’خاکروب کو پہلے نہلایا جائے پھر علاج ہو گا‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر عمرکوٹ میں تین ڈاکٹروں پر قتل خطا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک مسیحی نوجوان کے علاج میں غفلت برتی تھی۔
ورثاء کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کیونکہ ان کا روزہ ہے اس لیے پہلے مریض کو نہلایا جائے پھر علاج ہوگا۔
عمرکوٹ تھانے میں نظیر مسیح کی مدعیت میں تحصیل ہسپتال عمرکوٹ کے ایم ایس ڈاکٹر جام کنبھار، آر ایم او ڈاکٹر یوسف اور ڈیوٹی ڈاکٹر اللہ داد راٹھوڑ کے علاوہ تین میونسپل ملازمین پر یہ مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد پولیس نے ڈاکٹر جام کنبھار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
35سالہ سینیٹری سپروائیزرعرفان مسیح کے بھائی پرویز مسیح نے بی بی سی کو بتایا کہ گندے نالے میں صفائی کے غرض سے اترنے کے بعد ان کے بھائی زہریلی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے اور جب انھیں علاج کے لیے ہسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے ان پر لگی گندگی کی وجہ سے علاج کرنے سے انکار کر دیا۔
پرویز مسیح نے کہا کہ'جب ہم ہسپتال پہنچے تو سب سے پہلے ڈاکٹر یوسف آئے جنھوں نے وارڈ بوائے کو کہا کہ یہ کیچڑ میں بھرا ہوا ہے، اس کو نہلا کر صاف کراؤ میں، روزے میں ہوں، میرے کپڑے خراب ہو جائیں گے۔' پرویز مسیح کے مطابق اس کے بعد دو اور ڈاکٹرز، اللہ داد اور ڈاکٹر جام کنبھار آئے لیکن ان دونوں نے بھی طبی امداد نہیں فراہم کی۔
پرویز مسیح نے کہا کہ ’آخر میں ڈاکٹر حنیف آریسر پہنچے اور اس نے کیچڑ میں لت پت میرے بھائی کو چیک کیا اور بتایا کہ اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پرویز مسیح نے بی بی سی سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یکم جون کی صبح عرفان اور ان کے دو اور ساتھی میونسپل دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ان کے افسران نے ان کو چھور روڈ پر واقع گٹر لائن کی صفائی کرنے کے حکم دیا۔
پرویز مسیح کے مطابق ان کے بھائی اور دیگر نے افسران کو بتایا کہ چار ماہ سے لائن بند ہے اور اس میں جانا خطرے سے خالی نہیں ہے کہ وہ دباؤ میں آ گئے اور لائن کھولنے چلے گئے۔
پرویز مسیح نے کہا کہ ان کے بھائی کے ساتھی پہلے گٹر لائن میں اترا لیکن گیس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گیا جسے بچانے کے لیے ان کا بھائی نیچے گیا مگر وہ بھی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا۔
مقامی لوگوں کے مطابق گندے پانی کی نکاسی کے لیے بنائی گئی اسی لائن میں تین سال قبل بھی دو خاکروب، نواز مسیح اور کرشن صفائی کے دوران ہلاک ہو گئے تھے جس کی وجہ سے پہلے ہی لوگوں میں ڈر موجود تھا۔
پرویز مسیح نے کہا کہ وہ اپنی تسلی کے لیے مردہ بھائی کو مقامی نجی ہپستالوں میں بھی لے گئے لیکن انہوں نے بھی تصدیق کی کہ موت ہو چکی ہے۔
پرویز مسیح نے عمرکوٹ ہسپتال کا آکسیجن سلینڈر اپنے ساتھ رکھ لیا ہے تاکہ ثبوت موجود رہے۔ ان کے مطابق اس سلینڈر میں آکسیجن گیس ہی موجود نہیں تھی۔ دیگر دو مریضوں کو عمر کوٹ سے حیدر آباد اور وہاں سے کراچی کے ہسپتال بھیجا گیا ہے۔
مسیح برادری نے اس واقعہ کے بعد دو گھنٹے تک احتجاج بھی کیا اور بعد میں لاش سمیت گھر کو روانہ ہو گئے۔
پرویز مسیح کے مطابق اسمبلی ممبران تو دور کی بعد میونسپل کمیٹی کا چیئرمین تک بھی نہیں آیا۔








