آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شہریت کا متنازع قانون: انڈیا میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری، دلت لیڈر چندر شیکھر آزاد پولیس کی حراست سے بچنے کے لیے فرار
انڈیا میں شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات کو تین مظاہرین کی ہلاکت کے ردعمل میں جمعے کو مزید مظاہروں کی کال سامنے آنے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دلی میں پولیس نے کچھ دیر کے لیے دلت رہنما چندر شیکھر آزاد کو بھی حراست میں لیا، جنہوں نے پرانی دلی میں جامع مسجد سے جلوس نہ نکالنے کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔ تاہم بی بی سی ہندی کے دلنواز پاشا کے مطابق وہ پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے ہیں۔
پولیس پہلے ہی چندرشیکھر آزاد کی تلاش میں تھی، جب وہ ان سے بچتے ہوئے جمعے کی نماز کے بعد انڈیا کے آئین کی کاپی ہاتھ میں لیے ہوئے جامع مسجد کے سامنے پہنچ گئے اور حراست کی کوشش پر پھر سے فرار ہوگئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چندر شیکھر آزاد فی الحال لاپتہ ہیں۔ وہ پولیس کی طرف سے ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کے وقت ہونے والی ہاتھا پائی کے دوران موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ دلی پولیس نے جامع کے راستے اور قریبی علاقے میں میٹرو سٹیشن بند کر دیے تھے۔
احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے ہزاروں افراد پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔
جمعے کو دہلی میں جامعہ مسجد سے جنتر منتر تک ریلی نکالنے کی کال دی گئی ہے اور حکام نے احتجاج کے خدشے کے پیشِ نظر شہر میں چلنے والی میٹرو ٹرین کے متعدد سٹیشن بند کر دیے ہیں۔
حکومت نے ملک کے بیشتر شہروں خصوصاً دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج اور مظاہرے کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس پابندی کا نفاذ کرناٹک اور اترپردیش کی ریاستوں میں بھی کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی کے مظاہروں سے متاثرہ علاقوں کے قریب و جوار میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
انڈین حکومت کے منظور کردہ اس نئے متنازع شہریت کے قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم مہاجرین کو انڈیا کی شہریت دی جائے گی مگر مسلمانوں کو نہیں۔
ان قوانین کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون انڈیا کی سیکولر شبیہ کو نقصان پہنچائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت کے لیے مذہب کو بنیاد بنانا درست نہیں تاہم وزیراعظم نریندر مودی نے ان خدشات کو بےبنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حزبِ اختلاف اس قانون کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے۔
جمعرات کو ہونے والی ہلاکتوں میں سے دو ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور جبکہ ایک اترپردیش کے شہر لکھنؤ میں ہوئی۔
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بنگلور میں دو افراد پولیس کی فائرنگ سے مارے گئے۔ پولیس کمشنر پی ایس ہارشا نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جمعے کو شہر میں صورتحال قابو میں ہے، شہر میں کرفیو نافذ ہے اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔
پولیس کمشنر کے مطابق شہر میں 22 دسمبر کی رات تک کے لیے کرفیو لگایا گیا ہے اور بنگلور میں بی بی سی کے لیے کام کرنے والی صحافی عمران قریشی کے مطابق انٹرنیٹ سروس بھی 48 گھنٹے کے لیے معطل کی گئی ہے۔
احتجاج کے دوران تیسری ہلاکت لکھنؤ شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہوئی۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے متعدد بسیں بھی نذرِ آتش کیں۔
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں احتجاج کے بعد انٹرنیٹ سروس 45 گھنٹوں کے لیے معطل کی گئی ہے اور ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مظاہروں اور احتجاج پر عائد پابندی کی خلاف ورزی پر حراست میں لیے گئے ان افراد میں جنوبی شہر بنگلور کے ممتاز مؤرخ اور حکومت کے نقاد رام چندر گوہا اور دہلی سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن یوگیندرا یادیو بھی شامل ہیں۔
جبکہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے رام چندر گوہا کو حراست میں لینے کی مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے کہ ’حکومت طلبا سے خوفزدہ ہے، حکومت انڈیا کے معروف مؤرخ کے گاندھی جی کا پوسٹر ہاتھ میں اٹھائے میڈیا سے بات کرنے پر خوفزدہ ہے۔ میں رام گوہا کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کرتی ہوں۔ ہم تمام گرفتار کیے گئے افراد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘
سیاسی جماعت سوارج سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن یوگیندر یادیو نے پولیس حراست کے دوران ٹویٹ کرتے ہوئے عوام کو احتجاج جاری رکھنے اور دہلی کے علاقے جنتر منتر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ لوگ جو گرفتاری سے بچ گئے ہیں وہ جنتر منتر پہنچیں اور احتجاج جاری رکھیں۔ میں حراست سے آزاد ہوتے ہی سیدھا جنتر منتر آؤں گا۔‘
شہریت ترمیمی ایکٹ کے نام سے اس نئے قانون نے انڈیا میں عوامی رائے کو واضح طور پر منقسم کیا ہے۔
ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سربراہی میں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون لوگوں کو ظلم و ستم سے بچائے گا۔ لیکن حکومتی نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کے 20 کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے ’ہندو قوم پرست‘ ایجنڈے کا حصہ ہے۔
پولیس کے مظاہروں کو روکنے کے لیے انتظامات
انڈیا کی ریاست اترپردیش کے پولیس سربراہ او پی سنگھ نے لوگوں کو احتجاج سے دور رہنے کا کہا ہے۔ حکام نے ریاست میں نقصِ امن کے پیش نظر چار یا چار سے زائد افراد کے ایک جگہ اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ حکام کے مطابق یہ پابندی پرتشدد مظاہروں کی روک تھام کے لیے عائد کی گئی ہے۔
انڈیا کے شہر چنائی میں بھی پولیس نے کسی بھی قسم کے احتجاج، مظاہرے، ریلیوں اور مارچ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
پولیس نے دہلی اور جے پور شہر کو ملانے والی ایک مرکزی شاہراہ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور دارالحکومت میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔
جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور بہت سے مسافر اپنی پروازوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ جبکہ دہلی شہر میں بھی متعدد میٹرو سٹیشنز بند کر دیے گئے ہیں۔ پولیس نے متعدد علاقوں میں ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
پولیس نے نئے شہریت قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں والے علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرین کی ایک بڑی تعداد دہلی کے لال قلعے کے قریب جمع ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اترپردیش، بنگلور، حیدرآباد، پٹنا، چندی گڑھ، ممبئی، دہلی سمیت دیگر شہروں میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان پرامن مظاہروں میں شمولیت کے لیے سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں، طلبا، کارکن اور عام شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر لوگوں کو شامل ہونے کا کہا جا رہا ہے۔
انٹرنیٹ سروس کی معطلی
انڈیا بھر میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف جاری احتجاج اور مظاہروں کے بعد حکام نے متعدد شہروں میں انٹرنیٹ بند کرنے کا سہارا لیا ہے۔ انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ان علاقوں میں جہاں حکومت مخالف مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے حکومت نے موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔
اس کے علاوہ مغربی بنگال اور علی گڑھ کے چند علاقوں میں بھی موبائل انٹرنیٹ کو معطل کیا گیا ہے۔
انڈیا کی ٹیلی کام آپریٹر ووڈا فون اور ائیر ٹیل نے اس بارے میں اپنے صارفین کو اس متعلق آگاہ کرنے کے لیے ٹویٹ بھی کیا۔
یہ انڈیا میں انٹرنیٹ کی بندش کا ایک اور واقعہ تھا جس نے اس سال اب تک دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا ہے۔
انڈیا میں انٹرنیٹ کو معطل کرنے یا بندش کے واقعات پر نظر رکھنے والے پورٹل، انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن ٹریکر کے مطابق اس سال اب تک انڈیا میں انٹرنیٹ کو 93 مرتبہ بند کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب شوبز سے وابستہ افراد بھی اس نئے متنازع شہریت کے قانون کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس بارے میں بالی وڈ کی معروف اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی ٹویٹ کر کے پرامن احتجاج کے حق میں بات کی۔
انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’تمام بچوں کے لیے تعلیم ہمارا خواب ہے۔ تعلیم آزادانہ طور پر سوچنے میں مدد دیتی ہے۔ ایک کامیاب جمہوریت میں پرامن انداز میں آواز اٹھانا ضروری ہے اور اس آواز کے خلاف تشدد غلط ہے۔ ہر آواز کو شامل کرنا ضروری ہے اور ہر آواز انڈیا کو بدلنے میں اپنا ایک کردارادا کرے گی۔‘
اسی طرح اداکارہ شبانہ اعظمی نے بھی شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے حق میں ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے شوہر جاوید اختر کے شعر پڑھے۔