ایران کا تربیتی مشق کے دوران 'ڈمی امریکی بیڑے ' پر میزائلوں سے حملہ

،تصویر کا ذریعہEPA
ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری ایک تربیتی مشق کے دوران ’ڈمی‘ امریکی بحری بیڑے پر میزائلوں سے حملہ کیا جس میں اِتنی بڑی تعداد میں اسلحے کا استعمال ہوا کہ خطے میں موجود دو امریکی بحری بیڑوں کو حکام کی جانب سے چوکنا رہنے کا حکم دینا پڑا۔
امریکی بحریہ نے ایرانی مشق کو ’غیر ذمہ دارانہ رویہ‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ’ڈرانے اور دھمکانے‘ کی کوشش ہے۔
یہ مشق ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری بڑھتی جا رہی ہے۔
ایران کی جانب سے کی گئی اس تربیتی مشق کا نام پیغمبر اسلام کے نام پر ’پیغمبر محمد 14‘ دیا گیا ہے اور اس مشق کی تفصیلات سرکاری طور پر ذرائع ابلاغ پر نشر کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مشقوں میں ایک ایسے بحری بیڑے کو استعمال کیا جا رہا ہے جو امریکی بیڑے جیسا ہے اور اس پر ڈمی جنگی طیارے بھی دکھائے گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے اس بیڑے پر میزائلوں کا حملہ کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہیلی کاپٹر سے کیے گئے ایک میزائل کے ذریعے اس ڈمی بیڑے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ایرانی کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی نے اس مشق پر کہا کہ ’ہم نے آج دکھا دیا ہے کہ ہماری فضائی اور بحری صلاحیت کیا ہے۔‘
امریکی حکام نے کہا کہ انھیں خطے میں بیلسٹک میزائل کے استعمال کا علم ہوا جس پر متحدہ عرب امارات اور قطر میں امریکی افواج کو فوری طور پر چوکس رہنے کا حکم دیا گیا۔











