انڈیا: ’لڑکا مسلمان ہے، تم اس پر کیس کر دو‘

    • مصنف, شہباز انور
    • عہدہ, بی بی سی کے لیے

انڈین ریاست اتر پردیش کے میرٹھ شہر کا ایک ایسا ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا جس میں پولیس ایک لڑکی کو مسلمان لڑکے کے ساتھ پائے جانے کی وجہ سے کوس رہی ہے اور اس کے ساتھ مار پیٹ کر رہی ہے۔

حراست میں لی جانے والی لڑکی اور اس کا ساتھی دونوں ہی طب کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مبینہ طور پر ایک ہندو تنظیم کے ارکان نے پہلے مارپیٹ کی اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو ایک پولیس اہلکار نے بنائی تھی جس میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو لڑکی کی پٹائی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے۔ اے ڈی جے کو میڈیا سے مخاطب ہونا پڑا اور معاملے کی جانچ کا حکم دیا گیا۔

متاثرہ لڑکی نے بی بی سی کو کیا بتایا

متاثرہ لڑکی نے بی بی سی ہندی کو اپنی آپ بیتی سنائی۔ شالنی (فرضی نام) نے بتایا کہ ’منگل کو ایک ہندو تنظیم (متاثرہ نے ہندو تنظیم کا نام لیا) سے وابستہ لوگ آئے۔ انہوں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔ لڑکے کو باہر نکال کر اس کی بہت پٹائی کی۔ اس کے بعد پولیس آئی۔ میں نے لیڈی کانسٹیبل سے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کچھ نہیں سنا۔ وہ ہم دونوں کو مختلف گاڑیوں میں بٹھا کر لے گئے۔‘

شالنی کے متابق ’میں جس گاڑی میں تھی اس میں جو کانسٹیبل تھے انہوں نے میری ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی لیکن پولیس والوں نے میری کوئی بات نہیں سنی۔ انہوں نے وہ سب کہا جو آپ نے ویڈیو میں سنا۔ اور پھر میری وہ ویڈیو وائرل کر دی۔‘

شالنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس مجھے تھانے لے کر گئی۔ وہاں آریہ سماج سے تعلق رکھنے والی کوئی خاتون آئی ہوئی تھیں۔ انہوں نے مجھے دھمکایا کہ یہ مسلمان لڑکا ہے، تم اس پر کیس کر دو۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ میرے گھر والے مجھے لینے آئے تو ان پر بھی یہی دباؤ بنایا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ مسلمان لڑکے پر کیس کر دیا تو لڑکی کو کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن میرے گھر والوں نے اسے غلط بتاتے ہوئے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

شالنی نے کہا کہ ویڈیو کے وائرل ہو جانے کی وجہ سے انہیں گھر سے باہر نکلنے میں شرم آ رہی ہے۔ اس معاملے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو سسپینڈ کر دیا گیا ہے۔ شالنی کہتی ہیں کہ ’ہندو تنظیم نے اتنی بدتمیزی کی تھی، وہ ایسا آگے نہ کریں۔ مجھے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی ہے۔‘

لڑکے کا کوئی قصور نہیں

شالنی کے ساتھ انہیں کے کالج میں پڑھنے والے سہیل (فرضی نام) کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’لڑکے کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جان بوجھ کر شور مچایا گیا۔ مجھے کسی سے کچھ نہیں کہنا ہے۔ بس اب یہ لوگ ہمیں پریشان نہ کریں۔‘

حفاظت کے بارے میں سوال کیے جانے پر شالنی نے کہا کہ ’حکومت ہمیں سکیورٹی فراہم کرے۔ کوئی ہمیں پریشان نہ کرے۔ ہم پر کوئی بھی الزام نہ لگایا جائے۔ وائرل ویڈیو کو بند کروایا جائے۔ یہ غلط ہے۔‘

شالنی نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ان کی لڑکے سے بات نہیں ہو سکی ہے۔

کہاں ہے سہیل؟

شالنی کے بعد متاثڑ طالب علم کے بھائی بھی میڈیا کے سامنے آئے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے بھائی کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ وہ اس وقت ہسپتال میں بھرتی ہے۔‘

انہوں نے معاملے کی رپورٹ پولیس میں درج کروائی ہے اور انہیں امید ہے کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔

سہیل کے بھائی جب میڈیا کے سامنے آئے تو ان کے چہرے پو خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے اور ہمارے خاندان کا نام یا ہمارے گاؤں کا پتہ نہیں شائع کیجئے گا۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہم پر کوئی اور بڑی پریشانی نہ آ جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس معاملے کی شروعاتی جانچ کے بعد کل چالیس معلوم اور نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کی گئی۔

حملہ آور کس تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اس بارے میں پولیس کی جانب سے ابھی اب تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔