وکاس دوبے: کانپور میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت درجنوں مقدمات میں مطلوب ملزم ’پولیس مقابلے‘ میں ہلاک

وکاس دوبے

،تصویر کا ذریعہANI

انڈیا میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اترپردیش کے شہر کانپور جاتے ہوئے پولیس وین کو پیش آنے والے ایک حادثے کے بعد پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت درجنوں مقدمات میں نامزد ملزم وکاس دوبے نے بھاگنے کی کوشش اور اس دوران وہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔

وکاس دوبے اترپردیش کے شہر کانپور میں آٹھ پولیس اہلکاروں کے قتل کے مرکزی ملزم تھے۔ اس کے علاوہ وہ 60 کے لگ بھگ دیگر سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب نامزد ملزم تھے۔

کانپور کے آئی جی موہت اگروال نے وکاس دوبے کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں چار پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جو کہ اس وقت زیر علاج ہی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اس واقعے پر پریس کانفرنس کرے گی اور اس کی تمام تفصیلات پیش کرے گی۔

دوسری جانب ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ جمعے کی صبح اترپردیش کی پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس وکاس دوبے کو اوجین سے کانپور براستہ سڑک لے جا رہی تھی جب پولیس کی گاڑیوں کے قافلے کو حادثہ پیش آیا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

پولیس کا دعویؤ ہے کہ اس حادثے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وکاس دوبے نے اپنے ساتھ بیٹھے پولیس اہلکار کی پستول اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے اسے گھیر لیا اور ہتھیار پھینکنے کو کہا لیکن اس نے فائرنگ شروع کر دی۔

جواباً پولیس کو بھی فائرنگ کرنی پڑی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ وکاس دوبے کو کتنی گولیاں ماری گئی ہیں۔

پولیس اس واقعے کے بعد وکاس کو علاج کے لیے ہسپتال لے گئی جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

وکاس دوبے

،تصویر کا ذریعہSAMEERAMAJ MISHRA

،تصویر کا کیپشنوکاس دوبے کا تعلق شہر کانپور کے قریب دیکرو گاؤں سے ہے

جمعرات، نو جولائی کو کیا ہوا تھا؟

وکاس دوبے کو جمعرات کو مدھیہ پردیش کے علاقے اوجین سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلٰی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا کہ ریاستی پولیس جلد ہی وکاس دوبے کو اترپردیش پولیس کے حوالے کر دے گی اور اس بارے میں وہ پہلے ہی اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے بات کر چکے ہیں۔

شیوراج سنگھ چوہان نے وکاس دوبے کی گرفتاری پر مدھیہ پردیش پولیس کو مبارکباد بھی دی تھی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل کانپور شہر میں 60 مقدمات میں نامزد اشتہاری ملزم وکاس دوبے کو پکڑنے کے لیے جانے والی پولیس ٹیم پر اندھادھند فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک ڈی ایس پی سمیت آٹھ پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے۔

وکاس دوبے کون تھے؟

وکاس دوبے کا تعلق ریاست اترپردیش کے ضلع کانپور سے تھا اور وہ اپنے علاقے میں مالی اور سیاسی اثرورسوخ کے لیے جانے جاتے تھے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اقتدار میں کوئی بھی سیاسی جماعت ہو ان کے سب سے قریبی تعلق رہا۔ انھوں نے ایک مرتبہ مقامی سطح کا انتخاب بھی جیتا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق وکاس کے والد کسان ہیں۔ وکاس سمیت ان کے تین بیٹے تھے جن میں سے ایک آٹھ سال قبل قتل ہو گیا تھا جبکہ وکاس اب مارے گئے۔

بھائیوں میں وکاس سب سے بڑے تھے جبکہ ان کی اہلیہ ریچا دوبے اس وقت ضلع پنچایت کی رکن ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق وکاس دوبے کے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک انگلینڈ میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے جبکہ دوسرا بیٹا کانپور میں ہی زیرِ تعلیم ہے۔

وکاس نے گاؤں میں ایک قلعہ نما گھر بنا رکھا تھا اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی اس گھر کے اندر داخل نہیں ہو سکتا ہے۔

پولیس اور دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ وکاس نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی دولت غیر قانونی ذرائع سے بنائی ہے۔ بٹھور علاقے میں ان کے بعض سکول اور کالج بھی چلتے ہیں۔

بِکرو گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ نہ صرف ان کے گاؤں میں بلکہ آس پاس کے دیہات میں بھی وکاس دوبے کا دبدبہ تھا۔ گاؤں کی پنچایت اور گاؤں سربراہ کے انتخاب میں وکاس دوبے کی پسند اور ناپسند کافی اہمیت رکھتی تھی۔

وکاس دوبے

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA

،تصویر کا کیپشنوکاس دوبے نے گاؤں میں ایک قلعہ نما گھر بنا رکھا ہے

وکاس کے گاؤں کے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ پندرہ برسوں سے بلامقابلہ ایک ہی پارٹی مقامی انتخابات جیت رہی ہے۔ وکاس دوبے کے کنبے کے لوگ ہی پچھلے پندرہ برسوں سے ضلعی پنچایت ممبر کے انتخاب جیت رہے ہیں۔‘

بِکرو گاؤں کے ایک رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وکاس دوبے کے خلاف تھانے میں جتنے بھی مقدمات درج کیے گئے ہوں اس گاؤں میں کوئی بھی اس کی برائی کرنے والا نہیں ملے گا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی گواہی دے گا۔‘

وکاس اور جرائم کی دنیا

وکاس دوبے کی گرفتاری پر حکومت نے 25000 روپے کا انعام بھی رکھا ہوا تھا۔

مقامی افراد نے بتایا کہ سنہ 2000 کے آس پاس شیولی میں اس دور کے پنچاییت کے صدر للن واجپائی سے جھگڑِ کے بعد وکاس دوبے نے جرم کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔

کانپور کے چوبے پور پولیس سٹیشن میں وکاس دوبے کے خلاف 60 مقدمات درج تھے جن میں غیر قانونی طور پر زمین کی خرید و فروختکے علاوہ قتل اور اقدامِ قتل جیسے بہت سے سنگین مقدمات بھی شامل ہیں۔

کانپور انسپکٹر جنرل آف پولیس موہت اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ جس کیس میں پولیس وکاس دوبے کو پکڑنے گئی تھی وہ بھی قتل سے متعلق ایک معاملہ ہے اور اس میں وکاس دوبے نامزد تھے۔

کانپور کے مقامی صحافی پروین موہتا کا کہنا ہے کہ ’وکاس دوبے پر سنہ 2001 میں تھانے کے اندر بی جے پی کے ایک ریاستی وزیر سنتوش شکلا کے قتل کا الزام لگا تھا۔‘

وکاس دوبے

،تصویر کا ذریعہSAMIRATMAJ MISHRA

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سال 2002 میں جب ریاست میں بہوجن سماج پارٹی کی حکومت تھی اس وقت وکاس دوبے کی توتی بولتی تھی۔

ان کے مطابق ’سنتوش شکلا کا قتل ایک ہائی پروفائل کیس تھا۔ اتنے بڑی واردات کے باوجود وکاس کے خلاف کسی پولیس والے نے گواہی نہیں دی اور نہ ان کے خلاف عدالت میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے جا سکے جس کی وجہ سے انھیں رہا کر دیا گيا تھا۔‘

اس کے علاوہ سنہ 2000 میں کانپور کے شولی تھانہ علاقہ میں واقع تاراچند انٹر کالج کے اسسٹنٹ مینیجر سدھیشور پانڈے کے قتل کے معاملے میں وکاس دوبے کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

پولیس سٹیشن میں درج رپورٹ کے مطابق وکاس دوبے پر سال 2000 میں ایک اہم شخص رام بابو یادو کے قتل کی سازش کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر اس قتل کی سازش وکاس نے جیل میں تیار کی تھی۔

2004 میں ایک تاجر کے قتل کے معاملے میں بھی وکاس دوبے کا نام سامنے آیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان میں سے بہت سے معاملات میں وکاس دوبے جیل گئے لیکن وہ ہمیشہ ضمانت پر رہا ہو جاتے تھے۔

سنہ 2013 میں پھر وکاس کا نام قتل کے ایک مقدمے میں سامنے آیا تھا۔ یہی نہیں 2018 میں وکاس دوبے پر اپنے چچیرے بھائی انوراگ پر قاتلانہ حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس میں انوراگ کی اہلیہ نے وکاس سمیت چار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

پروین موہتا کا کہنا ہے کہ ’وکاس دوبے کا ہر سیاسی جماعت میں اٹھنا بیٹھنا تھا اور یہی وجہ ہے کہ انھیں پکڑا نہیں گیا۔ اگر پکڑا بھی گیا تو وہ کچھ ہی دنوں میں جیل سے باہر آ گئے۔