آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میانمار میں فوجی بغاوت: فوج نے ایسا کیوں کیا اور اب میانمار کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟
- مصنف, فلورا دروری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
میانمار کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ لگ بھگ ایک دہائی قبل ہی میانمار کی فوج نے ملک سے طویل ترین فوجی دور کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کا اقتدار ایک سویلین حکومت کے حوالے کیا تھا اور اس حوالے سے ایک باضابطہ معاہدہ بھی ہوا تھا۔
پیر کی صبح ہونے والی فوجی بغاوت نے پورے ملک میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں 50 برس تک جابرانہ فوجی حکومتیں قائم رہیں اور بالآخر سنہ 2011 میں اس ملک نے جمہوری حکمرانی کی طرف پیش قدمی کی اور نظام ایک سویلین حکومت کے پاس آئی۔
آنگ سان سوچی اور دیگر بہت سے سیاستدانوں کی صبح سویرے گرفتاریوں نے ان دنوں کی دردناک یاد پھر سے تازہ کر دی جن کے حوالے سے بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ وہ ماضی کا حصہ بن چکے ہیں، یعنی کہ ملک میں مارشل لا کا نفاذ اور اس سے جڑی یادیں۔
گذشتہ پانچ برسوں کے دوران سوچی اور اس کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے ملک کی قیادت کی۔ سنہ 2015 میں ہونے والے انتخابات، جس میں سوچی کی حکومت منتخب ہوئی تھی، کو گذشتہ 25 سالوں میں ملک میں ہونے والے انتہائی شفاف اور آزادانہ انتخابات قرار دیا گیا تھا۔ اور پیر کی صبح، جب مارشل لا نافذ کیا گیا، اس پارٹی کو اقتدار میں اپنی دوسری مدت کا آغاز کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن پسِ پردہ رہتے ہوئے میانمار کی فوج نے معاملات پر اپنی گرفت انتہائی مضبوط رکھی، اور یہ میانمار کے آئین کی وجہ سے ممکن ہوا جس کے تحت پارلیمان اور ملک کی طاقتور ترین وزارتوں کا ایک چوتھائی حصہ فوج کو جاتا ہے۔
مگر اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود فوج نے اب کیوں اقتدار پر قبضہ کیا، اور یہ کہ اب آگے کیا ہو گا؟
فراڈ کے الزامات
فوجی بغاوت کے لیے یہ وقت کیوں چنا گیا اس کی آسان سی وضاحت بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندے جوناتھن ہیڈ نے دی ہے۔ 'پیر کی صبح میانمار کی پارلیمان کا پہلا اجلاس ہونا تھا جس کے دوران الیکشن کے نتائج کی توثیق ہونی تھی۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔'
نومبر میں ہونے والے انتخابات میں سوچی کی جماعت نے 80 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ ملک میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے سنگین الزامات کے باوجود یہ پارٹی بہت زیادہ مقبول رہی۔
فوجی حمایت یافتہ اپوزیشن نے انتخابات کے فوراً بعد ہی دھوکہ دہی کے الزامات لگانا شروع کر دیے تھے۔ ان ہی الزامات کو نئے قائم مقام صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک دستخطی بیان میں دہرایا گیا ہے اور ایسا شاید اس لیے کیا گیا تاکہ فوج کی جانب سے اعلان کردہ ایمرجنسی کے نفاذ کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
سابق نائب صدر مائینٹ سوی، جو کہ ایک سابق جنرل بھی ہیں، نے کہا ہے کہ 'میانمار کا الیکشن کمیشن آٹھ نومبر 2020 کو ہونے والے کثیر جماعتی عام انتخابات میں ووٹر لسٹ میں موجود بڑی بے ضابطگیوں کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔'
لیکن اس الزام کے بہت ہی کم ثبوت منظر عام پر لائے گئے ہیں۔
ایشیا میں ہیومن رائٹس واچ کے نائب ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے بی بی سی کو بتایا 'ظاہر ہے کہ آنگ سان سوچی نے زبردست انتخابی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس دوران انتخابی دھوکہ دہی کے الزامات لگے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کی طرح تھے، یعنی یہ دعوے بغیر ثبوت کے کیے گئے۔'
مسٹر رابرٹسن فوج کے اقتدار پر قبضے کو 'ناقابل معافی' قرار دیتے ہیں۔
'کیا [ووٹ] کا مطلب اقتدار سے محروم ہونا تھا؟ اس کا جواب نہیں ہے۔'
’بابائے قوم شرمندہ ہیں‘
نومبر کے انتخابات میں یہ دیکھا گیا کہ فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کچھ ووٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ لیکن فوج اس کے باوجود حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس کی وجہ 2008 کا آئین ہے جو فوجی جنتا کی حکومت کے دوران تشکیل دیا گیا تھا۔
اس کی بدولت فوج کو خود سے پارلیمان میں ایک چوتھائی سیٹیں مل جاتی ہیں اور انھیں داخلہ، دفاع اور سرحدی امور کی وزارت بھی دی جاتی ہے۔
جب تک یہی آئین رہے گا، فوج کا اثر و رسوخ قائم رہے گا۔ لیکن کیا این ایل ڈی اس بار اپنی اکثریت کے ساتھ یہ آئین بدل سکتی تھی؟
جوناتھن ہیڈ کے مطابق یہ ہونا مشکل تھا کیونکہ اس کے لیے پارلیمان کی 75 فیصد اکثریت درکار ہوتی ہے جو کہ تقریباً ناممکن ہے کیونکہ 25 فیصد سیٹیں تو فوج کے پاس ہوتی ہیں۔
سابق صحافی اور ٹیکنالوجی کی پروفیسر ایئی مِن تھینٹ کہتی ہیں کہ آج کے اقدام کی ایک اور وجہ ہوسکتی ہے: فوج میں ندامت پائی جاتی ہے۔
رنگون سے انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’انھیں توقع نہیں تھی کہ انھیں شکست ہوگی۔ فوج سے خاندانی تعلقات رکھنے والوں نے بھی ان کے خلاف ووٹ ڈالے۔‘
ظاہر ہے کہ بات اس سے بڑی ہے۔
’آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ فوج ملک میں اپنی پوزیشن کو کیسے دیکھتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اکثر آنگ سان سوچی کو ’ماں‘ کا درجہ دیتی ہے۔ لیکن فوج خود کو ’بابائے قوم‘ تصور کرتی ہے۔‘
اس کے نتیجے میں فوج میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومتی سرگرمیوں میں اس پر ذمہ داری ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک میں بین الاقوامی تجارت بڑھی ہے اور یہ پہلے اس شدت کے ساتھ نہیں دیکھا گیا۔
’وہ باہر کے لوگوں کو خطرہ سمجھتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ عالمی وبا اور روہنگیا افراد کو ووٹ ڈالنے کا حق نہ ملنے پر بین الاقوامی تشویش فوج نے اس اقدام کا سوچا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود یہ ان کے لیے بھی حیران کن ہے۔
مستقبل میں کیا ہوسکتا ہے؟
ماہرین اس حوالے سے کسی ایک وجہ پر متفق نہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ لیکن ان میں ایک بات پر اتفاق ہے کہ اس سے بہت کم فائدہ ہوگا۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں ایشیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر جرارڈ مکارتھی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’یہ قابل فہم ہے کہ موجودہ نظام فوج کے لیے کافی فائدہ مند ہے۔ اسے مکمل خودمختاری حاصل ہے، اس کے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے بھی اچھے مواقع ہیں اور عام شہریوں کے لیے جنگی جرائم کے ذمہ دار سیاسی حلقے ہیں۔‘
’اپنے اعلان کے مطابق ایک سال تک اقتدار پر قابض رہنے پر چین کے علاوہ بین الاقوامی ساتھی اسے تنہا چھوڑ دیں گے، فوج کے تجارتی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچے گا اور آنگ سان سوچی کے لاکھوں حمایتی جنھوں نے ان کی جماعت کو ووٹ دیا تھا وہ بھی ان کے لیے رکاوٹ بن جائیں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ شاید مستقبل کے انتخابات میں یو ایس ڈی پی بہتر کارکردگی کر سکے لیکن اس اقدام سے بہت زیادہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے فِل رابرٹسن کہتے ہیں کہ خدشہ ہے کہ اس سے میانمار ایک بار پھر ’خارج شدہ ریاست‘ بن سکتی ہے اور اس سے ملکی شہری بھی ناخوش رہیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا ہے میانمار کے لوگ اسے چپ چاپ قبول کر لیں گے۔ وہ مستقبل میں فوج کے ساتھ آگے جانا نہیں چاہتے۔ وہ آنگ سان سوچی کو فوجی آمریت کے خلاف ایک دیوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘
یہ امید بھی ہے کہ مسئلہ بات چیت سے حل ہوجائے گا۔ ’اگر ہم نے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھنا شروع کردیے تو یہ ایک بڑے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔