ہوا کی آلودگی کافی حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس کی وجہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی بتائی گئی ہے۔