آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#coronavirus: چین میں انفیکشن پھیلنے سے انڈیا کے ایک گاؤں میں معاشی حالات متاثر کیوں؟
- مصنف, امیتابھ بھٹاسالی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، کولکتہ
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں مدنا پور ضلع کا بھگوان پور گاؤں چین کے شہر ووہان سے تقریباً 2799 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ووہان وہی جگہ ہے جہاں سے کورونا وائرس کا انفیکشن پھیلنا شروع ہوا تھا۔
ووہان سے اتنے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھگوان پور کورونا وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہے۔ اس علاقے میں رہنے والے پوتول بیرا اور ریٹا میتھی جیسے سیکڑوں افراد کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی بحران کا شکار ہیں۔
یہ لوگ انسانی بالوں سے وِگ بناتے ہیں۔ وہ ایک ماہ میں تقریباً 50 ٹن وِگز تیار کرتے تھے جسے چین بھیجا جاتا تھا لیکن گذشتہ دو ہفتوں سے یہ سلسلہ رُک گیا ہے۔
اس کاروبار سے اپنا گھر چلانے والی ریٹا میتھی نے کہا: ’ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کسی وائرس کا حملہ ہو گا۔ ہم نے ہزاروں روپے کے بال خرید لیے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریٹا کی ہمسایہ پوتول بیرا اور ان کے شوہر 40 ہزار روپے کے انسانی بال خرید کر خسارے میں ہیں۔ وہ بڑے تاجروں اور برآمد کرنے والوں سے ہزاروں روپے کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔
پوتول کہتی ہیں: ’وہ لوگ چین میں سامان فروخت نہیں کر پا رہے۔ اسی وجہ سے ہم بقایا رقم ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔‘
اس علاقے کے سیکڑوں ایجنٹوں نے انسانی بال اکٹھے کر رکھے ہیں۔ بالوں کو کنگھی کرتے وقت جو بال کنگھی میں پھنس جاتے ہیں انھیں وہ ان ایجنٹوں کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں فروخت کر دیتے ہیں۔
پنجاب اور کشمیر کے مرد اور خواتین کے بال اپنی لمبائی کی وجہ سے بہترین سمجھے جاتے ہیں اور قابل قدر ہیں۔
بھگوان پور، چنڈی پور اور آس پاس کے علاقوں میں ٹرک سے، ٹرینوں سے اور حتیٰ کہ ایئر کارگو سے بوریوں میں بھر کر انسانی بال لائے جاتے ہیں۔
بالوں کے ان گچھوں کو سلجھا کر دھویا جاتا ہے۔ پھر خشک کر کے چھ سے 26 انچ کے مختلف سائز میں کاٹا جاتا ہے اور پھر ان کے بنڈل بنا کر انھیں چین بھیج دیا جاتا ہے۔
بالوں کا یہ کام فیکٹریوں سے لے کر گھروں میں ہوتا ہے لیکن اب روزگار کا یہ سارا کام رُک گیا ہے۔
بالوں کو برآمد کرنے والے ایک بڑے تاجر شیخ حسیب الرحمن کا کہنا ہے ’کورونا وائرس کی وجہ سے چین کے ساتھ میرے تمام کاروباری کام ٹھپ ہو گئے ہیں۔ چینی خریدار یہاں آنے سے قاصر ہیں اور ہم تیار مصنوعات بھی برآمد نہیں کر سکتے۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ یہاں 80 فیصد سے زیادہ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔
ان کی فیکٹری کا ہال اب خالی ہے، جہاں کچھ ہفتے قبل تک تقریبا 25 سے 30 افراد روزانہ کام کیا کرتے تھے۔
چینی خریدار سال بھر یہاں آتے رہتے ہیں۔ جبکہ رواں سال تمام چینی نیا سال منانے کے لیے چین چلے گئے تھے جس کے بعد وہ اب تک واپس نہیں لوٹ سکے۔
گنیش پٹنائک بالوں کے ایک چھوٹے تاجر ہیں جو پوتول اور ریٹا جیسی گھر چلانے والی خواتین کو انسانی بال فراہم کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’مجھے دو ہفتوں سے کوئی ادائیگی نہیں ہوئی۔ مجھے اس مہینے کی 20 تاریخ تک بقایا رقم کی ادائیگی کا یقین دلایا جارہا ہے لیکن مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر بالوں کی یہ تجارت مکمل طور پر بند ہو جائے تو مجھے نہیں معلوم کہ میں اور کیا کروں گا۔‘
بالوں کی تجارت اس خطے کی معیشت کی بنیاد ہے۔ اس کی اچانک بندش دوسروں کو بھی متاثر کررہی ہے۔
بھگوان پور بس سٹینڈ پر شیخ سکندر تمباکو بیچتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’میری چھوٹی سی دکان ہے۔ لیکن پھر بھی میں کورونا وائرس سے متاثر ہوں۔ میرے کاروبار میں بھی کمی آئی ہے۔ اگر بالوں کا کاروبار متاثر ہوتا ہے تو باقی تمام دکانداروں پر اس کا اثر پڑے گا۔‘
پرجوول میتی اسے زیادہ بہتر ڈھنگ سے بتاتے ہیں۔ میتی ایک قومی بینک میں پیسہ جمع کرانے کے کاؤنٹر پر کام کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’اس سے پہلے میرے کاؤنٹر سے روزانہ 10 لاکھ روپے کا لین دین ہوتا تھا لیکن کورونا وائرس کے بعد سے اس میں تیزی سے تقریباً 90 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔‘
ایک مقامی ڈاکٹر انوپم سرکار کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی مالی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ لوگ ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
لوگ پریشان ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ جلد ہی صورتحال بہتر ہو گی۔
ادھیڑ عمر خاتون رینوکا میتی اس امید کے ساتھ بالوں کے چھوٹے چھوٹے بنڈل میں کنگھی کر رہی ہیں کہ جلد ہی یہ کاروبار دوبارہ شروع ہو جائے گا۔