طالبان کا القاعدہ کے ساتھ رابطوں سے انکار، سکیورٹی کونسل کی رپورٹ رد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
افغان طالبان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ کو رد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے باوجود طالبان کے اب بھی القاعدہ کے ساتھ رابطے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سنہ 2019 اور 2020 کے اوائل تک طالبان کے القاعدہ کے ساتھ نہ صرف رابطے تھے بلکہ اُن کا نیٹ ورک طالبان کی مدد سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں مزید مضبوط ہو رہا تھا۔
یہ رپورٹ سکیورٹی کونسل کے مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے 27 مئی کو جاری کی گئی ہے تاہم پیر کی شب یہ رپورٹ منظرعام پر آئی تھی۔ افغان طالبان نے منگل کو اس رپورٹ کے ردعمل میں کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ میں اُن پر لگائے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر من و عن عمل درآمد کر رہے ہیں۔
ترجمان نے سکیورٹی کونسل کے رپورٹ میں طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد دھڑے بندی کو بھی رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے تمام جنگجو اپنی لیڈرشپ کے ہر حکم کے پابند ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رواں سال فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ القاعدہ سمیت کوئی بھی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کرے گی اور طالبان القاعدہ سمیت کسی بھی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کے ساتھ رابطے نہیں رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAfghan government handout
سکیورٹی کونسل کی جانب سے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے اہم رہنماؤں سمیت مختلف بین الاقوامی شدت پسند تنظیموں کے جنگجو افغانستان میں ابھی تک ہیں اور اُن کے طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے ہیں۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات کے دوران بھی مسلسل رابطوں میں تھے اور حقانی نیٹ ورک القاعدہ کو ان مذاکرات سے متعلق آگاہ کرتا رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’طالبان مذاکرات کے دوران القاعدہ کو یہ باور کراتے رہے کہ اُن کے (القاعدہ اور طالبان) تاریخی تعلقات کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچے گی۔‘
رپورٹ میں رواں سال امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر طالبان کی جانب سے مکمل عمل درآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات سے ایسا لگ رہا ہے کہ اس امن معاہدے کے نتیجے میں اہداف کا حصول مشکل نظر آرہا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اگرچہ طالبان نے ابھی تک موسم بہار کے کاروائیوں کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے تاہم معلومات کے مطابق اُن کے جنجگو کمانڈروں نے اس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ رپورٹ ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ تاحال جاری ہے، جس کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے۔
اس رپورت کے مطابق طالبان لیڈرشپ نے اپنے جنگجوؤں کے ساتھ امریکہ طالبان معاہدے کے بارے میں تمام تر معلومات شئیر نہیں کی ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ رابطہ نہ رکھنے کے بارے میں بھی اُنہیں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ طالبان کی لیڈرشپ اور جنگجو کمانڈروں میں بھی امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر اختلافات موجود ہیں اور بعض نئی دھڑے اُبھر آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق اس وقت افغانستان میں طالبان کی تعداد 55 ہزار سے 85 ہزار کے درمیان ہے، جبکہ القاعدہ کے چار سو سے چھ سو کے درمیان فائٹرز افغانستان میں موجود ہیں اور ساڑھے چھ ہزار پاکستانی جنگجوؤں سمیت کئی دیگر بین الاقوامی شدت پسند افغانستان میں تاحال محفوظ ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیں۔
سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری کے دوران طالبان کے پاس افغانستان کے مختلف صوبوں میں اکیس اضلاع کا کنٹرول تھا۔
سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اس بیان سے پہلے افغان حکام نے بھی طالبان پر الزام لگایا تھا کہ اُن کی القاعدہ کے ساتھ ابھی تک رابطے ہیں۔











