انڈیا کی سب سے مشہور اور مہنگی ’دارجلنگ‘ چائے کو کورونا سے کیا خطرہ ہے؟

کورونا وائرس کی وجہ سے انڈیا میں ملکی سطح پر جاری لاک ڈاؤن نے دنیا بھر میں مشہور دارجلنگ چائے کی ہریالی کو ماند کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے پہلے فلش یعنی بارش کے بعد پہلی کھیپ کو بہت نقصان ہوا ہے۔

اس پہاڑی علاقے کے باغات میں بہترین چائے پہلی بارش کے دوران چنی گئی پتیوں سے تیار کی جاتی ہے اور اس عام طور پر بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں اب دوسرے فلش پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس صنعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

انڈیا کی مرکزی حکومت نے کم مزدوروں کے ساتھ چائے کے باغات میں کام کرنے کی اجازت دی تھی جبکہ چائے کے باغات مالکان کی درخواست پر ریاستی حکومت نے محض 15 فیصد مزدوروں کے ساتھ باغات کو کھولنے کی اجازت دی ہے۔

لیکن اب تک جو نقصان ہوا ہے اس سے انڈیا کی چائے کے لیے عالمی منڈی کے بھی ہاتھ سے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

دارجلنگ کے پہاڑی علاقے، نشیبی علاقے اور اس سے ملحقہ دوارس کے میدانی علاقوں میں چھوٹے اور بڑے 353 کے باغات ہیں جن میں ساڑھے تین لاکھ مستقل اور غیر مستقل مزدور کام کرتے ہیں جنھیں یومیہ 176 روپے اجرت کے علاوہ ہفتہ وار راشن بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن اس لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ نقصان پہاڑی خطے کے باغات کو ہوا ہے۔

اس کی وجہ سے پہلے فلش میں سبز پتوں کو توڑنے کے کام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس پہاڑی خطے کے باغات میں بہترین اور سب سے مہنگی چائے اسی موسم کے دوران چنی گئی پتیوں سے تیار کی جاتی ہے اس کا تقریباً تمام حصہ بیرون ملک برآمد کر دیا جاتا ہے۔ اب دوسرے فلش کو بھی خطرہ لاحق ہے کیونکہ اگر 15 اپریل کو لاک ڈاؤن ختم ہوتا ہے تو بھی چائے کی پتیوں کو تیار ہونے میں دو سے چار ہفتوں کا وقت لگے گا۔

مرکزی حکومت نے ان باغات میں 50 فیصد ملازمین کے ساتھ کام شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن ریاستی حکومت نے پہلے بھی اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ مزدوروں میں بھی کرونا وائرس کی زد میں آنے کا خوف ہے۔ جمعرات کے روز چائے کی صنعت کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مشروط اجازت دی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا: 'چائے کے پودے لگانے والوں کا کہنا ہے کہ اگر سبز پتوں کا انتخاب نہیں کیا گیا تو وہ کچھ ہی دنوں میں بیکار ہوجائیں گے۔ لہذا حکومت نے 15 فیصد کارکنوں کے ساتھ باغات میں کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن وہاں تمام طرح کے حفاظتی اقدامات کو اپنانا ہو گا۔'

پہاڑی خطے میں چائے کے باغات کی تنظیم دارجیلنگ ٹی ایسوسی ایشن (ڈی ٹی اے) کے صدر بنود موہن نے کہا؛ 'ہم ریاستی حکومت کی ہدایت پر عمل کریں گے۔ مزدوروں اور ان کی حفاظت ہماری پہلی ترجیح ہے۔'

ڈی ٹی اے کے سابق صدر اشوک لوہیا کہتے ہیں کہ 'پہلی فلش چائے کا تقریباً 100 سو فیصد برآمد کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی چائے کی پیداوار میں ہونے والے نقصانات باغات کی سالانہ آمدنی کو بری طرح متاثر کرے گا۔‘

دارجلنگ کے پہاڑی علاقے کے 87 باغات میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ کلو چائے تیار ہوتی ہے۔ اس کی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ پہلی بارش کے دوران ہوتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے فلش میں کل پیداوار کا 15 فیصد حصہ ہوتا ہے۔ ملک میں چائے کی مجموعی پیداوار میں دارجلنگ چائے کا حصہ بھلے ہی بہت کم ہو سکتا ہے لیکن پوری دنیا میں اس چائے کی بہت قدر و منزلت اور بہت زیادہ مانگ ہے۔ یوروپی یونین نے اسے سنہ 2011 جی آئی درجہ دیا تھا۔

ڈی ٹی اے صدر بنوود موہن کہتے ہیں کہ 'سب سے بہترین اور قیمتی چائے پہلی بارش میں تیار ہوتی ہے۔ لیکن یہ فصل لاک ڈاؤن کی وجہ سے مکمل طور پر برباد ہو گئی ہے۔ لاک ڈاؤن سے پہلے صرف دو سو کلو گرام چائے تیار کی گئی تھی۔'

ان کا کہنا ہے کہ اپریل میں لاک ڈاؤن کے اختتام تک اس صنعت کو شدید نقصان ہو چکا ہو گا۔ یہاں تک کہ اگر 15 اپریل کو لاک ڈاؤن ختم ہو جاتا ہے تو بھی پودوں کے بڑھ جانے کی وجہ سے ان کے پتے سے بہتر معیار کی چائے تیار نہیں کی جا سکتی ہے۔

پیداوار کم ہو جانے کی وجہ سے باغات کے مالکوں کے سامنے مزدوروں کو نقد اجرت دینے کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ڈی ٹی اے نے حکومت سے اس معاملے میں تعاون کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس سے قبل چائے کے پودے لگانے والوں کے اہم ادارے پلانٹس ایسوسی ایشنز کی مشاورتی کمیٹی (سی سی پی اے) نے مرکزی حکومت سے صنعت کو اس بحران سے نکالنے کے لیے مالی پیکیج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’موجودہ حالت میں اس صنعت سے منسلک تقریباً 12 لاکھ مزدوروں کا معاش خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس کے علاوہ چائے کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے عالمی منڈیوں کا ہاتھ سے نکلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔‘

تنظیم کا اندازہ ہے کہ کورونا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس صنعت کو کم از کم چودہ سو کروڑ انڈین روپے کا مالی خسارہ ہو گا۔

سی سی پی اے کے صدر وویک گوئنکا نے حال ہی میں مرکزی وزیر تجارت کے نام اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ 'چائے کے مزدوروں کو تنخواہ دینے کے لیے اس صنعت کو حکومتی مدد کی ضرورت ہے۔'

کمیٹی نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ہر مزدور کے بینک اکاؤنٹ میں تین ماہ تک ہر ہفتے ایک ہزار روپے جمع کرے۔

سی سی پی اے کا کہنا ہے کہ چائے کی صنعت دیگر صنعتوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ کل لاگت کا 60 سے 65 فیصد مزدوروں کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران محصولات میں جمود کی وجہ سے چائے کے باغات کی انتظامیہ مزدوروں کو تنخواہ نہیں دے پا رہی ہے۔ ایک ماہ کے لاک ڈاؤن کے دوران کام کیے بغیر مزدوروں کی ادائیگی سے کل لاگت میں چھ فیصد اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ فروخت میں بھی پندرہ فیصد کمی ہو گی۔

دارجلنگ ٹی ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ’عالمی منڈیوں میں انڈیا کی چائے کو سری لنکا اور کینیا جیسے ممالک کی چائے کے ساتھ سخت مقابلہ رہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر دوسری فلش میں بھی چائے کی پیداوار نہ ہو تو بہت سارے بازار کے ہاتھ سے نکل جانے کا ایک سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔‘

پہاڑی خطے میں چائے کے پودے لگانے والوں کا کہنا ہے کہ اس خطے میں چائے کی صنعت کو سنہ 2017 میں گورکھا لینڈ کے مطالبے کی تحریک سے 104 دن کے بند رہنا پڑا تھا اور یہ اب تک اس نقصان سے باہر نہیں آ سکی ہے۔

اب موجودہ لاک ڈاؤن سے اس کی کمر توٹ جائے گی۔ اس وقت عالمی منڈیوں میں بہت سارے خریداروں نے دارجلنگ چائے کو اپنی فہرست سے خارج کردیا تھا اور اب یہ دوسرا صدمہ اس صنعت کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔