آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: انڈیا کے 'اتائی' کیسے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں دیہات کو محفوظ رکھ رہے ہیں؟
حال ہی میں انڈیا کے مغربی بنگال کے صوبے میں جب ایک گاؤں کے چند مسلمانوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے نافذ سماجی فاصلوں کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مسجد میں نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو محمد نظام الدین فوراً سامنے آ گئے۔
اچھی بات یہ تھی کہ اس گاؤں کے لوگ محمد نظام الدین پر بھروسہ کرتے تھے۔
وہ اس دبلے پتلے 54 سالہ پڑوسی کو 'ڈاکٹر' کہتے تھے اور کسی بھی مشکل میں علاج معالجے کے لیے انھی کا رخ کرتے تھے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ محمد نظام الدین ڈاکٹر نہیں ہیں۔
وہ مغرب بنگال میں دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ایک لاکھ سے زیادہ ہیلتھ ورکرز میں سے ایک ہیں اور یہ وہ افراد ہوتے ہیں جن کے پاس باضابطہ ڈگری تو نہیں ہوتی لیکن وہ انڈین دیہات میں طبی ایمرجنسی کی صورت میں رابطے کا پہلا ذریعہ ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکثر ان ہیلتھ ورکرز کو 'اتائی' سمجھا اور کہا جاتا ہے، اور یہ عام طور پر 40 کے پیٹے میں مرد حضرات ہوتے ہیں جو اصل ڈاکٹروں کے ساتھ وقت گزار کر تجربہ حاصل کرتے ہیں اور پھر دیہی علاقوں میں اپنے کلینک کھولتے ہیں۔
ان کی تعداد ڈگری یافتہ ڈاکٹروں سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ افراد باقاعدہ آپریشن تو نہیں کر سکتے لیکن مرہم پٹی اور چھوٹے موٹے ٹانکے لگا سکتے ہیں اور وہ مریض جن کا زیادہ طبی امداد کی ضرورت ہو انھیں بڑے ڈاکٹروں تک بھیجنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
انڈیا میں مغربی بنگال سمیت چند ریاستوں نے صحت کے شعبے میں ایسے کام کرنے والے افراد کو باضابطہ تربیت دینے شروع کی ہے۔
بر اعظم افریقہ کے بھی کئی ممالک میں ایسا ہی نظام نافذ ہے جسے وہ لوگ چلاتے ہیں جو بذات خود ڈگری یافتہ ڈاکٹر نہیں ہوتے لیکن انھیں صحت کے حوالے سے اتنی سمجھ بوجھ ہوتی ہے کہ دیہی علاقوں میں وہ صحت کے بنیادی مسائل کے بارے میں مدد کر سکتے ہیں اور ادویات دے سکتے ہیں۔
مغربی بنگال کے بیربھم ضلع میں ناظم الدین نے اپنے پڑوسیوں کو سمجھایا کہ وہ مسجد میں جماعت سے نماز نہ پڑھیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ناظم الدین نے بتایا: 'مجھ پر بہت دباؤ تھا۔ مجھے سمجھانا پڑا کے ایسا کرنا یہاں پر سب کی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن بالآخر انھیں سمجھ آگئی اور پھر کھلی جگہ پر نماز پڑھی۔'
مارچ کے مہینے میں جب انڈیا میں لاک ڈاؤن نافذ ہوا تو اس وقت ناظم الدین نے اپنی پولی کلینک بند کر دی۔ لیکن تین دن بعد ہی انھیں اسے دوبارہ کھولنا پڑا کیونکہ ان کے علاقوں کے ہزاروں لوگ کا تانتا بندھ گیا جو ان سے علاج معالجے کے لیے مشورہ مانگ رہے تھے۔
گاؤں والے عام طور پر ان سے معمولی بیماریاں جیسے پیٹ کا درد، نزلہ زکام اور چھوٹے زخم کا علاج کرانے آتے تھے اور اس غرض سے ناظم الدین نے اپنے پاس معمول میں استعمال کی دوائیاں اور انجیکشن، مرہم پٹی رکھے تھے۔
لیکن آج کل وہ اپنی کلینک پر آنے والے افراد سے سانس کی بیماریوں کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کرتے ہیں۔
اگر کوئی مریض ایسی علامات ظاہر کرے جو کووڈ 19 سے ملتی جلتی ہوں تو ناظم الدین اس کی معلومات ایک سرکاری ایپ میں ڈالتے ہیں جو کہ براہ راست کولکتہ میں محکمہ صحت کے پاس پہنچ جاتی ہے جو کہ ان کے گاؤں سے کوئی دو سو کلو میٹر دور ہے۔
نظام الدین اپنے پاس آنے والے تمام افراد، جن میں سے اکثریت کسان ہیں، کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ ماسک پہنیں اور ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں۔
'مون سون کا مہینہ شروع ہونے والا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ احتیاط کی جائے۔'
ناظم الدین کی طرح ہی ایک اور شخص سبراتا مندل چند میل کے فاصلے پر رہتے ہیں اور ان کی زیر نگرانی آٹھ گاؤں ہیں۔
جب ممبئی سے واپس آنے والے ایک 35 سالہ شخص میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تو سبراتا مندل نے فوراً انھیں قرنطینہ میں کرنے کے انتظامات کیے۔
ان کے ساتھ 70 اور کام کرنے والے افراد تقریباً دو درجن گاؤں گئے اور وہاں پر ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر بانٹے اور لوگوں کو محفوظ رہنے کا طریقہ بتایا۔
ان لوگوں نے کورونا وائرس کے بارے میں معلومات اکھٹا کر کے اسے ریکارڈ کیا اور سپیکر کے ذریعے اسے گاؤں گاؤں اس پیغام کو پہنچایا۔
49 سالہ سبراتا مندل، جنھوں نے پڑھائی چھوڑ کر ایک ڈاکٹر کے ساتھ کام شروع کیا تھا اور 12 سال قبل اپنے کلینک کا آغاز کیا، کہتے ہیں کہ ہم احتیاط کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔
انڈیا اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 1.28 فیصد صحت عامہ پر صرف کرتا ہے جو کہ دنیا میں کم ترین تناسب میں سے ایک ہے۔ اور ناظم الدین اور سبراتا جیسے لوگوں کی کلینک اسی لیے چل رہی ہے کیونکہ دیہاتی علاقوں میں قابل ڈاکٹروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
امریکہ کی جارج ٹاؤن یونی ورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر جشنو داس کہتے ہیں کہ ایسے لوگ دھوکے باز نہیں ہوتے بلکہ اس برادری کے اہم لوگ تصور کیے جاتے ہیں اور لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔
پروفیسر داس اور ان کی ٹیم نے حال میں ایک تحقیق کی جس سے یہ بات سامنے آئی کہ کسی بھی ایک گاؤں میں اپنے کلینک چلانے والے افراد کی تعداد 68 فیصد ہے جن کے پاس کوئی باضابطہ تربیت نہیں ہے لیکن انھوں نے اپنی برادری کے لیے بہت کام کیا ہے اس کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے۔
کچھ ریاستوں میں تو محققین نے لکھا ہے کہ یہ افراد ڈگری یافتہ ڈاکٹرز سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ، جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا میں طب کی تعلیم کا معیار یکساں نہیں ہے۔
پروفیسر داس کہتے ہیں کہ اگر ان جیسے افراد کو حکومتی دھارے میں لا کر عوام کے لیے بنیادی صحت کی ضروریات کی فراہمی کرنے کے لیے استعمال کر لیا جائے تو انڈیا میں پھر کمی نہیں رہے ۔
'اگر ایسا ہو جائے تو انڈیا دیہاتوں میں بنیادی صحت کی فراہمی میں مدد دینے والے افراد کے حوالے سے دنیا بھر میں اول نمبر پر ہو جائے گا۔'
لیکن یہ واضح ہے کہ اگر انھیں مزید تربیت دی جائے تو یہ اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
سنہ 2008 سے کولکتہ میں مقیم نجی ادارہ لیور فاؤنڈیشن ایسے افراد کو تربیت دے رہا ہے اور اب مغربی بنگال کی حکومت نے بھی 30 سے زیادہ تربیتی مراکز قائم کر دیے ہیں۔
اس ادارے کو چلانے والے ابھیجیت چوہدری کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ہی ان جیسے 'اتائیوں' کی وجہ سے ہیں جنھوں نے آج سے 45 برس قبل انھیں سانپ کے ڈس جانے کے بعد میرا علاج کیا اور مجھے زندگی دی۔