آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: ’لاک ڈاؤن کے بعد بھی انڈین مسلمان مزدوروں کے لیے زندگی آسان نہیں ہو گی‘
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, صحافی، نئی دہلی
ندیم خان انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں رہتے ہیں اور گذشتہ پندرہ، بیس سال سے سکرین پرنٹنگ کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔
رواں برس مارچ کے مہینے میں انڈیا میں کووِڈ 19 لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد وہ یہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
اب وہ کبھی کبھار رکشہ ٹھیلا چلا کر گزر اوقات کے لیے کچھ پیسے کما لیتے ہیں، البتہ یہ کام کرتے ہوئے وہ ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں انھیں اُن کی مذہبی شناخت کی وجہ سے کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو۔
35 سالہ ندیم خان نے مجھے بتایا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ گذشتہ دنوں ان کے ایک جاننے والے، جو ٹھیلے پر پھل بیچنے کا کام کرتے ہیں، کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک علاقے سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ندیم خان کے مطابق اُس علاقے کے رہائشیوں نے اُن کے جاننے والے پھل فروش سے کہا کہ وہ دوبارہ اس علاقے میں نہ آئیں ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج تک ان کے ساتھ ایسا کچھ تو نہیں ہوا ہے، لیکن جس طرح کی خبریں سننے اور دیکھنے میں آ رہی ہیں ایسے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔
مسلمانوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ اور تشدد کے واقعات
واضح رہے کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران انڈیا کے مختلف حصوں سے لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں کے سماجی و اقتصادی بائیکاٹ اور ان پر تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، انھی واقعات کی بنیاد پر انڈیا میں موجود مسلمانوں کے دل و دماغ میں ایک طرح کا خوف بیٹھ گیا ہے۔
یہ معاملہ زیادہ تر اُن مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے جو مزدور ہیں یا چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔
مئی کے اوائل میں ریاست مدھیہ پردیش کے اندور ضلع کے ایک گاؤں میں مسلمان کاروباری افراد کے حوالے سے ایک تنبیہی پوسٹر لگایا گیا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ’مسلمان کاروباریوں (کاروبار کرنے والوں) کا گاؤں میں داخلہ ممنوع ہے۔‘
اسی طرح کے پوسٹر دلی میں بھی دیکھے گئے تھے۔
اس کے علاوہ اتر پردیش اور دوسری ریاستوں سے بھی اس نوعیت کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ کچھ مقامات پر تو مسلمان سبزی فروشوں کو مجبوراً اپنا نام بدل کر سبزی بیچنا پڑی مگر پھر بھی وہ پکڑے گئے کیونکہ اب ان سے ’آدھار‘ کارڈ (ایک قسم کا شناختی کارڈ) بھی مانگا جانے لگا ہے۔
اس طرح کا ایک واقعہ لکھنئو میں پیش آیا جہاں جاوید نامی ایک مسلمان نے شناخت چھپانے کی غرض سے باامرِ مجبوری اپنا نام سنجے کر لیا۔ تاہم بعد ازاں ان کی اصل شناخت معلوم ہو جانے پر علاقہ مکینوں نے ان پر کافی لعن طعن کی اور فرقہ وارانہ تبصرے کیے۔
سینٹر فار ایکوٹی سٹڈیز (سی ای ایس) کی ایک تازہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق مسلمان مزدوروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ان کو دوبارہ کام پر لوٹنے میں ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ملک میں اس طرح کا ماحول تیار کر دیا گیا ہے کہ اب انھیں ڈر رہتا ہے کہ کام پر لوٹنے میں دشواری ہو گی۔
انڈیا کی نو ریاستوں کے 1045 مزدوروں کے ساتھ کی گئی اس سٹڈی رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ 43 فیصد مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد انھیں ان کی نوکری واپس مل جائے گی۔
مسلمانوں کے علاوہ دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کے مزدوروں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق جہاں ایک طرف مسلمانوں اور ہندو کمیونٹی کے پسماندہ طبقات مثلاً دلت برادری سے تعلق رکھنے والے مزدوروں نے کہا ہے کہ انھیں نہیں پتا کہ کام واپس ملے گا یا نہیں۔
ہندو کمیونٹی کے اشرافیہ طبقات سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ وہ کام پر واپس لوٹ پائیں گے۔
سٹڈی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں کو وبا کے ساتھ ساتھ مذہبی فرقہ واریت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’یہ میڈیا کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کا نتیجہ تھا، جس میں مسلسل کووِڈ پازیٹیو معاملات کو مسلمانوں اور تبلیغی جماعت کے اراکین اور اجتماع سے جوڑ کر دکھایا گیا۔‘
سی ای ایس کے سینیئر محقق سریش گری میلا کا کہنا ہے کہ ’مسلمان مزدوروں کو کام پر واپس جانے میں دو طرح کی باتوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: پہلی تو یہ کہ زیادہ تر مسلمان غیر منظم شعبہ جات سے وابستہ ہیں یا پھر وہ سیلف ایمپلائڈ ہیں اور چونکہ اس وبا کی وجہ سے غیر منظم شعبہ جات پر بُرا اثر پڑا ہے اس لیے مسلمانوں پر اس کا اثر پڑنا لازمی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مسلمان بہت سارے ایسے کاروبار بھی کرتے ہیں جن کے لیے انھیں گھر گھر جانا پڑتا ہے اور کیونکہ مسلمانوں کے خلاف ایک منفی ماحول بنا دیا گیا ہے اس لیے اس کا اثر اس پر ہو گا۔‘
اس سٹڈی رپورٹ سے اس بات کا بھی پتا چلتا ہے کہ ’یوں تو لاک ڈاؤن کے دوران سبھی مذاہب اور ذات کے لوگوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات پر پڑا۔ مشکل سے مشکل حالات میں ہندو کمیونٹی کا اشرافیہ طبقہ مسلمانوں، دلت اور دیگر پسماندہ طبقات سے بہتر حالات میں تھے۔‘
سریش کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کو مدد فراہم نہ کی جاتی تو حالات اور بدتر ہوتے۔ کیونکہ ایک لمبی مدت تک سرکاری امداد ندارد تھی اور جو مدد مل رہی تھی اس سے گزارا کر پانا ناممکن تھا۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے لیے کیا کیا جانا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو فوراً دیہی علاقوں میں معیشت کو مضبوط بنانے کے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے زیادہ تر مزدور اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ چکے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے اس چیز کو یقینی بنایا جائے کہ کسی طرح کی تفریق نہ ہو اور سبھی لوگوں کو برابر کے مواقع فراہم ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں پنچایتی راج (بلدیاتی حکومت) کے ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کی طرح شہری علاقوں میں بھی روزگار گارنٹی کی سکیم شروع کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے دیہی علاقوں میں تمام بالغ شہریوں کے لیے ہر مالی سال میں سو دن کے روزگار کی گارنٹی ہے۔ اس سکیم کو مہاتما گاندھی نیشنل رورل روزگار سکیم (منریگا) کے نام سے جانا جاتا ہے اور ایک لمبے عرصے سے اسی طرح کی سکیم کا مطالبہ شہری علاقوں کے لیے بھی کیا جاتا رہا ہے۔
ملک کے کئی شہروں میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ اب شہروں میں کام کی جس طرح کی قلت ہے ان حالات میں ان کا واپس لوٹنا کسی کام کا نہیں ہے۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے ریسرچ سکالر عادل حسین ان دنوں بہار اور مغربی بنگال کے سرحدی علاقوں میں ’لاک ڈاؤن اور کورونا کے مزدوروں پر ہونے والے اثرات‘ کے موضوع پر ریسرچ کر رہے ہیں۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’زیادہ تر مسلمان اور دلت و پسماندہ طبقات کے مزدور جو اپنی ملازمت سے محروم ہو چکے ہیں اور بہار اور مغربی بنگال کے دیہی علاقوں میں اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں، انھیں شہروں میں ملازمت کی تلاش کے لیے دوبارہ سے کوشش کرنی پڑے گی۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس وبائی مرض کی وجہ سے ایسے نیٹ ورکس اور تعلقات جن کے ذریعے پہلے ان لوگوں کو ملازمت ملتی تھی وہ ٹوٹ چکے ہیں اور کیونکہ مسلمانوں، دلت و دیگر پسماندہ طبقات کے مزدوروں کے پاس اشرافیہ طبقے کی طرح ’سوشل کیپٹل‘ نہیں ہے اس لیے انھیں دوبارہ کام ملنا بہت مشکل ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تبلیغی جماعت کے اجتماع اور کورونا کو جوڑ کر میڈیا اور دائیں بازو کے تبصرہ نگاروں نے مسلمانوں کا جو منفی تشخص بنایا ہے اس کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ملازمت کے مواقع اور بھی کم ہو گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’آنے والے دن انڈیا میں مسلمان مزدوروں اور کاروباری افراد کے لیے مشکل بھرے ثابت ہوں گے۔ غربت مسلمان مزدوروں کو بُری طرح متاثر کرے گی اور وہ بیروزگاروں کی ’ریزرو فورس‘ میں شامل ہونے پر مجبور ہوں گے، جن کا استحصال کوئی بھی بڑی آسانی سے کر سکے گا۔‘
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مسلمانوں کے ساتھ ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر روزگار ملنے میں یا ان کے ساتھ کاروبار کرنے میں تفریق ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ انڈیا کی معیشت اور جمہوریت کو بھی نقصان پہنچے گا۔
سینیئر صحافی اور انڈیا ٹوڈے گروپ کے پالیسی ایڈیٹر پرسنا موہنتی کا کہنا ہے کہ ’مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کسی ملک کے معاشرتی ہم آہنگی اور جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی معیشت کو بھی نقصان پہنچانے کی استعداد رکھتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو مدد پہنچانے کی ضرورت ہے نہ کہ انھیں الگ تھلگ کرنے کی۔‘