ورلڈ ٹوائلٹ ڈے: انڈین سینیٹری ورکرز کے شب و روز

سدھارک اولوے 20 برس سے ممبئی میں گٹر صاف کرنے اور غلاظت اٹھانے والے کارکنوں کی زندگیوں کو عکس بند کر رہے ہیں۔
برے حالات میں کیا جانے والا یہ کام شیڈول ذاتوں کے لیے مخصوص ہے۔
انڈیا میں ہونے والی اقتصادی، سماجی اور تکنیکی ترقی کے باوجود ان افراد کی زندگیوں میں کوئی واضح تبدیلی نہیں آئی ہے۔
2019 کے ورلڈ ٹوائلٹ ڈے کے موقع پر اولوے نے واٹر ایڈ کے لیے ان سینیٹری ورکرز کی تصاویر کھینچیں۔

والمیکی برادری سے تعلق رکھنے والے سینیٹری ورکرز مدھیہ پردیش کے علاقے امن گنج کے بیت الخلاؤں سے انسانی فضلہ اور غلاظت صاف کرتے ہیں۔

بیتی بائی والمیکی کا کہنا ہے ’ہمیں یہاں کسی ریستوران سے چائے پینے کی اجازت نہیں۔‘
’اگر ہم کسی چھوٹے سے ڈھابے پر بھی جائیں تو ہمیں پلاسٹک کے ایک بار استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے کپوں میں چائے دی جاتی ہے۔‘
ان سینیٹری ورکرز میں شامل زیادہ تر خواتین دمے اور ملیریا کا شکار ہو چکی ہیں لیکن انھیں کوئی طبی سہولیات میسر نہیں اور بیماری کی وجہ سے چھٹی کرنے پر ان کی تنخواہ بھی کاٹ لی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مکیش دیوی 42 برس کی ہیں۔ اترپردیش کے شہر میرٹھ میں بھگوت پورہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کا ایک بڑا خاندان ہے اور وہ ماہانہ دو ہزار روپے ہی کما پاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہمارے پاس کرنے کو اور کوئی کام نہیں۔ اگر ہم کوئی دکان بھی کھول لیں تو کوئی ہم سے کچھ نہیں خریدے گا کیونکہ ہم والمیکی ہیں۔‘

سنتوش امن گنج میں اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ساتھ یہ کام کرتے ہیں۔
سنہ 1992 میں وہ اپنے ساتھیوں سمیت ایک سیپٹک ٹینک میں ڈوبتے ڈوبتے بچے تاہم اس واقعے میں ان کے ایک ساتھی کی جان چلی گئی۔
وہ ٹینک اس سے کہیں گہرا تھا جتنا کہ بتایا گیا تھا۔
اس واقعے میں ان کی بینائی ہمیشہ کے لیے متاثر ہوئی لیکن انھیں کوئی زرِ تلافی نہیں ملا۔

آگرہ محلہ میں پنّا گیتا مٹو، ساشی والمیک اور راجو دمڑ روزانہ صبح پانچ بجے سے دوپہر ایک بجے تک سات ہزار روپے ماہانہ کمانے کے لیے کام کرتے ہیں۔

گیتا کا کہنا ہے ’ہمارے لیے احترام نہ ہونے کے برابر ہے۔
ہم سے بہت برا سلوک کیا جاتا ہے اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘

گذشتہ برس اپریل میں بہار میں تھلائی نامی گاؤں کے باہر دوم برادری کی جھگیوں میں آگ لگی جس سے دس جھونپڑیاں اور ان کے زیادہ تر مویشی جل گئے۔
وہ قریبی شہر سسرام میں کام کرتے ہیں لیکن شناختی کاغذات جل جانے کی وجہ سے نہ تو انھیں سرکاری مدد ملی اور نہ کوئی زرِ تلافی۔

58 سالہ مینادیوی رہتاس میں ایک مسلم اکثریتی علاقے سے فضلہ اور غلاظت اٹھاتی ہیں۔ انھوں نے 25 برس قبل اپنی ساس کے ہمراہ یہ کام شروع کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے ’شروع میں مجھے متلی محسوس ہوتی تھی۔ میں تیار نہیں تھیں اور اس کام سے جڑے برے ردعمل کی وجہ سے شرمندگی محسوس کرتی تھی۔
میں اب بدبو کی عادی ہو چکی ہوں کیونکہ غربت آپ کو انتخاب کا کوئی موقع نہیں دیتی۔‘

’میری ساس یہی کام کرتے کرتے مر گئیں۔ وہ سیوریج کو ٹین کے ڈبوں میں لے جایا کرتی تھیں۔ میں نے بھی یہی کیا۔ اب ہم ٹین کے ڈبے استعمال نہیں کرتے لیکن ہمارے نصیب میں یہی لکھا ہے۔‘
تمام تصاویر کے جملہ حقوق سدھارک اولوے اور واٹر ایڈ کے نام محفوظ ہیں۔









