آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میانمار میں روہنگیا کی ’نسل کشی‘: میانمار میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف قرارداد منظور
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کرتے ہوئے قرارداد کو منظور کر لیا ہے۔
اس قرارداد میں میانمار سے کہا گیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیزی کو روکے۔
خیال رہے کہ بدھ مت کے پیرو کاروں کی اکثریتی آبادی کے ملک میانمار میں بسنے والے ہزاروں روہنگیا مسلمان سنہ 2017 میں فوج کے کریک ڈاؤن میں ہلاک ہوئے تھے جبکہ سات لاکھ سے زائد ہمسایہ ملک بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔
میانمار (قدیم برما) نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ انتہاپسندی سے نمٹ رہا تھا۔
میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے رواں ماہ کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کی عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعے کو منظور کی جانے والی قرارداد میں گذشتہ چار دہائیوں میں ’سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کی جانب سے ظلم و تشدد کے نتیجے میں‘ روہنگیا مسلمانوں کے مسلسل بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس میں ایک آزاد بین الاقوامی مشن کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے نتیجے پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح ’روہنگیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق کی صریح پامالی‘ میانمار کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہوئی ہے جسے مشن نے ’بین الاقوامی قانون کے تحت شدید ترین جرم‘ قرار دیا ہے۔
قرارداد میں میانمار سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہونے والے تمام گروپس کے تحفظ اور ان کو انصاف دیئے جانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ قرارداد 193 رکن ممالک والی اسمبلی میں 134 ممالک کی حمایت کے ساتھ منظور کی گئی ہے۔ نو ممالک نے اس کی مخالفت کی جبکہ 28 ممالک نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد پر قانونی طور پر عمل درآمد کی پابندی نہیں ہے لیکن اس سے عالمی رائے کا اظہار ہوتا ہے۔
میانمار کے اقوام متحدہ کے سفیر ہاؤ ڈو سوان نے اس قرارداد کو 'انسانی حقوق کے اصول کے تعلق سے ایک اور دوہرے معیار، منتخب اور امتیازی طرز عمل کی کلاسیکی مثال' کہا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اسے میانمار پر 'غیرواجب سیاسی دباؤ ڈالنے' کے لیے تیار کیا گيا ہے اور 'رخائن صوبے کی پیچیدہ صورتحال' سے نکلنے کا حل تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔
روہنگیا کے مقدمہ کو مغربی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک گیمبیا نے درجنوں مسلم ممالک کی طرف سے دائر کیا تھا۔
رواں ماہ کے اوائل میں عدالت سے خطاب کرتے ہوئے امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی نے میانمار کے خلاف مقدمے کو 'نامکمل اور غلط' قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ رخائن میں جہاں زیادہ تر روہنگیا رہتے ہیں مسائل صدیوں پرانے ہیں۔
انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہو سکتا ہے فوج نے کہیں کہیں طاقت کا غیر مناسب استعمال کیا ہو۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اگر فوجیوں نے جنگی جرائم کیے ہیں تو ان کو سزا دی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ میانمار رخائن سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی محفوظ طریقے سے وطن واپسی کے لیے پر عزم ہے۔ انھوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے جس کی وجہ سے لڑائی بڑھ سکتی ہو۔
الزامات کیا ہیں؟
سنہ 2017 کے آغاز میں میانمار میں دس لاکھ روہنگیا آباد تھے۔ یہ لوگ زیادہ تر میانمار جسکا پرانا نام برما ہے کی ریاست رخائن میں رہتے تھے۔
لیکن میانمار میں زیادہ تر آبادی بدھ مذہب کی پیروکار ہے۔ وہ روہنگیا کو غیر قانونی تارکین وطن سمجھتے ہیں اور انھیں شہریت بھی نہیں دی جاتی۔
روہنگیا کی جانب سے طویل عرصے سے یہ شکایت کی جاتی رہی کہ ان پر ظلم و ستم ہو رہا ہے اور پھر سنہ 2017 میں ملکی فوج کی طرف سے رخائن میں ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا۔
عالمی عدالت انصاف کی دستاویزات کے مطابق فوج پر الزام ہے کہ اس نے روہنگیا کے خلاف اکتوبر 2016 سے ’بڑے پیمانے پر منظم طریقے سے کلیئرنس آپریشن‘ شروع کیا۔
عدالت میں ان الزامات پر سماعت ہو گی کہ اس کلئیرنس ’کا مقصد بطور گروہ روہنگیا کو مکمل طور پر یا حصوں میں قتل، ریپ کرنا تھا اور کئی ایسی عمارتوں کو بھی آگ لگائی گئی جن میں لوگ موجود تھے۔
اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بظاہر بہت سے الزامات کی تصدیق کی ہے۔ اگست میں آنے والی ایک رپورٹ میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ میانمار کے سپاہیوں کو ’روٹین میں اور منظم طور پر عورتوں، لڑکیوں، لڑکوں اور خواجہ سراؤں کے خلاف ریپ، گینگ ریپ ، تشدد اور زبردستی جنسی افعال کرنے کو کہا گیا۔
مئی میں میانمار کے سات سپاہیوں کو قید سے جلد رہائی مل گئی جن پر 10 رونگیا مردوں اور لڑکوں کو قتل کرنے کا الزام تھا۔
میانمار کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشنز میں روہنگیا شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ماضی میں فوج اپنے آپ کو الزامات سے کلیئر کر چکی ہے۔
آنگ سان سوچی کا کیا کردار ہے؟
یہ کیس آنگ سان سوچی کے خلاف نہیں بلکہ میانمار کے خلاف ہے۔
عالمی عدالت انصاف کسی فرد واحد کو اس طرح سزا نہیں دے سکتی جیسے مثال کے طور پر جرائم سے متعلق عالمی عدالت دے سکتی ہے۔ (آئی سی سی الگ سے روہنگیا کیس کی تفتیش کر رہی ہے)۔ ‘
لیکن یہ مقدمہ کچھ حد تک سنہ 1991 میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی کے بارے میں بھی ہے۔
سوچی اپریل 2016 یعنی روہنگیا کی نسل کشی کے الزامات سے پہلے سے میانمار کی سربراہ ہیں۔ ان کا ملکی فوج پر تو کوئی کنٹرول نہیں لیکن اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ان پر فوجی کلئیرنس آپریشن میں ساز باز کا الزام عائد کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے میانمار میں انسانی حقوق کے لیے موجود سپیشل ریپوٹار یانگ لی نے ستمبر میں کہا تھا ’اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔ براہ کرم اپنی اخلاقی اتھارٹی کو استعمال کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘
نومبر میں آنگ سان سوچی نے دی ہیگ میں اعلان کیا تھا کہ وہ ملکی دفاع کے معاملات کی ذاتی طور پر بحیثیت وزیر دفاع سربراہی کریں گی۔ وہ 11 دسمبر کو عدالت میں خطاب کریں گی۔
اس کیس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟
ابھی گیمبیا صرف عدالت سے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ روہنگیا کے لیے میانمار اور جہاں بھی وہ ہوں کو مزید خطرات اور تشدد سے بچانے کے لیے ’عارضی اقدامات‘ کا حکم دیں جن پر عمل درآمد لازمی ہو گا۔
یہ فیصلہ دینے کے لیے کہ میانمار نے نسل کشی کی ہے عدالت کو تعین کرنا ہو گا کہ ریاست نے یہ اقدام روہنگیا اقلیت کو مکمل طور پر یا اس کے ایک حصے کو تباہ کرنے کے ارادے سے کیا۔
لیکن حتمی فیصلہ شاید سالوں کی دوری پر ہے۔ اور تب بھی عالمی عدالت کے پاس کوئی طریقہ نہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر طاقت سے عمل کروائے لیکن الزام کے ثابت ہونے کی صورت میں میانمار کی ساکھ اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچے گا۔
روہنگیا کے لیے ابھی کیا صورتحال ہے؟
جب سے ملٹری آپریشن شروع ہوا ہے لاکھوں روہنگیا میانمار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔
30 ستمبر تک بنگلہ دیش کے کیمپوں میں رہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد نو لاکھ پندرہ ہزار تھی۔ ان میں سے 80 فیصد نے اگست 2017 سے دسمبر 2017 کے درمیان نقل مکانی کی۔ اور رواں برس مارچ میں بنگلہ دیش نے کہا کہ وہ مزید روہنگیا کو قبول نہیں کرے گا۔
اگست میں بنگلہ دیش نے اپنی مرضی سے واپس لوٹنے والے روہنگیا کے لیے سکیم شروع کی لیکن کسی ایک روہنگیا نے بھی واپسی کا ارادہ نہیں کیا۔
بنگلہ دیش کا منصوبہ ہے کہ وہ خلیج بنگال میں موجود ایک چھوٹے سے جزیرے بھاسن چار پر ایک لاکھ روہنگیا کو آباد کرے گا۔ لیکن 39 امدادی ایجنسیوں اور انسانی حقوق کے گروہوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔
ستمبر میں بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ نے رپورٹ کیا تھا کہ روہنگیا کے میانمار میں موجود علاقوں میں پولیس کی بیرکیں، سرکاری عمارات اور پناہ گزینوں کے بحالی مراکز بنائے جا چکے ہیں۔