قطر: امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے سے قبل امیدیں بھی، کھچاؤ اور خدشات بھی

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دوحہ

امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے سے ایک روز پہلے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک جانب امن کی امیدیں پروان چڑھتی نظر آییں تو دوسری جانب افغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان کھچاؤ کی جھلک سے خدشات کے سائے بھی منڈلاتے رہے۔

سنیچر کے روز معاہدے پر دستخط کے بعد کچھ حد تک وضاحت ہو سکے گی لیکن مبصرین کے مطابق اصل مرحلہ تو ان مذاکرات میں طے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا ہوگا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’پاکستان نے ان مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان کے بغیر یہ دن ممکن ہی نہیں تھا اور پاکستان کے کردار کو آج دنیا سراہ رہی ہے اور دنیا یہ اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان اب امن کے قیام میں گلوبل پارٹنر ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا ’افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانستان کی عوام نے کرنا ہے کہ وہ کس قسم کا افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس معاہدے کے بعد افغانستان میں مذاکرات کا آغاز ہو اور مل بیٹھ کر افغانستان کے مسائل کو سلجھائیں۔

دوحہ میں حکام کے مطابق دنیا بھرسے لگ بھگ ڈھائی سو صحافی اس تاریخی معاہدے پر دستخط کی کوریج کے لیے پہنچے ہیں۔

افغان ذرائع نے بتایا کہ دو درجن سے زیادہ ممالک کے سفیر بھی یہاں دوحہ میں موجود ہیں جو جمعے کو ایک اجلاس میں شریک ہوئے اور سنیچر کی تقریب کے لیے بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا گیا ہے۔

دوحہ میں صحافیوں کی کوشش رہی ہے کہ افغان طالبان کے رہنماؤں سے رابطہ کیا جائے اور ان کا موقف سامنے لایا جائے لیکن افغان طالبان یا تو خاموش رہے اور یا سب خیر ہی کی باتیں کرتے رہے۔

جمعے کی شام کے وقت اچانک افغان طالبان کے اہم رہنما ملا عبدالغنی برادر اور ان کے ساتھ انس حقانی سمیت چند ایک رہنما اس ہوٹل میں پہنچے جہاں انھوں نے کچھ وقت گزارا اور پھر واپس روانہ ہو گئے۔

جمعہ کو افغان حکومت کا ایک چھ رکنی وفد بھی دوحہ کے اس ہوٹل میں موجود تھا۔ اس وفد میں ایک خاتون اور افغان حکومت کے جونیئر وزرا سمیت ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار شامل تھا۔

اس وفد سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ کسی وقت تفصیل سے بیٹھ کر بات چیت کریں گے اب یہاں چلتے چلتے کیا بات کر سکتے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ افغان حکومت کا وفد امریکہ کے کہنے پر قطر پہنچا ہے اور اس وفد کے آنے کا مقصد دونوں جانب سے گرفتار قیدیوں کی رہائی پر عملدرآمد کرانا ہے۔

طالبان ذرائع نے افغان حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات کی تردید کرتے رہے اور ان کا یہی کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین چند روز سے کسی بھی صحافی کو ٹیلیفون پر جواب نہیں دے رہے تاہم طالبان رہنماؤں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سب اچھا ہوگا اور سب اچھا ہو رہا ہے۔

دوحہ کے بڑے ہوٹل میں افغان امن معاہدے کے حوالے سے سرگرمیاں عروج پر رہیں جہاں سنیچر کو مقامی سطح پربعد دوپہر امریکہ اور طالبان کے رہنما اس امن معاہدے پر دستخط کریں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی دوحہ میں پاکستان سفارتخانے کی نئی عمارت کے افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے جہاں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکہ طالبان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔