آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا افغان طالبان کی صفوں میں ہزارہ شیعہ رہنما کی ’شمولیت‘ ماضی کی پالیسی میں تبدیلی ہے؟
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغان طالبان نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شیعہ کمانڈر کا انٹرویو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ پہلی بار ہے کہ طالبان نے کسی شیعہ رہنما کو تنظیم میں شامل کیا اور کیا طالبان اپنی ماضی کی پالیسیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں؟
افغان طالبان کی ویب سائٹ پر ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شیعہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کا ویڈیو انٹرویو شائع کیا گیا ہے جس میں انھوں نے ہزارہ برادری سے کہا ہے کہ جیسے وہ ’سوویت یونین کے خلاف اپنے سنی بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے اسی طرح اب افغانستان پر حملہ آوروں کے خلاف بھی طالبان کا ساتھ دیں۔‘
ویڈیو انٹرویو میں مولوی مہدی نے ہزارہ کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'کیا آپ سوویت یونین کے خلاف سنی بھائیوں کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود نہیں تھے، تو اب طالبان کے ساتھ ملک میں ان حملہ آوروں کے خلاف کیوں ساتھ نہیں دیتے۔'
یہ بھی پڑھیے
اس بارے میں افغانستان میں طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تعیناتی اب نہیں کی گئی بلکہ مولوی مہدی مجاہد ان کے ساتھ ’جہاد‘ میں ایک عرصے سے شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ وہ کافی عرصے سے صوبہ سرپل میں بلخاب ضلع کے سربراہ تعینات ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کا یہ انٹرویو اب پہلی مرتبہ ان کی ویب سائٹ پر شائع ہوا ہے۔
واضح رہے افغان طالبان خالصتاً ایک سنی تنظیم کے طور پر 1990 کی دہائی میں ابھر کر سامنے آئی تھی اور اس دوران ہزارہ برادری کے لوگوں پر متعدد حملے کیے گئے تھے۔
ایک طویل عرصے تک افغان طالبان نے افغانستان میں شیعہ اقلیتی ہزارہ برادری پر متعدد حملے کیے لیکن اب بظاہر پہلی مرتبہ ایسے طالبان کمانڈر کا انٹرویو سامنے آیا ہے جو ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
اگرچہ طالبان اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مولوی مہدی مجاہد کافی عرصے سے ان کے ساتھ ہیں لیکن دنیا کے سامنے ان کا چہرہ پہلی مرتبہ آیا ہے۔
مولوی مہدی مجاہد کون ہیں؟
افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق مولوی مہدی مجاہد افغان اہلکاروں پر متعدد حملوں میں ملوث رہے ہیں اور کئی سال تک وہ جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔
مولوی مہدی ماضی میں حزب وحدت کے رکن رہ چکے ہیں۔ انھیں سنہ 2018 میں رہا کیا گیا تو اس وقت افغانستان میں شیعہ کمیونٹی کی جماعت حزب وحدت کے رہنما محمد محقق نے مولوی مہدی کو بلخاب میں اپنا نائب تعینات کردیا تھا۔
مولوی مہدی ایک وار لارڈ کے طور پر وہاں رہے لیکن جلد وہاں مقامی لوگ ’ان سے تنگ آ گئے‘ اور وہ وہاں سے سنہ 2019 میں چلے گئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ اب کچھ عرصہ پہلے انھیں اس علاقے میں دوبارہ لایا گیا ہے۔
مولوی مہدی مجاہد نے ویڈیو میں کیا کہا؟
طالبان کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا انٹرویو تقریباً 23 منٹ کا ہے جس میں مولوی مہدی دری زبان میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے طالبان کی حمایت کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حمایت کرنے کا ’ایک مقصد تو اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے اور دوسرا ان بیرونی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے جنھوں نے افغانستان پر حملہ کیا ہے‘۔
اس انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ طالبان اہل تشیع کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان سب کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک سب اقوام برابر حیثیت رکھتی ہیں‘۔
مولوی مہدی مجاہد نے کہا کہ ’بیرونی ممالک افغانستان میں افغانوں کی بہتری کے لیے نہیں آئے بلکہ ان کا مقصد افغانستان کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ ہیں۔‘
طالبان اور ہزارہ برادری
امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں طے معاہدے کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایک کانفرنس ہوگی جس میں افغانستان میں قومی حکومت کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔
اس وقت اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک ڈیڈ لاک کی سی صورتحال ہے تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ اندرون خانہ دوسرے مرحلے یعنی بین الافغان کانفرنس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
افغان طالبان کے ذرائع کے مطابق طالبان نے افغان حکومت کے علاوہ باقی تمام افغان دھڑوں سے رابطے کیے ہیں اور ’اچھے ماحول میں ان کے ساتھ بات چیت بھی ہوئی ہے‘۔
افغانستان میں کس دھڑے یا گروہ کی کتنی نمائندگی ہے یہ واضح نہیں ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں ہزارہ برادری کی نمائندگی 15 تقریباً فیصد ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان چاہتے ہیں کہ انھیں ہزارہ برادری کی حمایت حاصل ہو تاکہ وہ عالمی سطح پر یہ ظاہر کر سکیں کہ افغانستان میں وہ ایک بڑے حصے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
تاہم افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے اب دیگر قومیتوں یا گروہوں سے لوگ شامل کیے ہیں بلکہ ہر کمیونٹی اور ہر قبیلے سے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ازبک، تاجک اور ہزارہ برادری کے لوگ شامل ہیں اور ان قوموں سے ان کے کمانڈر اور مجاہدین موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان کے 34 صوبے ہیں اور اس میں مختلف قومیں آباد ہیں اور ہر صوبے میں طالبان کے لوگ موجود ہیں اور وہ طالبان کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسی بات نہیں ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد انھوں نے دیگر قوموں سے لوگ اپنے ساتھ لیے ہیں بلکہ وہ افغانستان میں رہنے والی تمام قوموں اور قبیلوں کے ساتھ ہیں۔
تجزیہ نگاروں کی رائے
افغان امور کے ماہر سابق سفارتکار رستم شاہ مہمند نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان ہمیشہ سے دیگر گروہوں سے رابطے میں رہے ہیں وہ چاہے ہزارہ ہوں، تاجک، ازبک یا ترکمان ہوں، اس لیے اب افغانستان میں قومی حکومت کے قیام کے لیے ان گروہوں کی بھی ضرورت ہو گی۔‘
انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 سے 2001 تک جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی تو اس وقت بھی یہ دیگر گروہ ان کی حکومت میں ان کے ساتھ تھے۔
رستم شاہ مہمند نے بتایا کہ اب چونکہ افغانستان میں بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کی کوششیں ہو رہی ہیں اس کے لیے ’ایک مقررہ وقت تک قومی حکومت ہوگی اور اس میں تمام گروہوں کو نمائندگی دی جائے گی کیونکہ عالمی سطح پر امریکہ، چین اور روس سمیت تمام ممالک یہ جانتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے بغیر امن کا قیام مشکل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ عالمی سطح پر یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان ہی داعش اور القاعدہ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ملک میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہونے کا امکان بھی اسی صورت میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے خود کرنا ہے اور اس میں کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت نقصان دہ ہو گی۔ اس لیے افغانستان میں تمام دھڑوں کو متحد ہو کر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔‘
رستم شاہ مہمند نے کہا کہ طالبان کی پالیسیوں میں تبدیلی آئی ہے اورانھوں نے اب باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت آئی تو خواتین کو کاروبار، ملازمت اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی اور اس کے علاوہ وہ دیگر تمام دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔
افغان تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی قیادت تمام سنی قائدین پر مشتمل ہے لیکن افغانستان کے شمالی علاقوں میں ’برائے نام تاجک قائدین بھی موجود ہیں اور اب برائے نام شیعہ قائدین کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں طالبان نے افغانستان میں ازبک اور تاجک کمیونٹی سے بھی کچھ لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے اور اس کا مقصد ان علاقوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جہاں اب تک طالبان کی نمائندگی نہیں ہے۔