آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران دو مشتبہ سابق جوہری مراکز کے معائنے پر رضامند
ایران اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو ان دو مشتبہ سابق جوہری مراکز کا معائنہ کرنے کی اجازت دینے پر رضامند ہو گیا ہے جس سے وہ پہلے انکار کرتا رہا ہے۔
ایران اور آئی اے ای اے کے ایک مشترکہ بیان میں ایران نے کہا ہے کہ وہ ان مراکز کے معائنے کی اجازت خلوص نیت کے تحت دے رہا ہے تاکہ کچھ دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔
یہ معاہدہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے ایران کے دورے کے دوران طے پایا ہے۔
آئی اے ای اے ماضی میں ایران کی طرف سے ان مشتبہ مقامات کے حوالے سے سوالوں کا جواب نہ دینے پر تنقید کرتا رہا ہے۔
آئی اے ای اے کو شبہ ہے کہ یہ دونوں مقامات جوہری مواد کے حوالے سے کارروائیوں کے مراکز رہے ہیں اور ایران اسی لیے جوہری انسپکٹروں کو ان مراکز تک جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ معائنہ کاروں کو ان دو مراکز سے متعلق کیا شک ہے کہ وہاں کیا ہوتا رہا ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں جو کچھ بھی ہوتا رہا ہے وہ سنہ 2000 سے پہلے ہو رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال کیا جاتا ہے کہ ان مراکز میں ہونے والی مشتبہ کارروائیاں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں سے ہونے والے معاہدے سے بہت پہلے ہو رہی تھیں۔