آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: انڈیا کے یہ دو سائنسدان کیا کمال کرنے والے ہیں؟
- مصنف, سروج سنگھ
- عہدہ, بی بی سی ہندی
اس ٹیسٹ کٹ کا نام فیلودا ہے۔ فیلودا کے نام سے مشہورانڈین ہدایت کار ستیہ جیت رائے کی فلموں کا وہ کردار یاد آتا ہے جس کا کام جاسوسی کرنا ہے۔ ویسے اسے ٹیسٹ کٹ کا کام بھی کچھ ایسا ہے۔
اس کا کام بھی انسان کے جسم میں کورونا وائرس کی تشخیص کرنا ہے۔ انڈیا کے دو سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے انھوں نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے ایک کٹ تیار کر لی ہے۔ اس نئی ایجاد کو حکومت کی حمایت حاصل ہے اور نامور کمپنی ٹاٹا کے اشتراک سے یہ جلد ہی بازار میں آ جائے گی۔
کورونا فیلودا ٹیسٹ کٹ
کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے متعلق ہر روز نئی خبریں آ رہی ہیں۔ کبھی انڈیا میں کورونا کے ٹیسٹ کی تعداد کو لے کر تنازع کھڑا ہوتا ہے تو کبھی ٹیسٹ کٹ کے دام سے متعلق۔ لیکن اب اگر سب کچھ کامیاب رہا اور انڈیا کے سائنسدان اپنی کوشش میں کامیاب رہے تو واقعی یہ نئی ایجاد تہلکہ مچا دے گی۔
سی ایس آئی آر حکومت کی سائنس اور انڈسٹری کی وزارت کے تحت کام کرتا ہے۔ اس نئی کٹ کو دو سائنسدانوں نے مل کر تیار کیا ہے۔
انڈیا کی حکومت نے اس ٹیسٹ کٹ کی مزید تیاری کے لیے منظوری دے دی ہے اور نامور کمپنی ٹاٹا کے ساتھ مل کر اسے بنانے کی بات بھی ہو گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ایک پریس نوٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ یہ پوری طرح سے انڈین ٹیسٹ کٹ ہے اور جس سے ایک بار میں ایک ٹیسٹ کرنے میں مدد ملے گی.
یہ ٹیسٹنگ کٹ کام کیسے کریں گی؟
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شیکھر مانڈے نے بتایا کہ’یہ پیپر بیسڈ ٹیسٹ ہے جس میں ایک سولوشن لگا ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کے آر این اے کو نکالنے کے بعد اس پیپر پر رکھتے ہیں اور ایک خاص طرح کا بینڈ دیکھنے کو ملتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مریض کو کورونا وائرس ہے یا نہیں۔‘
اس پیپر سٹرپ ٹیسٹ کٹ کو انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انٹیگریٹو بائیولوجی کے دو سائنسدانوں نے تیار کیا ہے۔ دیبجیوتی چکرورتی اور سووک میتی، یہ دونوں مغربی بنگال کے رہنے والے ہیں اور دونوں ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سووک میتی نے بتایا کہ اس سٹرپ پر دو بینڈ ہوں گے۔ پہلا بینڈ ہے کنٹرول بینڈ، اس بینڈ کا رنگ تبدیل ہونے کا مطلب ہو گا کہ سٹرپ کا استعمال صحیح طریقے سے کیا گیا ہے۔
دوسرا بینڈ ہے ٹیسٹ بینڈ، اس بینڈ کا رنگ بدلنے کا مطلب ہو گا کہ مریض میں کورونا وائرس مثبت ہے۔ کوئی بینڈ نہیں دکھائی دے تو مریض کو کورونا نیگیٹو مان لیا جائے گا۔
اس کٹ کا نام فیلودا کیوں؟
خاص بات یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ نہ تو ریپیڈ ٹیسٹ ہے اور نہ ہی آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ ہے۔ یہ ایک تیسرے طریقے کا آر این اے بیسڈ ٹیسٹ ہے۔ ستیہ جیت رائے کی فلموں کے ایک مشہور کردار کی طرح اس کا فیلودا نام دیا گیا۔ حالانکہ یہ نام محض ایک اتفاق ہے کیونکہ اس ٹیسٹ میں کورونا کا پتہ لگانے کے لیے جس تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے اسے ’فنکا ایڈیٹر لنکڈ یونیفارم ڈیٹیکشن اسے‘ کہا جاتا ہے اور یہ فیلودا اسی کی مخفف ہے۔
انڈیا میں سب سے پہلے استعمال
ڈاکٹر شیکھر مانڈے کے مطابق ’دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی اس طرح کی پیپر بیسڈ کٹ پر کام ہوا ہے۔ لیکن ہمارا کام باقی ممالک کے مقابلے تھوڑا مختلف ہے۔ کیونکہ ہم اس ٹیسٹ میں دوسرے اینزائم کا استعمال کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹ میں استعمال میں ہونے والی تکنیک کو سی آر آئی ایس پی آر- سی اے ایس 9- تکنیک کہتے ہیں۔ باقی ممالک اس ٹیسٹ میں سی اے ایس 9 کی سے اے ایس 1 کو سی اے اس 13 کا استعمال کر رہے ہیں۔
’امریکہ کی برکلی یونیورسٹی میں اس طرح کے ٹیسٹ پر کام ہوا ہے لیکن وہ ابھی اس کا استعمال کورونا کی ٹیسٹنگ کے لیے نہیں کر رہے ہیں۔‘
ڈاکٹر مانڈے کے مطابق اس ماہ کے آخر تک انڈیا میں اس کٹ کا استعمال ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا میں استعمال ہونے والے آر ٹی پی سی آر ہی کی طرح اس ٹیسٹ کے نتائج بھی بہت صحیح آرہے ہیں۔
یہ ٹیسٹنگ کٹ کتنے دنوں میں تیار ہوئی؟
انڈیا کے سائنسدان 28 جنوری سے ہی ٹیسٹ کو بنانے میں لگ گئے تھے۔ سووک میتی کے مطابق چار اپریل کے قریب ’ہم نے اسے تیار کر لیا تھا۔ لیکن اس کٹ کو بڑے پیمانے پر بنانے کے لیے ہمیں ایک بڑی کمپنی کے اشتراک کی ضرورت تھی۔ پھر اس کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے اور باقی کاغذی کارروائی ہوئی جس کے میں ایک ماہ کا وقت لگا۔
رپیڈ ٹیسٹ کٹ سے یہ کٹ کتنی بہتر؟
لیکن کیا اس پیپر ٹیسٹ کٹ کے بعد ریپیڈ ٹیسٹ کٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی؟ اس بارے میں ڈاکٹر مانڈے کہتے ہیں کہ’یہ ٹیسٹ کٹ کسی سے بہتر یا خراب نہیں ہوتی ہے۔ دراصل آر ٹی پی سی آر کرنے میں تھوڑا زیادہ وقت لگتا ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہے۔ پیپر کٹ میں وقت بھی کم لگتا ہے اور قیمت بھی کافی کم ہو گی۔‘
اس کٹ کے ذریعے کئے گئے ٹیسٹ کا نتیجہ آنے میں ایک سے دو گھنٹے کا وقت لگے گا۔ اس کی قیمت کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر مانڈے کا کہنا تھا کہ اگر کٹ بڑے پیمانے پر بنی تو ایک ٹیسٹ کی قیمت 300 سے 500 روپے کے درمیان ہو گی.
حکومت کا کہنا ہے کہ انڈیا آئندہ دو ماہ میں روزانہ پانچ لاکھ ٹیسٹ کر پائے گا۔
انڈیا میں فی الحال آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ ہی ہو رہے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نتیجہ چھ گھنٹے میں آجائے گا لیکن جن کا ٹیسٹ ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ انھیں دو دن کا انتظار کرنا پڑا تھا.
کیا اس کی بدولت اب گھر گھر ٹیسٹ ہونگیں؟
اس سوال کے جواب میں سووک میتی کہتے ہیں کہ ’ایسا نہیں ہے۔ پہلے تو آپ بیماری کو سمجھیں۔ یہ وائرس سے پھیلتا ہے۔ اس لیے اس میں بیماری کے نمونے لینے کے عمل میں بہت احتیاط برتنی پڑے گی۔ پھر نمونے سے آر این اے نکالنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ یہ ٹیسٹ لیب میں ہی ہو سکتا ہے اور اس کے لیے مخصوص مشینوں کا استعمال ہوتا ہے اس لیے اسے طبی عملہ ہی کرسکتا ہے . `
ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیسٹ کے لیے بھی ناک اور منھ سے سیواب لیا جائے گا جسے بغیر ٹرانسپورٹ میٹریل پر جمع کیا جائے گا جس کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں نیا وائرس پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ٹیسٹ ملک کی کسی بھی پیتھولوجی لیب میں کیا جا سکتا ہے۔