انڈیا میں کسانوں کا احتجاج جاری: سپریم کورٹ نے زرعی قوانین کے نفاذ کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا

انڈیا کی سپریم کورٹ نے تین نئے زرعی قوانین کے نفاذ کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے حکمِ امتناع جاری کیا ہے اور احتجاج کرنے والے کسانوں اور حکومت سے بات چیت کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کسان یونین سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات چیت کر رہی ہیں لیکن کسانوں نے اپنے ابتدائی ردعمل میں کہا ہے کہ وہ اپنے اس مطالبے پر قائم ہیں کہ حکومت ان تینوں قوانین کو واپس لیا جائے۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سربراہی میں عدالت عظمی کی تین رکنی بینچ نے کہا کہ وہ کسانوں کی تحریک کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر فکرمند ہیں۔ ‏عدالت عظمٰی نے کہا کہ ماہرین کی کمیٹی قائم کرنے کا مقصد اس مسئلے کو گہرائی سے سمجھنا ہے تاکہ موجودہ کشیدہ صورتحال کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

بینچ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین کا پینل حکومت اور کسانوں کے درمیان ثالثی کا کردار نہیں ادا کرے گا بلکہ مرکزی حکومت اور کسان تنظیموں سے بات چیت کے بعد کوئی حل نکالنے کی کوشش کرے گا۔ کسانوں کے درمیان مذاکرات کے اب تک آٹھ دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

اس پینل میں بھارتی کسان یونین کے بھوپیندر سنگھ مان، شیتکاری سنگٹھن کے انل گنوت، فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر پرمود کمار جوشی اور زرعی ماہر اقتصادیات اشوک گولاٹی شامل ہیں۔

حکومت نے گذشتہ ستمبر میں تین نئے زرعی قوانین منظور کیے تھے جن کے تحت اناج کی سرکاری منڈیوں کو نجی تاجروں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اناج کی ایک مقررہ قیمت کی سرکاری ضمانت کے نظام کو ختم کر دیا گیا۔ اس کی جگہ کسانوں کو اپنا اناج کہیں بھی فروخت کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ کنٹریکٹ کھیتی کا بھی نظام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت تاجر اور کمپنیاں کسانوں سے ان کی آئندہ فصل کے بارے میں پیشگی سمجھوتہ کر سکتی ہیں۔

کسانوں کو خدشہ ہے کہ سرکاری منڈیوں کی نجکاری سے تاجروں اور بڑے بڑے صنعتکاروں کی اجارہ داری ‍قائم ہو جائے گی اور مقررہ قیمت کی سرکاری صمانت نہ ہونے کے سبب انہیں اپنی پیداوار کم قیمت پر فروخت کرنے کے لیے مجبوبر ہونا پڑے گا۔ انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ کنٹریکٹ کھیتی سے رفتہ رفتہ ان کی زمینوں پر بڑی بڑی کمپنیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو کھلی منڈی حاصل ہو جائیں گی جس سے وہ اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کر سکیں گے۔ لیکن کسان اس جواب سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ انہیں پوری طرح واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہزاروں کسان دلی کے نواح میں گذشتہ ڈیڑھ مہینے سے احتجاج میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر 26 جنوری کو دلی میں کسان ٹریکٹر ریلی نکالنے کی کال دی ہے۔ اس روز دلی میں یومِ جمہوریہ کی پریڈ منعقد ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ریلی پر روک لگانے کے لیے دلی پولیس کی عزرداری کے سلسلے میں سبھی فریقوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔