نیُو شُو: چین میں خواتین کے لیے مخصوص خفیہ زبان

،تصویر کا ذریعہXin Hu
- مصنف, اینڈریو لافٹ ہاؤس
- عہدہ, بی بی سی
چین کا جنوب مشرقی صوبہ ہنان پتھریلے پہاڑوں کی عمودی چوٹیوں پر مشتمل ڈرامائی قسم کے ایک معمے کی مانند ہے جہاں چاولوں کے کھیتوں سے مزیّن دریائی وادیاں حسین اور دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔
اس خطے کا 80 فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے پہاڑی گاؤں ایک دوسرے سے آزاد اکائیوں کی صورت میں تعمیر ہوئے۔ ان پہاڑی چٹانوں کے دامن میں آباد دیہات میں جو کہ باقی دنیا سے پوشیدہ تھے، نیُو شُو نے جنم لیا تھا: دنیا کا واحد رسمُ الخط جو عورتوں نے تخلیق کیا اور صرف عورتوں ہی نے اپنے لیے استعمال کیا۔
چینی زبان میں اِس کے معنی ہیں 'عورتوں کا رسم الخط'، نیُو شُو انیسویں صدی میں صوبہ ہنان کے جیانگ ینگ شہر میں اُس وقت بہت معروف ہوا جب ہان، یاؤ اور میاؤ نسل کی عورتوں نے اسے اپنے اظہارِ خیال کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ اُس زمانے میں عموماً ان معاشروں میں اس قسم کی آزادئِ اظہارِ رائے پر اصرار نہیں کیا جاتا تھا تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عورتوں کی یہ زبان سونگ خاندان (960-1279) کی بادشاہت کے زمانے میں پیدا ہوئی تھی یا شاید تین ہزار برس قبل شانگ خاندان کے زمانے میں اس کی تخلیق ہوئی تھی۔
اس کا رسمُ الخط کسان عورتوں میں ماں کی جانب سے ان کی بیٹیوں کو نسل در نسل ورثے میں منتقل ہوتا رہا اور چین کے جاگیردار معاشرے کی بہنیں اور سہیلیاں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے استعمال کرتی رہیں جس زمانے میں ان کے پیروں کو باندھ دیا جاتا تھا اور انھیں تعلیم کے مواقع نہیں دیے جاتے تھے۔ اس زمانے کی عورتوں کی اکثریت ناخواندہ ہوتی تھی، اور وہ نیُو شُو کے رسمُ الخط کو دیکھ کر صرف نقل کرنے کی مشق کرنے سے سیکھتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نیُو شُو رسمُ الخط نے عورتوں کی ایک منفرد ثقافت کو فروغ دیا جو آج بھی زندہ ہے۔
کمال کی بات یہ ہے کہ شاید کئی صدیوں تک یا شاید ہزاروں برس تک یہ رسمُ الخط زبان جسے بولا نہیں جاتا ہے، جیانگ ینگ شہر سے باہر اسے کوئی نہیں جانتا تھا، اور اس رسمُ الخط کے بارے میں باہر کی دنیا کو سنہ اسّی کی دہائی میں علم ہوا۔

،تصویر کا ذریعہ CPA Mediat Pte Ltd/Alamy
آج، جب اس زبان کو مہارت کے ساتھ 'بولنے' والی آخری شخصیت کو مرے ہوئے سولہ برس ہوچکے ہیں، اس غیر معروف رسمُ الخط کا پھر سے جنم ہو رہا ہے۔ اس زبان کے دوبارہ سے فروغ پانے کا مرکز 'پووائی' نامی گاؤں ہے جو دریائے ژیاؤ سے گھرا ہوا ہے اور اس تک رسائی کا صرف ایک ہی رستہ ایک جھولتا ہوا پُل ہے۔
پووائی کے رہنے والے ایک شخص زِن ہُو کے مطابق، نیُو شُو رسمُ الخط پوائی کے قریب کے چار قصبوں اور اٹھارہ دیہات میں استعمال ہوتا تھا۔ جب ماہرین نے 200و نفوس پر مشتمل پوائی گاؤں میں نیُو شُو لکھنے والی عورت کو دریافت کیا تو یہ گاؤں اِس رسمُ الخط پر تحقیق کا مرکز بن گیا۔ سنہ 2006 میں اس زبان کو سٹیٹ کونسل آف چائنا کے ایک سرکاری ادارے 'ناقابلِ فہم قومی ثقافتی ورثہ' نے اپنی فہرست میں شامل کر لیا۔
اس کے ایک برس بعد پووائی جزیرے کی سرزمین پر ایک میوزیم تعمیر کیا گیا جہاں زِن نے اس زبان کے سات دیگر افراد کے ہمراہ مترجم یا وارث کے طور پر کام کا آغاز کیا جس میں یہ اس زبان کو سیکھتے، لکھتے، گاتے اور اس کو نقش و نگار کے ساتھ آراستہ کرکے اس کی کتابت کرتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیُو شُو ایک صوتی رسم ُالخط ہے جو دائیں سے بائیں جانب لکھا جاتا ہے جو کہ جیانگ ینگ میں بولی جانے والی چار مقامی زبانوں کے ایک گُڈ مُڈ ملغوبے کی طرح ہے۔ ہر علامت ایک حرف کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ ایک تراشے ہوئے بانس کے قلم سے اور برتن میں جلی ہوئی سیاہ راکھ سے بنائی گئی روشنائی سے لکھی جاتی ہے۔ چینی زبان کے حروف سے متاثر ہونے کی وجہ سے اس کی شکل خمدار لمبائی کی طرح ہوتی ہے جن کی باریک سی کتابت ترچھے انداز میں نیچے کی جانب ڈھلتی ہے اور بعض اوقات پتلی سی تحریر ہونے کی وجہ سے اسے مقامی لوگ 'مچھر جیسی تحریر' بھی کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہXin Hu
نیُو شُو نے گھریلو اور سماجی مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لیے دیہاتی عورتوں میں ایک دوسرے کے درمیان ایک رابطے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ذریعے کا کردار ادا کیا۔ خوشگوار اور دوستانہ انداز کے پیار بھرے نیُو شُو رسمُ الخط کے الفاظ کو رومالوں، دوپٹوں، پنکھوں اور کمر بندوں پر رنگین دھاگوں کے ساتھ کاڑھا جاتا اور پھر اِنہیں تحفتاً ایک دوسرے کو دیا جاتا۔
اگرچہ نیُو شُو بولی جانے والی زبان نہیں تھی تاہم عورتیں اسے اپنی محفلوں میں اس رسمُ الخط سے بنے ہوئے مصرعوں، نظموں یا نعروں کو جو بچوں کی نظموں سے لے کر جنم دن کی مبارکباد دینے اور اپنے افسوس کے اظہار یا شادی سے متعلقہ شکایتوں کے بیان کے لیے گاتیں۔ بوڑھی عورتیں اپنی زندگی کی کہانی پر مشتمل گیت کہتیں جن پر وہ اپنی سہیلیوں یا جوان عورتوں کو اپنی زندگی کے مصائب بیان کرتیں یا ان اشعار میں اچھے اوصاف بیان کرتیں یا دوسری عورتوں کو بتاتیں کہ عفت، تقویٰ اور احترام کے ذریعے ایک اچھی بیوی کس طرح بنا جاتا ہے۔
اگرچہ نیُو شُو اُن عورتوں کے لیے، جو چین میں خواندگی کے مواقع نہیں حاصل کر سکتی تھیں، ایک ذریعہِ ابلاغ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ دراصل اپنے وقت میں ایک سخت قسم کے پدرشاہی معاشرے کے خلاف سرکشی کا ایک خفیہ رسمُ الخط تھا۔
تاریخی طور پر چینی عورت کے لیے ایک قابلِ قبول رویہ نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ سرِ عام اظہارِ تاسف کرے، زراعتی کاموں کی مشکلات بیان کرے یا اپنے غم و الم کے احساسات بیان کرے۔ نیُو شُو نے ان عورتوں کو اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع دیا اور عورتوں کے درمیان غم و خوشی بانٹنے کے لیے ایک انجمن سازی کا ماحول دیا جو کہ اُس وقت کے پدر شاہی معاشرے میں ایک کلیدی کردار تھا۔
وہ عورتیں جنہوں نے ایسا مضبوط رشتہ قائم کیا وہ (خواہرانِ قسم خوردہ) 'پکی بہنیں' کہلاتیں اور عموماً تین تین یا چار چار عورتوں کا ایک گروہ جن کی آپس میں کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی تھی، وہ ایک دوسرے کے ساتھ خطوط لکھ کر اور نظمیں گا کر دوستی کے عہد و پیمان کرتیں۔ جہاں انھیں اپنے خاندان کے مردوں کے سامنے دب کر رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا، وہیں یہ 'پکّی بہنیں' ایک دوسرے کی صحبت میں ایک دوسرے کی دلجوئی کرتیں۔
سنہ 2000 میں پووائی میں ایک نیُو شُو سکول کھولا گیا اور زِن نے اپنی ماں اور بہن کو وہاں پڑھنے کے لیے کہا۔ اب وہ طلبا کو نیُو شُو پڑھاتی ہیں، سیاحوں کی میوزیم میں رہنمائی کرتی ہیں اور اب اس زبان کا ایک چہرہ بن گئی ہیں اور ایشیا اور یورپ میں دوروں کا آغاز کر رہی ہیں۔
زِن کہتی ہے کہ '(اس زبان کے) کچھ وارثوں نے جیسا کہ ہم میں سب سے بڑی نیُو شُو خط کی وارث ہی یینکزین ہیں، یہ خط اپنی دادیوں اور نانیوں سے سیکھا جو اب اپنی عمروں کے اسّی کے پیٹے میں ہیں۔ لوگ اس خط کو اس لیے پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ منفرد ہے اور وہ اسے سیکھنا چاہتے ہیں اور اسے جاننا چاہتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہFrederic J Brown/Alamy
لیکن یہ ابھی بھی پُر اسرار بات ہے کہ یہ رسمُ الخط چین کے ایک دوردراز علاقے میں کیوں پیدا ہوا اور اس نے وہاں فروغ کیوں پایا۔
نیویارک کے سکڈمور کالج میں چینی زبان کی پروفیسر کیتھی سِلبر جنہوں نے سنہ 1986 میں نیُو شُو رسمُ الخط سیکھا ہے اور اس پر تحقیق بھی کی، کہتی ہیں کہ 'میرے خیال اس کی کئی وجوہات ہیں جن کا جنوبی چین میں وجود ہے، غیر ہان لوگ، چینی اثر بڑھنے کی وجہ سے غیر چینی نسلیتوں کا چینی بننے کا رجحان، ان علاقوں کا دور دراز واقع ہونا۔'
سِلبر نے سنہ 1989 میں نیُو شُو کے آخری کاتب یائی نِیان ہوا کے ساتھ کئی ماہ گزارے تھے جس میں انھوں نے یائی کے کام کا معیاری چینی زبان میں ترجمہ کیا تھا اور اس موضوع پر لیکچر دینے شروع کیے تھے۔
آج ہم نیُو شُو کے بارے میں جو بھی جانتے ہیں اس کا سہرا ایک مرد محقق ژاؤ شوئی کے سرجاتا ہے جس نے اس رسمُ الخط کے بارے میں سنہ 1950 میں اُس وقت سنا تھا جب اس کی ایک رشتہ دار خاتون کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی جو نیُو شُو رسم الخط والے خطے میں رہتا تھا۔ ژاؤ نے سنہ 1954 میں جیانگ ینگ کے ثقافتی محکمے کے لیے اس رسم الخط کے خفیہ حروف کو جاننا شروع کیا، لیکن ساٹھ کی دہائی میں ماؤزے تنگ کے 'ثقافتی انقلاب' کے شروع ہوجانے کی وجہ سے ژاؤ کا کام ریاستی پالیسیوں کی زد میں آگیا۔
ژاؤ سنہ 2004 میں اس دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'اس زبان پر تحقیق کام کی وجہ سے مجھ پر رجعت پسند ہونے کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے میرے تحقیقی کام کی کئی دستاویزات نذرِ آتش کر دیں اور مجھے ایک حراستی کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں سے مجھے 21 برس قید کے بعد 1979 میں رہائی ملی۔'

،تصویر کا ذریعہXin Hu
انقلاب کے ایک عمل کے حصے کے طور پر چین جاگیردارانہ دور کی ہر شہ اور بات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا تھا اور اگر کوئی نیُو شُو استعمال کرتا دکھائی دیتا تو اس کی مذمت کی جاتی۔ اور پھر ساتھ ساتھ جب عورتوں کو سنہ 1950 میں تعلیم بھی دی جانی لگی تو اس رسم خط کا استعمال اور بھی کم ہو گیا۔ سنہ 2003 میں اپنے انتقال سے ایک برس قبل، اور اور اس رسم الخط کے لکھنے والے ایک مقامی آخری کاتب کے زمانے میں ژاؤ نے اس خط کو چینی زبان میں ترجمہ کرنے کا انتھک کام جاری رکھا۔
سنہ 2003 میں اپنی موت سے اور نیُو شُو کے مہارت رکھنے والے آخری کاتب یانگ ہوان یی کی موت سے پہلے ژاؤ نے نیُو شُو کی پہلی لغت مرتب کی تاکہ اس رسمُ الخط کو فروغ مل سکے اور دنیا اس کی اہمیت کے بارے میں جان سکے۔
دریائے زیاؤ میں گھرے شاندار نیُو شُو باغ کے میوزیم میں کلاسوں کے کمرے اور نمائیش کے لیے ایک ہال ہے۔ اس کی دیواروں پر ویڈیوز، تصویریں اور ثقافتی فن پارے آویزاں ہیں جبکہ ان کلاسوں میں آرائش اور کتابت سے ایک ثقافتی تعلق بنانے کے مواقع ملتے ہیں۔ اس میوزیم کی حال ہی میں توسیع کی گئی ہے اور اب یہاں اس رسم الخط کے شعروں اور نغموں کا سالانہ میلہ بھی ہوتا ہے جو نیُو شُو 'زبان' میں ہوتا ہے۔
گرمیوں کے موسم میں میوزیم میں نیُو شُو سکھانے کا انتظام بھی ہوتا ہے اور اس خط کا ہر وارث باری باری اس کی تاریخ بتاتا ہے اور کتابت کے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لیکن زِن کا کہنا ہے کہ نیُو شُو کو سیکھنا کافی مشکل ہے۔ 'اس کو سیکھنے میں کچھ مشکلات ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس کے حروف لکھنے کا انداز عام چینی زبان کے حروف کے لکھنے سے مختلف ہیں۔ پھر یہ کہ اس کے تلفظ کے مسائل ہیں۔ اگر آپ مقامی زبان کا انداز بول ہی نہیں سکتے ہیں تو آپ کے لیے نیُو شُو پڑھنا یا گانا مشکل ہوگا۔'

،تصویر کا ذریعہXin Hu
نیُو شُو کے استمال کی ایک اہم وجہ شادیاں ہیں۔ رواتی طورپر شادیوں کے بعد دلہن اپنے والدین کا گھر چھوڑے گی اور پِیا کے گھر سدھارے گی۔ دلہن اپنی نئی زندگی میں عموماً اپنے آپ کو تنہا محسوس کرے گی، اس لیے نیُو شُو نے اُسے اپنی غمگین کیفیت کو بیان کرنے کا ایک ذریعہ بہم پہنچایا اور اس کی اس غم کی داستان گوئی نے اُس کا اپنے جیسی کئی غمگین سکھیوں سے اُس کا تعلق جوڑ دیا۔
نوبیاہتا لڑکی اپنی زندگی کے نئے کردار میں جب داخل ہوتی ہے تو شادی کے تین روز بعد اُسے اپنی نئی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کی رسم 'سن ژاؤشو' سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس رسم کے مطابق دلہن کو نئے گھر کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ اس رسم کے مطابق، 'تیسرے دن کی کتاب' دی جاتی ہے جو کہ کپڑے کی بنی ہوتی ہے۔ اس کتاب میں دلہن کی ماں اور دیگر قریبی رشتہ دار اُس سے جدا ہونے کے غم کا اظہار کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کتاب کے چند ابتدائی صفحات پر اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں اور اس کتاب کے باقی صفحے خالی چھوڑ دیے جائیں گے تاکہ اس میں دلہن اپنے خیالات رقم کر سکے یا انہیں اپنی ڈائری کی طرح استعمال کرے۔

،تصویر کا ذریعہxin hua
آج کے دور میں نیُو شُو کی روایات کی اصلی نوادرات مشکل سے ملتی ہیں، ان میں سے بیشتر انقلاب کے زمانے میں تباہ کردی گئی تھیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں اس کی کئی اشیا فلموں میں، گیتوں میں اور ادب میں پیش کی جا رہیں ہیں۔ اس کے علاوہ جیانگ ینگ بھر میں نوجوان عورتیں میوزیم میں نیُو شُو کا رسم الخط لکھنا سیکھ رہی ہیں۔ اس سال موسمِ گرما میں بیس لڑکیوں نے خط سیکھنے کے لیے اپنا نام درج کرایا تھا۔ اور زِن جیسے اس کے وارثوں نے چین کے مقبولِ عام ایپ 'وی چیٹ' کے ذریعے آن لائین کلاسیں بھی شروع کردی ہیں۔
نیُو شُو کے مطالعے کے اس وقت سب سے بڑے محقق لمنگ ژاؤ نے حال ہی میں اسی موضوع پر بیجینگ کی سِنگوئی یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا ہے۔ ان کے مطابق، نیُو شُو کے کردار میں اب ایک ارتقا ہوا ہے۔
'یانگ ہوان یی' کی موت کے بعد (نیُو شُو) اب عورتوں کے (خفیہ رسم الخط) کے دور سے آگے بڑھ گیا ہے۔ اب یہ ورثے میں نہیں ملتا ہے اور نہ یہ قدرتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اب اسے باقاعدہ سیاحت اور کاروبار کے لیے پڑھا جاتا ہے۔ بلا شبہ یہ بھی ایک طریقے سے اِسے محفوظ کرنے اور ترکے میں دیے جانے کا ایک طریقہ ہے۔'
آج لِمنگ کو یقین ہے کہ نیُو شُو رسمُ الخط عورت کو بااختیار بنانے اور اور اس کی خوبصورتی اور طاقت کی قدر کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
لِمنگ کہتی ہیں کہ '(نیُو شُو) نے اپنا تاریخی مقصد حاصل کر لیا ہے --- نچلے طبقے کی عورتوں کی جنگ کا ایک ثقافتی ہتھیار، جن کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا اور نہ وہ لکھ سکتی تھیں۔ اب وہ صرف خوبصورت کتابت کے نمونے، دانائی اور دلیر روح مستقبل کی نسلوں کے لیے اپنے ترکے میں چھوڑتی ہے۔










