دارا شکوہ: شاہ جہاں کا لاڈلا ’مفکر، شاعر اور صوفی‘ ولی عہد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دلی
نوٹ: یہ تحریر بی بی سی اردو پر پہلی بار 22 جنوری 2020 کو شائع کی گئی تھی۔
مغلیہ سلطنت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک فارسی کہاوت عام ہوا کرتی تھی 'یا تخت یا تابوت'۔
اگر ہم مغلیہ تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے نہ صرف اپنے دو بھائیوں خسرو اور شہریار کی موت کا حکم دیا تھا، بلکہ سنہ 1628 میں تخت سنبھالنے کے بعد اپنے دو بھتیجوں اور چچا زاد بھائیوں کو بھی ہلاک کروا دیا تھا۔
یہ روایت شاہ جہاں کے بعد بھی برقرار رہی ان کے بیٹے اورنگزیب نے اپنے بڑے بھائی داراشکوہ کا سر قلم کروا کر ہندوستان کے تخت پر قبضہ کیا تھا۔
شاہ جہاں کے بڑے بیٹے داراشکوہ کی شخصیت کیسی تھی۔

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
میں نے یہی سوال حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب 'داراشکوہ ، دی مین ہو ووڈ بی کِنگ' کے مصنف ، ایوک چندا کے سامنے رکھا۔
اویک کا کہنا تھا داراشکوہ کی شخصیت انتہائی کثیر الجہتی اور پیچیدہ تھی۔ ایک طرف وہ ایک بہت ہی پرجوش انسان، ایک مفکر، باصلاحیت شاعر، سکالر، ایک اعلی درجے کے صوفی اور فنون لطیفہ کا علم رکھنے والے شہزادے تھے لیکن دوسری طرف انہیں انتظامیہ اور فوجی امور میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ فطرتآً نرم مزاج تھے اور لوگوں کی شناخت کے بارے میں ان کی سمجھ بہت محدود تھی۔
شاہ جہاں نے داراشکوہ کو فوجی کارروائیوں سے دوررکھا
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دارا شکوہ شاہ جہاں کو اتنے پیارے تھے کہ وہ اپنے ولی عہد کو فوجی کارروائیوں میں بھیجنے سے ہمیشہ ہچکچاتے رہتے تھے اور انھیں ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے دربار میں رکھا کرتے تھے۔
تاہم شاہ جہاں کو اورنگزیب کو فوجی مہمات پر بھیجنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی، حالانکہ اس وقت ان کی عمر محض سولہ سال ہی تھی جب اورنگزیب نے جنوب میں ایک بڑی فوجی مہم کی رہنمائی کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
اسی طرح مراد بخش کو گجرات بھیجا گیا اور شاہ شجاع کو بنگال کی طرف روانہ کیا گیا لیکن بادشاہ کا سب سے زیادہ پیارا بیٹا دارا شکوہ دربار میں ہی رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ داراشکوہ جنگ کا سامنا کر رہے تھے نہ ہی سیاست کا۔
وہ دارا شکوہ کو اپنا جانشین بنانے کے لیے اس حد تک تیار تھے کہ ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا اور انہیں 'شاہِ بلند اقبال' کا لقب دیا اور اعلان کیا کہ ان کے بعد وہ ہندوستان کے تخت پر بیٹھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
شہزادے کی شکل میں، داراشکوہ کو شاہی خزانے سے ایک سے دو لاکھ روپے کی رقم دی گئی جبکہ انھیں ایک ہزار روپے یومیہ الاؤنس بھی دیا جاتا تھا۔
ہاتھیوں کی لڑائی میں اورنگ زیب کی بہادری
28 مئی 1633 کو ایک بہت ہی ڈرامائی واقعہ رونما ہوا جس کا اثر کئی برسوں بعد ظاہر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہ جہاں کو ہاتھیوں کی لڑائی دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ دو ہاتھیوں سدھاکر اور سورت سندر کے درمیان لڑائی دیکھنے بالکونی سے نیچے آئے۔
جنگ میں سورت سندرہاتھی نے میدان چھوڑ کر بھاگنا شروع کیا اور سدھاکر غصے میں اس کے پیچھے دوڑا۔ تماشا دیکھنے والے لوگ گھبراہٹ میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
ہاتھی نے اورنگزیب پر حملہ کیا۔ گھوڑے پر سوار 14 سالہ اورنگ زیب نے اپنے گھوڑے کو بھاگنے سے روکا اور جب ہاتھی اس کے قریب آیا تو اس نے اپنا نیزہ اس کے ماتھے پر دے مارا۔
اسی دوران کچھ فوجی بھاگ کر وہاں پہنچ گئے اور شاہ جہاں کے گرد گھیرا بنا دیا۔ ہاتھی کوخوفزدہ کرنے کے لیے پٹاخے چھوڑے گئے تھے، لیکن ہاتھی نے اپنی سونڈ سے اورنگزیب کا گھوڑا گرا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اورنگزیب گرنے سے پہلے ہی اس پر کود پڑا اور ہاتھی سے لڑنے کے لیے اپنی تلوار نکالی۔ تب شہزادے شجاع پیچھے سے آئے اور ہاتھی پر حملہ کیا۔
ہاتھی نے ان کے گھوڑے کو اتنی زور سے مارا کہ شجاع بھی گھوڑے سے نیچے گر گیا۔ تب راجہ جسونت سنگھ اور وہاں موجود بہت سارے شاہی فوجی اپنے گھوڑوں پر وہاں پہنچ گئے۔ چاروں طرف شور مچانے کے بعد سدھاکر وہاں سے بھاگ گیا۔ اورنگزیب کو بعد میں شہنشاہ کے سامنے لایا گیا۔ اس نے اپنے بیٹے کو گلے لگا لیا۔
ایوک چندا کہتے ہیں کہ بعد میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں اورنگزیب کو بہادر کا لقب دیا گیا۔ انھیں سونے میں تولا گیا اور یہ سونا انھیں انعام میں ملا تھا۔
اس پورے واقعے کے دوران داراشکوہ وہیں موجود تھے لیکن انھوں نے ہاتھیوں پر قابو پانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
مورخ رعنا صفوی کا کہنا ہے کہ ’داراشکوہ جائے وقوع سے کچھ فاصلے پر تھا۔ وہ چاہتا تو بھی فورا وہاں نہیں پہنچ سکتا تھا سو یہ کہنا غلط ہو گا کہ وہ جان بوجھ کر پیچھے رہا جس سے اورنگزیب کو داد سمیٹنے کا موقع ملا۔`
مغل تاریخ کی سب سے مہنگی شادی
نادرہ بانو کے ساتھ دارا شکوہ کی شادی مغل تاریخ کی سب سے مہنگی شادی کہی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
پیٹر مینڈی نے جو اس وقت انگلینڈ سے ہندوستان کے دورے پر آئے تھے، اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ اس وقت اس شادی پر 32 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے، جن میں سے 16 لاکھ روپے داراشکوہ کی بڑی بہن جہاں آرا بیگم نے دیے تھے۔
ایوک چندا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا 'دارا سب کو پیارے تھے شہنشاہ کے بھی اور اپنی بڑی بہن جہاں آرا کو بھی عزیز تھے۔ اس وقت ان کی والدہ ممتاز محل کا انتقال ہو گیا تھا اور شاہ جہاں اپنی بیگم کی وفات کے بعد پہلی بار کسی تقریب میں شریک ہو رہے تھے۔
’یہ شادی یکم فروری 1633 کو ہوئی تھی اور دعوت آٹھ فروری تک جاری رہی، دن رات آتش بازی جاری رہی۔ کہا جاتا ہے کہ شادی کے دن پہنے گئے دلہن کے جوڑے کی قیمت ہی آٹھ لاکھ روپے تھی۔‘
دارا نے قندھار پر چڑھائی کی
دارا شکوہ کی عوامی شہرت ایک کمزور سپاہی اور نااہل منتظم کی سی تو تھی لیکن ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے کبھی بھی جنگ میں حصہ نہیں لیا۔

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
قندھار کی مہم میں وہ خود ہی اپنی پہل پر لڑنے گئے تھے لیکن انھیں وہاں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اویک چندا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا 'جب اورنگزیب قندھار سے ناکام ہو کر واپس آیا تو دارا شکوہ نے اپنے آپ کو اس مہم کی قیادت کے لیے پیش کیا اور شاہجہاں اس پر راضی ہو گئے۔
دارا 70 ہزار جوانوں کی فوج لے کر لاہور پہنچ گئے۔ انہوں نے 110 مسلمان اور 58 راجپوت جنگجو تیار کیے۔ اس فوج میں 230 ہاتھی، 6000 زمین کھودنے والے، 500 بہشتی اور بہت سے جادوگر اور ہر طرح کے مولانا اور سادھو شامل تھے۔
اپنے سپہ سالاروں سے مشورے لینے کے بجائے، دارا نے ان تانترکوں اور مولویوں سے مشورے کر کے حملے کے دن کا فیصلہ کیا۔ دارا نے ان لوگوں پر بہت زیادہ رقم خرچ کی۔
دوسری طرف افغان فوجیوں نے ایک بہت مضبوط دفاعی منصوبہ بنایا اور 'کافی عرصے تک محاصرہ کرنے کے بعد بھی دارا کو ناکامی ہوئی اور انھیں خالی ہاتھ دہلی لوٹنا پڑا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہ جہاں کی علالت کے بعد جانشینی کی جنگ میں اورنگ زیب بھاری پڑ گیا
اگر پاکستان کے ڈرامہ نگار شاہد ندیم کی بات کو تسلیم کیا جائے تو اورنگزیب کے ہاتھوں دارا کی شکست نے ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کا بیج بو دیا تھا۔
اس جنگ میں اورنگ زیب ایک بڑے ہاتھی پر سوار تھا۔ ان کے پیچھے تیر کمان سے لیس 15000 سوار تھے۔ اس کے دائیں طرف اس کا بیٹا سلطان محمد اور سوتیلے بھائی میر بابا تھے۔
سلطان محمد کے ساتھ نجاوت خان کا ایک دستہ تھا۔ اس کے علاوہ ، مزید 15000 فوجی مراد بخش کی کمان میں تھے۔ اورنگ زیب لمبے ہاتھی پر بھی بیٹھا تھا۔
اویک چند کہتے ہیں 'ابتدا میں دونوں افواج کے درمیان مقابلے کی ٹکر ہوئی لیکن پھر اورنگ زیب نے حقیقی قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
اس نے اپنے ہاتھی کی چاروں ٹانگوں کو زنجیروں سے باندھوا لیا تا کہ وہ آگے جا سکے اور نہ پیچھے پھر اس نے چیخ کر کہا ، ’مردانِ دلاوران بہادر! وقت مقرر' یعنی بہادرو اپنی جانبازی دکھانے کا وقت آ گیا۔ انھوں نے اپنے ہاتھ اوپر کی طرف اٹھائے اور اونچی آواز میں کہا ، 'یا خدا! یا خدا! میں ہارنے سے بہتر مرنے کو ترجیح دوں گا۔‘
دارا کو ہاتھی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا
اویک چند نے مزید کہا 'اس کے بعد خلیل اللہ خان نے دارا سے کہا کہ آپ جیت رہے ہیں۔ لیکن آپ لمبے ہاتھی پر کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ آپ خود کو کیوں خطرہ میں ڈال رہے ہیں؟ اگر ایک تیر بھی آپ کو چھو گیا تو کیا ہو گا آپ ہاتھی سے نیچے اتریں اور گھوڑے پر سوار ہو کر لڑائی کریں۔
’دارا ہاتھی سے اتر گئے اور جب ان کے فوجیوں نے ان کا ہاتھی خالی دیکھا تو افواہیں پھیلنے لگیں اور انھیں شک ہوا کہ کہیں دارا پکڑے تو نہیں گئے یا لڑائی میں ان کی موت تو نہیں ہو گئی۔ فوجی گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگے اور اسی دوران اورنگزیب کی فوج نے انھیں روند ڈالا۔‘

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
اطالوی مورخ نکولا منوچی نے اپنی کتاب 'اسٹوریہ ڈو موگور' میں اس لڑائی کو بہت عمدہ انداز میں بیان کیا ہے۔
منوچی لکھتے ہیں،'دارا کی فوج کے پاس پیشہ ور فوجی نہیں تھے۔ ان میں سے بہت سے یا تو نائی تھے یا قصاب یا عام مزدور تھے۔ دارا نے دھوئیں کے بادلوں کے بیچ اپنے گھوڑے کو آگے بڑھایا۔ بہادر دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہوئے ، اس نے حکم دیا کہ نقارے بجتے رہیں۔ اس نے دیکھا کہ دشمن ابھی کچھ فاصلے پر تھا اس کی طرف سے نہ تو کوئی حملہ ہوا ہے اور نہ ہی فائرنگ ہوئی ہے۔ دارا اپنے فوجیوں کے ساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔
’جونھی وہ اورنگزیب کے لشکر کے پاس آیا، اورنگزیب کی فوج نے توپوں اور اونٹوں پر سوار بندوقوں برداروں کی مدد سے ان پر حملہ کر دیا۔
دارا اور اس کے سپاہی اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھے۔ منوچی مزید لکھتے ہیں ’جب اورنگ زیب کی فوج کے گولوں نے دارا کے سپاہیوں کے سر اور دھڑ اڑانے شروع کیے تو دارا نے حکم دیا کہ اورنگ زیب کی توپوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ان کی توپوں کو بھی آگے لایا جائے لیکن یہ جان کر ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی کہ آگے بڑھنے کے چکر میں ان کے فوجیوں نے اپنی توپیں پیچھے چھوڑ دی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
چوروں کی طرح آگرہ کے قلعے تک پہنچے
مشہور مورخ جدوناتھ سرکار نے اورنگزیب کی سوانح عمری میں اس جنگ میں دارا کی شکست کو بھی بیان کیا ہے۔
سرکار لکھتے ہیں 'گھوڑے پر چار پانچ میل بھاگنے کے بعد دارا شکوہ تھوڑا سا آرام کرنے کے لیے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ اگرچہ اورنگزیب کے سپاہی اس کے پیچھے نہیں آ رہے تھے لیکن جب بھی دارا اپنی گردن پیچھے کی جانب موڑتے انہیں اورنگ زیب کے سپاہیوں کے ڈھول کی آوازیں سنائی دیتیں ۔
ایک وقت وہ اپنے سر پر پہنے خود کو کھولنا چاہتا تھا کیونکہ وہ اس کی پیشانی کی کھال کو کاٹ رہا تھا لیکن اس کے ہاتھ اتنے تھکے ہوئے تھے کہ وہ انھیں اپنے سر تک نہیں لے جا پا رہا تھا'۔
سرکار نے مزید لکھا ہے ’رات نو بجے کے قریب دارا کچھ گھڑسواروں کے ساتھ چوروں کی طرح قلعہ آگرہ کے مرکزی دروازے پر پہنچا۔ ان کے گھوڑے بری طرح تھک چکے تھے اور ان کے فوجیوں کے ہاتھوں میں مشعلیں نہیں تھیں۔ شہر میں اس طرح خاموشی چھائی ہوئی تھی جیسے کوئی ماتم ہو رہا ہو۔ ایک لفظ کہے بغیر دارا اپنے گھوڑے سے اتر کر اپنے گھر میں داخل ہوا اور دروازہ بند کر دیا۔
’دارا شکوہ مغل بادشاہت کی جنگ ہار چکے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک چھوٹے ہاتھی پر بٹھا کر دہلی کی سڑکوں پر گھما گیا
آگرہ سے فرار ہونے کے بعد دارا پہلے دہلی اور پھر پنجاب اور پھر افغانستان چلا گیا۔
وہاں ملک جیون نے انہیں دھوکے سے اورنگ زیب کے سرداروں کے حوالے کردیا۔ انہیں دلی لایا گیا تھا اور نہایت بے عزتی کے ساتھ دلی کی سڑکوں پر گھمایا گیا۔
دارا آگرہ اور دلی کے لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ دارا کو بے عزت کر کے دلی کی سڑکوں پر گھما کر اورنگ زیب یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ صرف لوگوں کی محبت کی وجہ سے ہندوستان کا بادشاہ بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔
فرانسیسی مورخ فرانسواں برنیئر نے اپنی کتاب 'ٹریولز ان مغل انڈیا' میں دارا کی اس عوامی تذلیل کو ایک انتہائی مایوس کن انداز میں بیان کیا۔
برنیئر لکھتے ہیں 'دارا ایک چھوٹے ہاتھی کی پشت پر بیٹھا تھا۔ اس کے پیچھے اس کا 14 سالہ بیٹا سپہر شکوہ ایک اور ہاتھی پر سوار تھا۔ اورنگ زیب کا غلام نذربیگ ننگی تلوار لے کر ان کے پیچھے چل رہا تھا۔ اسے حکم دیا گیا تھا کہ اگر دارا بھاگنے کی کوشش کرتا ہے یا کوئی اسے بچانے کی کوشش کرتا ہے تو فوری طور پر اس کا سر قلم کر دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کے سب سے امیر شاہی گھرانے کا وارث پھٹے ہوئے کپڑوں میں اپنی ہی عوام کے سامنے بے عزت ہو رہا تھا۔ اس کے سر پر ایک بدصورت سا صافہ بندھا ہوا تھا اور اس کی گردن میں نہ تو کوئی زیورات تھے اور نہ ہی کوئی جواہرات۔
برنیئر مزید لکھتے ہیں 'دارا کے پاؤں زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، لیکن اس کے ہاتھ آزاد تھے۔ اگست کی چلچلاتی دھوپ میں انھیں دلی کی سڑکوں پر چلایا گیا جہاں ان کا طوطی بولتا تھا۔ اس دوران انھوں نے ایک بار بھی اپنی نظریں نہیں اٹھائیں۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر دونوں طرف کھڑے لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں۔
ایک شال ایک بھکاری کی طرف پھینک دی گئی
ایوک چندا نے بتایا کہ ایک بھکاری بھاری آواز میں کہہ رہا تھا اے دارا ایک زمانے میں آپ اس زمین کے مالک ہوا کرتے تھے۔ جب آپ اس سڑک سے گزرتے تھے تو آپ مجھے کچھ دیتے تھے۔ آج آپ کے پاسں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یہ سن کر دارا نے اپنے کندھوں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور شال کھینچ کر بھکاری کی طرف پھینک دی۔ اس واقعے کے چشم دید گواہوں نے یہ کہانی شہنشاہ اورنگزیب کو سنائی۔
پریڈ ختم ہوئی تو دارا اور اس کے بیٹے سپہر کو خیر آباد کے جیلروں کے حوالے کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہDARA SHUKOH THE MAN WHO WOULD BE KING
سر قلم کیا گیا
اس کے ایک دن بعد اورنگزیب کی عدالت میں فیصلہ ہوا کہ دارا شکوہ کو سزائے موت دی جائے۔ ان پر توہینِ اسلام کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اورنگزیب نے 4000 گھڑ سواروں کو دہلی سے باہر جانے کا حکم دیا اور جان بوجھ کر یہ افواہیں پھیلائیں کہ دارا کو گوالیار کی ایک جیل میں لے جایا جا رہا ہے۔
اسی شام اورنگزیب نے نذر بیگ کو بلایا اور کہا کہ وہ دارا شکوہ کا کٹا ہوا سر دیکھنا چاہتا ہے۔
ایوک چند نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’نذر بیگ اور اس کے ملازم، مقبول ، محرم اور فتح بہادر خنجر لے کر خضرآباد کے محل میں گئے جہاں دارا اور اس کا بیٹا کھانے کے لیے اپنے ہاتھوں سے دال بنا رہے تھے ، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے کھانے میں زہر بھی ملایا جا سکتا ہے۔
’بیگ نے اعلان کیا کہ وہ دارا کے بیٹے کو لینے آیا ہے۔ سپہر رونے لگا اور دارا نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا مگر نذر بیگ اور اس کے ساتھی زبردستی سپہر کو دوسرے کمرے میں لے گئے۔
دارا کو اندازہ ہو چکا تھا کہ نذر بیگ کی آمد کا مقصد کیا ہے۔ ایوک چند کے مطابق 'دارا نے پہلے ہی اپنے تکیے میں ایک چھوٹی چھری چھپا رکھی تھی۔ انھوں نے چاقو نکال کر نذر بیگ کے ایک ساتھی پر بھرپور وار کیا لیکن ان لوگوں نے دارا کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور گھٹنوں کے بل بیٹھا کر ان کا سر زمین پر رکھا ساتھ ہی نذر بیگ نے اپنی تلوار سے دارا کے سر کو دھڑ سے جدا کر دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہf
اورنگزیب کے سامنے دارا شکوہ کا سر پیش کیا گیا
جب دارا شکوہ کا سر اورنگزیب کے سامنے لایا گیا تو اس وقت وہ اپنے قلعے کے باغ میں بیٹھا ہوا تھا۔ سر دیکھنے کے بعد اورنگزیب نے حکم دیا کہ اسے دھو کر اس کے سامنے ایک سینی میں رکھ کر پیش کیا جائے۔
ایوک چند نے وضاحت کی ہے اس موقع پر مشعلیں اور لالٹینیں لائی گئیں تاکہ اورنگزیب اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے کہ یہ سر اس کے بھائی کا ہے۔
اگلے دن یعنی 31 اگست 1659 کو اس نے حکم دیا کہ دارا کے سر سے جدا ہوا دھڑ ہاتھی پر رکھ دیا جائے اور ایک بار پھر اسے دہلی کے انھی راستوں پر گھمایا جائے جہاں دارا کو زندہ گھمایا گیا تھا۔
یہ دلخراش منظر دیکھ کر لوگوں حیران رہ گئے اور عورتیں گھر کے اندر جا کر رونے لگیں۔ دارا کے سر کٹے دھڑ کو ہمایوں کے مقبرے کے صحن میں دفنا دیا گیا۔
اورنگ زیب نے شاہ جہاں کا دل توڑا
اطالوی مورخ نکولا منوچی نے اپنی کتاب اسٹوریہ ڈو موگور میں لکھا ، اورنگزیب نے شاہ جہاں کو ایک خط بھیجا جس پر لکھا گیا تھا کہ اورنگزیب آپ کا بیٹا تحفے میں آپ کے لیے یہ طشتری بھیجتا ہے جسے دیکھنے کے بعد، آپ اسے کبھی بھی نہیں بھول پائیں گے۔
پھر شاجہاں کے سامنے ایک ڈھکی ہوئی طشتری پیش کی گئی۔ جب شاہ جہاں نے طشتری پر سے کپڑا اٹھایا تو اس کی چیخ نکل گئی کیونکہ اس میں ان کے لاڈلے بیٹے دارا کا کٹا ہوا سر تھا۔
منوچی مزید لکھتے ہیں اس منظر کو دیکھ کر وہاں موجود خواتین نے آہ و زاری اور ماتم شروع کر دیا اور اپنے زیورات نوچ ڈالے۔ اس واقعے کے بعد شاہ جہاں کی طبعیت اتنی بگڑی کہ انھیں وہاں سے منتقل ہونا پڑا۔
دارا کی باقی لاش کو ہمایوں کی مقبرے میں دفن کیا گیا تھا لیکن اورنگ زیب کے کہنے پر دارا کا سر تاج محل کے صحن میں دفن کر دیا گیا۔
اورنگزیب کا خیال تھا کہ جب بھی شاہجہاں کی نظریں اپنی بیگم کے مقبرے پر پڑیں گی تو ساتھ ہی انھیں یہ خیال بھی آئے کہ ان کے سب سے بڑے بیٹے کا سر بھی وہاں ہے۔












