چین اور انڈیا سرحدی تناؤ کو (ابھی کے لیے) کم کرنے پر کیسے آمادہ ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وکاس پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
کئی ماہ تک ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں سرحدی کشیدگی جاری رہنے کے بعد انڈیا اور چین نے یہ حیران کن اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج جھڑپوں میں ملوث نہیں ہوں گی۔
دونوں ممالک کا پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیہ چینی اور انڈین وزرائے خارجہ کی ماسکو میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ یہ اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔
اس ہفتے کے شروع میں چین کے سرکاری اخبار گوبل ٹائمز میں کہا گیا کہ 'چینی فوج بہت تیزی کے ساتھ انڈین فوج کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہے' اور اگر نئی دہلی نے جنگ شروع کی 'تو ان سب کو ختم کر دیا جائے گا۔'
جواب میں انڈیا نے بھی جارحانہ مزاج اختیار کیا اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا 'کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکتے ہیں۔'
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین اور انڈیا کی افواج جو دونوں ملکوں کے درمیان طویل سرحدی علاقے میں اس سال اپریل سے آمنے سامنے کھڑی ہیں ان کے درمیان 15 جون کو لداخ کے خطے علاقے گلوان وادی میں ایک جھڑپ میں انڈیا کے کم از کم 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
ابھی بھی دونوں ملکوں کی جانب سے اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی دستے تعینات ہیں اور گزشہ ستر سال سے حل طلب سرحدی تنازع پر دونوں نے کے متضاد دعوے ہیں جنھیں حل کرنا آسان نظر نہیں آتا۔
حالات میں تبدیلی کیسے رونما ہوئی؟
ایسی سنگین صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہوا کہ دونوں ممالک اتنی جلدی ایک مشترکہ معاہدے پر متفق ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے تھنک ٹینک ولسن سینٹر سے منسلک جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کگلمین کہتے ہیں کہ دونوں ملک ایک دوسرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے لیکن انھیں بہت جلد احساس ہو گیا کہ جنگ، خواہ وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، دونوں کے بھلے کے لیے نہیں ہوگی۔
'جنگ کا مطلب ہوتا کہ دونوں ممالک اور پورے خطے کے لیے بہت تباہ کن صورتحال اور دونوں کو احساس تھا کہ جنگ ہونے کی صورت میں معیشت کو بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔'
یہ بھی ممکن ہے کہ انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ماضی میں انڈیا کی جانب سے چین میں سفیر کی حیثیت سے کام کرنا شاید اس موقع پر سودمند ثابت ہوا ہو کیونکہ وہ چینی سفارت کاروں سے اچھے مراسم رکھتے ہیں۔
مائیکل کگلمین کے مطابق ایس جے شنکر کی موجودگی کی وجہ سے کافی فائدہ ہوا ہوگا کیونکہ ذاتی مراسم سفارتکاری میں بہت کام آتے ہیں۔
اس کشیدگی کم ہونے کی ایک اور وجہ ہو سکتی ہے اس خطے کے نامواقف موسم حالات۔ موسم سرما کے دوران گلوان وادی میں رہنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
انڈین فوج کے سابق لیفٹننٹ جنرل ونود بھاٹیہ کہتے ہیں کہ فوجیں دشوار گزار حالات میں رہنے کی عادی ہوتی ہیں اور اس کے لیے تیار بھی، لیکن دونوں کی ہی کوشش ہوگی کہ ایسا نہ کریں۔
دوسری جانب خبریں ہیں کہ انڈین فوج نے کچھ ایسے مقامات پر قبضہ حاصل کر لیا ہے جس سے وہ چینی چوکیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں، تاہم دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
جنرل بھاٹیہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ انڈیا نے مذاکرات میں اس قبضے کو اپنے فائدے کے طور پر استعمال کیا ہو۔
دونوں ہی ممالک اس وقت مختلف نوعیت کے بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انڈیا میں کورونا وائرس کا مرض انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے وہ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے اور اس کی وجہ سے ان کی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے اور ایسے وقت میں جنگ ان کے لیے بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔
ادھر چین کو الگ چیلینجز درپیش ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ان کے تعلقات کافی خراب ہیں اور ساتھ ساتھ دنیا بھر سے ان کے ہانگ کانگ میں لیے گئے اقدامات کے خلاف مذمت ہو رہی ہے۔
امن کتنی جلدی بحال ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سٹمسن سینٹر میں ڈائریکٹر چائنا پروگرام ین سن کہتی ہیں کہ مشترکہ اعلامیہ تفصیلات سے عاری ہے۔
انھوں کا کہنا ہے کہ اس میں لائن آف ایکچؤل کنٹرول (ایل اے سی) کے بارے میں کچھ بھی نہیں ہے حالانک کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان وہی اصل سرحد ہے۔
'ایل اے سی کے ساتھ کئی ایسے مقامات ہیں جہاں فوجیں تعینات ہیں اور ان کے بارے میں کیا ہوگا، اس پر کچھ وضاحت نہیں ہے۔'
جنرل بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ موجود حالات میں امن آنے میں شاید وقت لگے۔
'وہ بہت بڑا علاقہ ہے اور دونوں افواج کے کمانڈروں کو سمجھوتا کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ابھی وہاں پر تناؤ بہت ہے۔'
ین سن کہتی ہیں کہ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ حالات پہلے کی طرح برقرار رہیں لیکن دونوں کا اس حوالے سے اپنا اپنا موقف ہے۔
'چینی فوج اس علاقے میں کافی آگے تک پہنچ گئی ہیں جسے انڈیا اپنا حصہ کہتا ہے اور اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے کہ آیا وہ اسے خالی کرے گا یا نہیں۔'
لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس وجہ سے سارا معاملہ شروع ہوا تھی، وہی شاید ختم کرنے کی وجہ بن جائے۔
کہا جاتا ہے کہ وہاں پر تعمیر ہونے والی سڑک جو انڈین فوج کے دستوں کو ایک پاکستان کی سرحد سے قریب اور قراقرم پاس سے صرف آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر بنائے گئے فضائی اڈے تک ملانے میں مدد دیتی ہے وہ حالیہ کشیدگی کی بڑی وجہ بنی ہے۔
لیکن ین سن کہتی ہیں کہ شاید صرف سڑک کی تعمیر اس کشیدگی کا باعث نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تعمیر میں 20 سال سے زیادہ کا عرصہ لگا اور وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔
ین سن کے مطابق دیگر کئی وجوہات، جیسے انڈیا کا اپنے زیر انتظام کشمیر اور لداخ کی حیثیت تبدیل کر دینا، اور انڈیا کے امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات بھی اس کشیدگی کے محرکات ہو سکتے ہیں۔
'چین کو ایسا لگا کہ شاید انڈیا کے ساتھ جارحیت دونوں انڈیا اور امریکہ کو ایک تنبیہ کے طور پر اشارہ جائے گا لیکن انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ انڈیا پیچھنے نہیں ہٹے گا۔'
چین اس وقت سفارتی طور پر دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ ایک طرح کی جنگ کی حالت میں ہے اور یہ اس وقت سے ہو رہا ہے جب امریکہ نے اس پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے کورونا وائرس کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں لیے تھے۔
ین سن کہتی ہیں کہ اس وجہ سے انھوں نے جارحانہ مزاج اختیار کیا ہے اور یہی مزاج چینی حکام کے بیانات میں نظر آ رہا ہے۔
چین کی سفارتی پالیسی میں جارحیت ایک اہم عنصر ہے اور یہ حالیہ مہینوں میں زیادہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چین کا سرکاری میڈیا بھی اپنی فوجی طاقت کے بارے میں اکثر و بیشتر یاد دہانی کراتا رہتا ہے۔
جون اور جولائی کے مہینے میں، جب گلوان وادی میں جھڑپ بھی ہوئی تھی، تو اس وقت بھی انڈیا اور چین کے حکام نے احتیاط سے بیانات دیے تھے لیکن گذشتہ کچھ دنوں میں چین کی جانب سے بیانات میں سختی بڑھ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مائیکل کگلمین کہتے ہیں کہ یہ شاید اس لیے ہوا کیونکہ دونوں ملک نہیں چاہتے تھے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں رائیگاں نہ جائیں۔
انڈین وزیر اعظم مودی کے 2014 عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ اور چینی صدر اب تک 18 دفعہ ملاقات کر چکے ہیں۔
'لیکن حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے سب پر پانی پھیر دیا، اور اب دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں ملک اپنے اپنے عوام کو اس مشترکہ اعلامیے کے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔'
ین سن کہتی ہیں کہ چین کو اپنے بیانیے کو بدلنے میں مشکل ہو سکتی ہے 'کیونکہ وہ نہیں چاہیں گے کہ انڈیا کے مقابلے میں وہ کمزور نظر آئیں۔'
اور ظاہر کہ دہائیوں پرانے مسئلے چند دن میں حل نہیں ہو سکتے اور مائیکل کگلمین کہتے ہیں کہ کم از کم یہ اچھا آغاز ہے۔
'مذاکرات کرنا، نہ کرنے سے بہتر ہے، لیکن ہمیں بہت احتیاط سے دیکھنا ہوگا کہ کیا ہو رہا ہے۔'












